محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ بڑی شہادت
دنیابھر کے چینل اور دنیابھر کاسوشیل میڈیا چیخ رہا تھا کہ بہت بڑی خبر آئی ہے ۔خبر یہ ہے کہ’’ ظالم اورقابض حکومت نے مظلوموں کے سربراہ کاقتل کردیا‘‘ساری دنیامیں کہرام مچاہواتھا۔ پوری دنیا کے ممالک اپنے حساس معاملات اور عوامی مفادات کی حفاظت کیلئے پل پل خبر لینے اور رکھنے میں مستعدی کامظاہرہ کررہے تھے۔
اسی کے ساتھ مولانا جمیل الرحمن شہداوی اپنے دینی دفتر کے صوفے پر بیٹھے ہوئے باربار کہہ رہے تھے ’’بڑی خبر ہے ۔واللہ، بہت بڑی خبر ہے ۔ اس کے بعد طوفان ِنوح آئے گااورپھر طوفان بیٹھ جائے گا،ظالم کنارے سے لگیں گے اورپوری طرح قطعہ میں(اوراگردنیا پسندکرے تو دنیابھر میں) امن قائم ہوجائے گا۔انسانیت کو پھلنے پھولنے کاموقع ملے گا، مظلوموں کے شہید کو ہمارا سلام پہنچے ، شہید ِ حق نے رب کی جانب سے تفویض کردہ اپناکام پورا کیا، اور اس کام میں رب العالمین نے بلاشبہ ساتھ دیاہے،مالک ِ دوجہاں تیرا احسان ہے کہ تو نے مظلوموں میں ایسے جیالے پیدا کئے اور ان کی حفاظت خود کرتارہا‘‘
مولاناکاگلا رُندھا ہواتھا۔ داڑھی آنسوؤں سے تر تھی۔مولانا کے تمام شاگرد اور ان کے چاہنے والے اُن کے اطراف کھڑے رورہے تھے۔ اس بڑی شہادت پر خون گرم ہوچکاتھااور کھولے جارہاتھا۔دوسری طرف نظر نہ آنے والے سارے شیاطین اپنے عبرتناک انجام کوسوچ سوچ کر لرزہ براندام تھے۔
۲۔ دنیا یکجاہو(امن کیلئے)
آن لائن میٹنگس کی خوبیاں بتاکر انسانوں کی ملاقات کو موہوم کردینے میں دنیاپسند سائنسدان اور سیاست دان کامیاب ہوچکے تھے۔
دوسری جانب سائنسدانوں اور سیاست دانوں کے جھانسے میں آیاہوا آج کاانسان اب صرف آن لائن ہی خو د کو محفوظ تصور کررہاتھا ۔ اگر کبھی آف لائن میٹنگ ہوجائے تو خدشات کے ہزار طوفان ذہن میں لہروں کی مانند اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
کروف واف مین نے اس طرف توجہ دلائی تو انسان بیزار اور الحاد پسند مکارم الوف نے کہا’’چھوڑ بھی یار، انسانوں کولے کر کیاکرے گا؟جھنڈا ہمار ابلند رہنا چاہیے۔ ہماری نسل پوری دنیا میں افضل ہے۔ سارے انسان ہماری نسل کی خدمت کیلئے پیدا کئے گئے ہیں ‘‘
کروف واف مین بڑی تیزی سے سوچ رہاتھاکہ مکارم الوف نہایت شدت پسند ہوتاجارہاہے۔ اس نے ایک فیصلہ کے تحت فوری طورپراپنی دستی گھڑی کابٹن دبادیا ۔ ایک لیزر شعاع نکلی اورمکارم الوف کا کام تمام کرگئی۔
کچھ چینل چیخ رہے تھے کہ ’’دنیا امن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ امن ضروری ہے۔ انسانوں کویکجا ہونا چاہیے۔ آن لائن جمع ہونے سے کام نہیں بنے گا‘‘
۳۔ خشکہ بیزاری
محکمہ تعلیمات کو محکمہ کھان پان بننے کتنے دیر لگتی ہے۔ محکمہ تعلیما ت نے اِدھر کوئی حکم جاری کیا، کسی ورکشاپ کی بات کہی اوراُدھر محکمہ کے صاحب وسائل اور اساتذہ کرام اپنی اپنی من مانی کرنے لگ جاتے ہیں۔ دیگر اضلاع میں سب ٹھیک ٹھاک ہوتاہوگالیکن ہمارے ضلع میں ایسا ہی کچھ ہے۔ اور یہ بات اخبارات کے صحافی بھی جانتے ہیں کہ جیسے ہی کوئی کام محکمہ تعلیمات تفویض کرتاہے ، اور اس کاسربراہ کسی صاحب وسائل مردیاسینئر ٹیچر کوبناتاہے ، وہ سربراہ اپنے ٹفن میں صرف خشکہ لے آتاہے۔ دیگر ٹیچرس اورخصوصاً خواتین ٹیچرس کوہدایت ہوتی ہے کہ آج سے ٹریننگ ختم ہونے تک وہ اپنا ٹفن ہر دِن’’ نان ویج‘‘ سے لبالب بھرکرلے آئیںگی تاکہ ہم جیسے’’خشکہ پسندوں‘‘ کی عید ہوسکے۔
پھرتو ورکشاپ ہویا کوئی دیگر ٹریننگ کیمپ کلیجی ، گردے ،بھیجہ اور پایوں کی ہردن حاضری سے خشکہ پسندوں کی عید نہ ہوتو پھر کیاہو؟ ماتحت ٹیچرس کی اپنے سربراہ سے وفاداری دیکھنے لائق ہوتی ہے۔ اسی درمیان محکمہ تعلیمات کے پانچ دن کاکام لازمی طورپر 15اور20دن تک کھنچاچلاجاتاہے۔ ہمیشہ تو نہیں لیکن ایساہوتا ضرورہے۔ آپ اپنے ضلع کی صورتحال بتلائیں۔ اگر بتانا چاہیں توبتائیں ورنہ نہیں۔ کیوں کہ دیگر اضلاع کی بھی یہی صورتحال ہوتوپھر بیچارے خشکہ پسند منتخب اساتذہ کی عیدپرریاست بھر میں روک لگ سکتی ہے اورتفویض کردہ ذمہ داری بھی دئے گئے دنوں کے اندر اندر مکمل کرنی پڑے گی ۔
