سہارنپور( احمد رضا): اللہ تعالیٰ نے ہمکو اس دینا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے اسلئے لازم ہے کہ ہم اشرف ہونے کا نمونہ بن کر دکھائیں اپنے لین دین اور روز مرہ کے معمولات اور معاملات دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہی گزاریں من مرضی سے کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کو دین اسلام نے سخت منع فرمایا ہے اکثر نظر میں آیا ہے کہ ہم معمولی سے فائدے کے لئے  کبھی کبھی ایسا سلوک گرا ہک کے ساتھ کر دیتے ہیں کہ جسکا  گرا ہک کو افسوس ہوتا ہے اور یہ افسوس ہی گناہ کا سبب بن جاتا ہے اسلئے لازم ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جو کچھ بھی معاملات کریں ان میں ایمانداری اور شفافیت کی جھلک دکھائی دینی چاہئے تبھی ہم اشرف ہونے پر مسرت حاصل کر سکتے ہیں! عالم دین مفتی ناصر ایوب ندوی اپنا ایک ذاتی واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ گزشتہ روز سہارنپور قیام کے دوران ایک معذور شخص سے ان کی ہمدردی میں  میرے ذریعہ خریدے گئے کیلوں کے پیسے دینے کے لئے میں نے جب جیب میں ہاتھ ڈالا تو دیکھا کہ پرس قیام گاہ پر ہی بھول آیا بہت افسوس ہوا میں نے جن صاحب سے کیلے خریدے تھے ان صاحب کے پاس آن لائن رقم ٹرانسفر کا نظم نہیں تھا خیر میں  نے برابر میں واقع ایک دوکاندار سے کہا کہ بھائی آپ کے نمبر پر سو روپئے بھیج دیتا ہوں آپ مجھے نقد سو روپیہ دید یں مجھے کیلے والے کو  پیسہ دینا ہے ” اس پر دکاندار کا جواب سننے کے لائق تھا کہ آپ میرے نمبر پر سو روپئے نہیں بلکہ ایک سو بیس رو پیہ ڈالئے میں نے کہا ایسا کیوں دکاندار بولے کہ سو رو پیہ  کے ساتھ 20 روپیہ ہماری فیس ہے جو لین دین ہوا ہے اس کے لئے ” میں نے کہا بہت خوب اس بات کا علم جب اس کیلے بیچنے والے معذور بھائی کو ہوا تو انہوں نے کہا آپ کیلے لے جاؤ اور پیسے بعد میں آجائیں گے میرے تعجب کی انتہا نہ رہی کہ جس کے پاس دولت کے ڈھیر ہیں وہ کس قدر کنجوسی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور یہ معذور اور ضرورت مند شخص  اپنی  دریا دلی کا مظاہرہ کررہے ہیں جبکہ ان کے پاس باقاعدہ کوئی دکان وغیرہ یا ٹھکانہ نہیں بلکہ اس رکشہ نما سواری پر چل پھر کر اپنی روزی روٹی کا بندوست کرتے ہیں ان سے کیلے لے کر اور بوجھل قدموں کے ساتھ اپنی قیام گاہ پر آگیا جو ذرا فاصلے پر ہے،اس کے بعد سے مسلسل ان کو یاد کرتا رہا مگر کمال کی بات ہے کہ اس معاملہ سے قبل باہر آتے جاتے یہ نظر آتے رہتے تھے اور اس کے بعد گویا یہ گم سے ہوگئے مجھے بڑی فکر لاحق ہوئی چنانچہ میں نے تحریری طور پر  اپنی یادداشت میں لکھا کہ اس اس طرح کے شخص کو کیلے کے 60 روپئے دینے ہیں، اللہ اکبر یہ لکھنے کے چند دن بعد اچانک ان سے ملاقات ہوگئ اور انہوں نے کوئی گلا شکوہ کئے بنا اپنے پیسے وصول کر خوشی کا اظہار کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے میں نے یہ فوٹو ان کی اجازت سے لیا اور ان کو اشارہ کیا تھا کہ آپ کے فوٹو کو شئیر کروں گا اور لوگوں کو توجہ دلاؤں گا کہ سامان ان سے اور ان جیسے لوگوں سے خریدیں اس پر وہ مسکرائے اور اجازت دے کر چلے گئے اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ایسے مخلص اور ایماندار بندوں کو اور ان کی معذوری کو دور کرے اور ایسے حسن اخلاق اور سلوک والے افراد کے کاروبار میں خوب برکت عطاء فرمائے ! آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے