’’پریم چند یوم‘‘ کے اجلاس سے ڈاکٹر ایم جی گھوڑے سوار، ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی اور ڈاکٹر ایس جے جاگیردار کا خطاب
بیدر۔ 31؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): انجمن ڈگری کالج بیجاپور شعبۂ اُردو اور ہندی کے زیر اہتمام ’’یوم پریم چند‘‘ کا کامیاب انعقاد عمل آیا ۔ڈاکٹر ایم جی گھوڑے سوار پرنسپل انجمن ڈگری کالج بیجاپور نے اپنے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریم چند کی کہانیوں کے کردار اکثر معاشرے کے ستائے ہوئے عام لوگ ہیں۔ انھوں نے ان ستائے ہوئے اور کچلے ہوئے مظلوم لوگوں خصوصاً دیہاتوں میں جاگیرداروں اور مہاجنوں کے ظلم کے مارے ہوئے لوگوں کو زبان دی ہے۔ ان کے اندر آزادی کی تڑپ اور جدوجہد کا جذبہ پیدا کیا اور ایک نئی دنیا تعمیر کی اور طبقات سے آزاد معاشرے کا وجود ان کا بنیادی نظریہ تھا۔ وہ مثالیت اور حقیقت کے امتزاج سے اپنی افسانوی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔ اُنھوں نے ایسے کردار بھی ڈھالے ہیں جو فوق البشر طاقت کے ساتھ زندگی کی ساری راحتوں پر لات مارکر کسانوں اور مظلوموں کے دکھ درد میں شریک ہوجاتے ہیں۔
ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی صدر شعبہ ء اردو انجمن ڈگری کالج بیجاپور نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ جد و جہد آزادی کا جذبہ پریم چند نے ناول اور افسانہ دونوں اصناف کے ذریعے عام کیا۔ جہاں تک افسانوں کی بات ہے تو پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ جذبہ آزادی سے سرشار تھا۔ اس کے علاوہ پریم چند نے’’کفن‘‘ میں اس بات کو بطور خاص اجاگر کیا ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتوں کی اگر تکمیل نہیں ہوتی ہے تو اس میں بے حسی کا عنصر غالب آجاتا ہے۔بے غیرتی بڑھ جاتی ہے۔ اندر کا انسان مرنے لگتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ انسانی قدروں کے احساس سے بے بہرہ ہو جاتا ہے۔ اسے انسانی رشتوں کا پاس و لحاظ نہیں رہتا۔ اسے دم توڑتے ہوئے انسان کو دیکھ کر دکھ اور تکلیف نہیں ہوتی۔ کفن کو بھوک اور ناداری سے زیادہ انسانی سفاکی اور جبلتوں کی غلامی کا افسانہ کہا جاسکتا ہے جو انتہائی مفلسی کی حالت میں پیدا ہوتا ہے۔اس افسانے میں رشتوں کی شکست و ریخت کے ساتھ اذیت ناک خود غرضی کو پیش کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ایس جے جاگیردار IQAC Coordinator نے کہا کہ یہ ایک فطری عمل ہے کہ ہر ادیب اور فن کار جس ماحول اور حالات میں پیدا ہوتا ہے، پروان چڑھتا ہے، زندگی کی منزلیں طئے کرتا ہے۔ اس ماحول اور ان حالات کی پوری بوباس اس کے رگ و ریشے میں موجود رہتی ہے، اسے اپنے ماحول او ر معاشرے کی صحت مند روایات سے بے حد محبت ہوتی ہے، اور یہی جذباتی تعلق اس کی تخلیقات میں بھی منعکس ہوتا رہتا ہے۔ پریم چند کے ناولوں اور افسانوں میں یہ خوبی نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ انھوں نے زیادہ تر اپنے افسانوں اور ناولوں میں دیہی معاشرے کی خوبصورت منظرکشی کی ہے۔ پروفیسر ایم اے پیراں صدر ہندی شعبہ نے اظہار ِخیال کرتے ہوئے کہا کہ پریم چند نے زیادہ تر افسانوں میں انسان کی داخلی پیچیدگیوں اور واقعے کی فلسفیانہ تعبیروں کو موضوع بنایا ہے۔ اس اجلاس کی نظامت پروفیسر محسنہ جاگیردار نے کیا ۔پروفیسر اسجد صدیقی کے شکریہ پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔ اس بات کی اطلاع کالج کے ذرائع نے پریس نوٹ کے ذریعہ دی ہے۔
