محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ بعدازکام
اس شہر میں کوئی کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتاتھا۔ کچھ کام ہوتاتو مل کرکام کرلیاجاتا۔ بیکار وقت گزاری کے لئے کسی کے پاس بھی وقت نہیں تھا۔ اس لئے وہ لوگ سمجھتے تھے کہ حکومتی فیصلوں اور اس کے ظلم کے خلاف احتجاج کرنا دراصل بیکار اور اوباش لوگوں کاکام ہے۔ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔ حکومت جوبھی فیصلہ کرے گی ،اس فیصلے سے نہ ہمیں اتفاق ہے نہ اختلاف ۔ ہم کام سے بندھے ہیں اور کام کے لئے ملیں گے۔ بعدازکام جدا ہوجائیں گے۔ یہ انسانی روبوٹ سناہے کہ بڑے شہروں کی دین ہیں۔ اور ان کی تعداد آئے دن بڑھتی چلی جارہی ہے۔
۲۔ رقم پسند تبادلے
ٹیچرس کے تبادلے تھے۔ سبھی کو اپنی اپنی پسند کے اسکولس مل گئے۔ بیچاری فرحینہ عثمان ، بیچارا عبدل اور پانسات دیگر اساتذہ کا 80-80کیلومیٹر دور تبادلہ کردیاگیا۔ ساتھی اساتذہ نے برہمی سے کہا’’پیسہ بچانے کااچھاطریقہ نکالا ہے ان لوگوں نے ، افسران نے جو رقم مانگی تھی وہ اگر دے دیتے تو وہیں رہتے جہاں پہلے تھے۔ اس قدر دورڈیوٹی نبھانے جانانہ پڑتا‘‘
۳۔ کھیلا
بری بات نہیں کہی گئی تھی لیکن کہہ دیاگیاکہ بری بات کہی گئی، پھر تو سبھی مخالف ہوگئے۔ تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اوربائیکاٹ کرتے ہوئے اپنا ایک اور واٹس ایپ گروپ بنالیاگیا۔ بیچارے صحافی ہوتے ہوئے بھی اُن کو پتہ نہ چل سکاکہ ان کے خلاف کیا کھیلا ہواہے ؟
۴۔ بھرشٹاچارکاطریقہ
بھنی ہوئی سونف کھاکر اس نے سمجھ لیاتھاکہ سب کچھ ہضم ہوجائے گامگر ایسا نہ ہوسکا۔اس پر ای ڈی کا دھاوا پڑکررہا۔ مگر وہ بھی ہوشیار تھا۔ 2ہزا رکروڑمیں سے صرف 35؍کروڑ افسران کو اداکرنے پڑے۔معاملہ ٹھنڈا ہوگیا۔
۵۔ فیملی لائف
تمام بچے گھر میں تھے ۔ کوئی اسکول نہیں جاسکابلکہ اہلیہ نے بچوں کواسکول جانے سے منع کردیاتھا۔ کیوں کہ نانی اورنانا صبح آنے والے تھے۔ اہلیہ کی خواہش تھی کہ میرے والدین گھر آئیں تو میرے بچے ان کے سامنے ہوں ۔اس لئے کہ میرے والدین دوسال بعد میرے گھر آرہے ہیں۔
شوہر نامدار کو پہلے تو یہ بات ناگوار گزری ۔ پھر خاموش ہوگئے۔انھوں نے خود بھی ملازمت سے چھٹی لے لی تھی۔ تمام بچوں کوگھر میں سارادن اودھم مچاتے اور نانا نانی کے اردگردرہ کر ان کا لاڈ وپیاروصول کرتے دیکھ کر شوہر کو بھی مسرت ہی ہوئی۔ان کے منہ سے نکلا ’’بہتر فیصلہ ، فیملی لائف زندہ باد ‘‘
ؐ۶۔ کھوئی متاع
سب کچھ ختم ہونے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہواتھا۔ اُٹھ کھڑا ہونے کا وہ سابقہ جذبہ آج ڈھونڈ رہاہے لیکن اس کواپنے اندر کہیں وہ جذبہ مل نہیں رہاہے۔
