محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ عمر ِ بے فیض 
52سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ اندرسے پوری طرح مرچکاتھا۔ 55سال کی عمر میں اس کاخیال تھاکہ وہ 3سال زیادہ جی گیاہے لیکن ایک شکایت بھی تھی۔
وہ کیاشکایت ہے؟اس کے ہم عمر دوستوں نے پوچھاتو اس نے بتایاکہ یار تین سال سے بڑی بے عزتیوں سے گزر رہاہوں، جیساکہ میراوجود خود میرے بیوی بچوں کے لئے بوجھ ہو ۔سوچ رہاہوں کہ اس بے عزتی سے تو موت اچھی ۔ دوستوں نے ہنس کر اس کی بات کو ٹال دِیا۔ اُن کاخیال تھاکہ تمام دوست  25-30سال سے پہلے مرنہیں سکتے۔
ایک ہفتہ کے اندر اندر خبرآئی کہ وہ دنیا سے واقعی جاچکاہے۔
۲۔ غیرضروری چیز
  نظریہ نہیں بدلاتھا۔ضرورت آن پڑی تھی۔ لہٰذا سبھی افراد مسلمانوں کی چاپلوسی میں لگے ہوئے تھے۔ ہمارے باس کوغصہ تو بہت آیاتھا لیکن ہم سب نے سمجھادیاکہ کل ضرورت دوسرے کی پڑتی ہے ، اسلئے یہ سب ہوتارہتاہے ۔آپ کسی کی ضرورت پر روک کیوں کر لگائیں گے ؟ اورغصہ سے کچھ ہوگانہیں ۔ ہماراہی نقصان ہوگا۔
باس کو سمجھابجھادیاگیالیکن باس کاغصہ اب میرے اندر نفوذ پاچکاہے۔ مجھے کون سمجھائے گاکہ کل میری ضرورت کس کو پڑے گی ؟غیر ضروری چیز کی طرح معاشرے میں آج جی رہاہوں ۔
۳۔ رب پڑھاتا ہے 
بیگم ملیحہ خان رندھے ہوئے گلے سے کہہ رہی تھیں’’ بارش کے باوجود چھتری لے کرعلم کے حصول کے لئے چھوٹے چھوٹے قدموں سے آج صبح میرابچہ  اسکول چلاگیا‘‘ بیگم ملیحہ خان کی بات سن کرحکیم روشن خانزادے نے بڑی ہی محبت سے گویا بیگم کو سمجھایا’’جاناں، ہم نہیں پڑھاتے ۔۔۔۔۔۔دراصل رب خود پڑھاتاہے بچوں کو،۔۔۔۔۔۔ والدین کاتوصرف لیبل ہوتاہے لیبل‘‘
بیگم ملیحہ خان اثبات میں سرہلاتے ہوئے سوچ رہی تھیں کہ حکیم صاحب ہربات رب سے جوڑ دیتے ہیں۔ خدائے واحد پر ان کاکانفیڈنس مجھے متاثر کرتاہے اورساری عمر متاثر کرتارہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے