مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی
سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ،بہار
اردو میں تذکرہ نگاری کی روایت بہت قدیم ہے، تاریخ کے مطابق اس کی ابتداء بارہویں صدی عیسوی میں اور اس کا فروغ اٹھارہویں صدی عیسوی میں ہوا۔ پہلے تذکرہ کا موضوع بڑے برے شعراء ہوتے تھے جو اساتذہ فن شمار کئے جاتے تھے۔ عام طور پر عام شعراءکی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی تھی، جس کی وجہ سے مقامی شعراءکو لوگ نہ تو جانتے تھے اور نہ ہی ان کے اشعار اور احوال سے واقف ہوتے تھے۔ خوشی کی بات ہے کہ موجودہ وقت میں نئی نسل نے اس کمی کو محسوس کیا اور اس جانب توجہ دی، چنانچہ اب نئی نسل کے مصنفین ومئولفین مقامی شعراء کے حالات واشعار کے ساتھ علماء اور دیگر ماہرین علوم وفنون کے حالات بھی جمع کرکے شائع کرنے لگے ہیں۔یہ جذبہ قابل قدر بھی ہے اور قابل ستائش بھی۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی’ ’ تذکرہ شعرائے بستی کمشنری ‘‘ بھی ہے، جس کے مصنف سلمان کبیر نگری ہیں، جو سہ ماہی مجلہ ’’نئی روشنی ‘‘ کے ایڈیٹر ہیں۔
جناب سلمان کبیر نگری صاحب جواں سال ، باحوصلہ اور بلند عزائم کے حامل عالم دین ہیں۔ تعمیری ذہن اور مثبت فکر ان کا طرۂ امتیاز ہے۔ یہ صحافی بھی ہیں اور مصنف بھی، موصوف سہ ماہی ’’نئی روشنی‘‘ کے مدیربھی ہیں اور شعاعِ حرم و توشۂ آخرت کے مصنف بھی، اب موصوف کی ایک اہم تصنیف ’’تذکرۂ شعرائے بستی کمشنری ‘‘ منظر عام پر آچکی ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے قدیم ضلع بستی یعنی بستی ،سنت کبیر نگر اور سدھارتھ نگر کے 250/ شعراء کے احوال اور ان کے کلام کے نمونے بڑی محنت اور عرق ریزی سے جمع کئے ہیں۔
ضلع بستی جو موجودہ وقت میں تین اضلاع پر مشتمل ہے، بستی، سنت کبیر نگر اور سدھارتھ نگر ، یہ علاقہ ہمیشہ مردم خیز اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ مگر مطالعہ سے یہ بات سامنےآتی ہے کہ آج تک نہ شعرائے بستی کے کلام کا کوئی انتخاب شائع ہوا اور نہ ہی ان کے کلام کا تعارف ، علمی حلقوں میں اس کی کمی محسوس کی جارہی تھی ، مولانا سلمان کبیر نگری نے’’تذکرہ شعرائے بستی کمشنری ‘‘ ترتیب دے کر اس کمی کو پورا کردیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب شعرائے بستی کمشنری پر پہلی کتاب ہے، اسے نقش اول بھی کہا جاسکتا ہے، اس لئے اس کے مطالعہ کے وقت قارئین کو کمی کااحساس بھی ہوسکتا ہے، مگر ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ نقش اول ہمیشہ نامکمل ہوتا ہے، لیکن یہی آئندہ کے لئے مشعل راہ بنتا ہے۔ امید ہے کہ اس کتاب سے مطالعہ کرنے والوں کو جہاں قدیم ضلع بستی کے شعراء کے احوال واشعار سے واقفیت حاصل ہوگی، وہیں آگے تحقیقی کام کرنے والوں کے لئے مددگار بھی ثابت ہوگی اور یقینا علمی حلقوں میں’’تذکرہ شعرائے بستی کمشنری ‘‘ کی خوب پذیرائی ہوگی۔
"تذکرہ شعرائے بستی کمشنری ” کی اشاعت پر سلمان کبیرنگری صاحب کو بہت بہت مبارکباد اور نیک خواہشات، دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ موصوف کے علمی اور تحقیق ذوق کو آگے بڑھائے تاکہ وہ اسی طرح علمی اور تحقیقی کام کرتے رہیں۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ موصوف کی خدمات کو قبول اور کتاب کو مقبولیت عطا فرمائے۔آمین ثم آمین –
