یقین تب ہوا ہمیں کہ آستیں میں سانپ ہے، ہر ایک بات راز کی ادھر سے جب اُدھر گئی
سہارنپور( احمد رضا): گزشتہ شب ادبی ادارہ اردو مرکز سہارن پور کے زیر اہتمام راؤ منزل ورد ھ مان کالونی شہر سہارنپور میں مفکر و مدبر و شعرا و صحافی، پروفیسر اور اساتذہ حضرات کی ایک خوبصورت محفلِ شعرو سخن منعقد کی گئی آج کی اس شاندار اور پر وقار ادبی محفل کی صدارت مشہور شاعر اور ا سکالر ڈاکٹر جمیل مانوی نے فرمائی پروگرام کے اغاز میں پروگرام کے مہمان خصوصی حاجی محمود سامانی نے کہا اس طرح کی محفلیں اردو کی ترقی اور بقا کے لیے نہایت ضروری ہیں ہم لوگوں کو چاہیے کہ اگر ہم اردو کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو اس طرح کی محفلوں کا انعقاد وقتا فوقتا کرتے رہے جس سے نئی نسل تک اردو زبان اور اردو رسم الخط سے آشنائی ہو سکے۔
پروگرام کے دوسرے مہمان خصوصی ڈاکٹر رئیس کمال نے کہا کہ سرزمین سہارنپور مذہبی اور ادبی لحاظ سے نہایت زرخیز زمین ہے اس سرزمین نے نہ جانے کتنے علمائے کرام اور بزرگان دین کو جنم دیا ساتھ ہی اردو شاعری کے تعلق سے یہاں نہ جانے کتنے شعرا ایسے گزرے ہیں جو اردو ادب میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ہم تمام کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام بزرگ شعرا کا تعارف نئی نسل سے کرایا جائے ان کے کلام کو ترتیب دیا جائے اور ان کے کلام کو نئی نسل تک پہنچایا جائے اج ڈیجیٹل دور ہے کمپیوٹر کا دور ہے ان کے کلام کو فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے ہر خاص و عام تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے پروگرام میں ادبی ادارہ اردو مرکز سہارنپور کے جنرل سیکرٹری ہارون صابر فریدی نے کہا کہ ادبی ادارہ اردو مرکز سہارنپور گزشتہ 50 سال سے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے اردو مرکز وقتا فوقتا خوبصورت محفلیں اور سیمینار کا انعقاد کرتا رہا ہے گزشتہ نصف صدی میں اردو مرکز سہارنپور نے شعراء و ادباء کے کلام کو دو مرتبہ یکجا کیا اور منظر عام پر لانے کا شرف حاصل کیا 1970 میں نقوش جاوید اور 1995 میں ابشار کی شکل میں یہ دو مجموعے منظر عام پر ا کر شرف قبول حاصل کر چکے ہیں جو ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں اب ہم بہت جلد اپنا تیسرا مجموعہ کلام جس کا نام شہر سخن ہوگا اس میں تمام شعرا و ادبا کی شمولیت کو یقینی بنایا جائیگا۔

اس موقع پر پروگرام کنوینر ڈاکٹر راؤ اصغر نے تمام مہمانانِ کرام کی گل پوشی کر تے ہوئے شاندار استقبالیہ پیش کیا نیز اپنے بھائی مرحوم انور خان عنبر کا کلام بھی حاضرین کے لئے سنایا اور داد حاصل کی پروگرام کی شمع پروفیسر جلال عمر نے روشن کی ساتھ ہی اپنے قیمتی خیالات کا اظہار بھی کیا اور جوش ملیح آبادی کی کئی رباعیات بھی سنائی پروگرام کے نظامت اردو مرکز سہارنپور کے نائب سیکرٹری خرّم سلطان نے انجام دیے پروگرام کا اغاز صاحب دیوان شاعر فیاض ندیم کی نعت پاک سے کیا گیا پروگرام ٹھیک 10 بجے شروع ہو کر شب دو بجے نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جن شعرا کے کلام کو زیادہ پسند کیا گیا ان کا ایک ایک شعر اخبار کے باذوق قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت پڑھی تو مل گئے لمحے نعیم کے
نزدیک ہو گیا ہوں رسولِ کریم کے
فیاض ندیم
جس نے ایوانِ تمدن میں جلائے تھے چر اغ
اب اسی قوم کو حیرت سے زمیں دیکھتی ہے
ڈاکٹر جمیل مانوی
تیر نہ واقف نہ چھوڑا ہے غلط انداز سے
رخ اگر بدلہ ہوا کا خود ہی مارا جائے گا
ہارون صابر فریدی
ہے ابھی گرمِ اذاں شاید کوئی دل میں میرے
کیا ہوا یا رب حرم سے لوٹ کر آنے کے بعد
سکندر حیات
یقین تب ہوا ہمیں کہ آستیں میں سانپ ہے
ہر ایک بات راز کی ادھر سے جب اُدھر گئی
خرّم سلطان
کوئ چراغ نہ روشن کیا کبھی جس نے
اسے چراغ بجھانے کا حق دیا کس ن دانش کمال
نیکیاں پاؤ گے اپنے دل کے اندر ایک طرف
دیکھ لو خود کو گناہوں سے ہٹا کر اک طرف
آصف شمسی
راستے پُرخطر ہوگئے راہزن راہبر ہوگئے
انقلابِ جہاں دیکھئے ذرّے شمش وقمر ہوگئے
ڈاکٹر رئیس کمال
میں فرشتہ صفت نہیں روشؔن
عیب اگر آدمی میں ہے تو ہے
مستقیم روش٘ن
جب ان کے جگنو چمکتے ہی پڑ گئے مدھم
میرے چراغ سے وہ ہاتھاپائی کرنے لگے
شرر اکملی
عمر بھر ساتھ نبھانے کی سزا دی اس نے
کتنی آسانی سے ہر بات بھلا دی اس نے
اسلم محسن
تمام عمر گزاری خطائیں کرتے ہوئے
حیا سی اتی ہے اب تو دعائیں کرتے ہوئے
فیاض ندیم
مدت کے بعد ملنے کا موقع ملا مگر
تم نے تو یہ بھی شام شکایت میں کاٹ دی
عدیل تابش
کبھی تھے زر فشاں جو ہاتھ جانے کیا ہوا قسمت
سڑک پر اج وہ اپنی ضرورت لے کے پھرتے ہیں
سید راشد
ان کے علاوہ جنید سہارنپور۔ مومن سہارنپوری۔امجد سہارنپوری۔وغیرہ کے کلام کو بھی پسند کیا گیا اس موقع پر محمد صارم محمد معازن محمد کیفی ڈاکٹر لیاقت ایڈوکیٹ سیّد ساجد علی وغیرہ معززین موجود تھے پروگرام کے اختتام پر انجم ناز کی جانب سے مہمانوں کے بہترین ضیافت کی گئی!
