مجیب بستوی
صدر انجمن افکار ادب، سمریاواں بازار ، ضلع سنت کبیر ،یوپی
”جغرافیہ و ہ علم ہے جس میں زمین، اس کی خصوصیات، اس کے باشندوں ، اس کے مظاہر اور اس کے نقوش کا مطالعہ کیاجاتا ہے ۔“
کہا جاتا ہے کہ انسان نے جتنی ترقیاتی منازل طے کی ہیں وہ سب کی سب جغرافیائی علم کی وساطت سے ممکن ہو سکا ہے۔ اس کرہ ارض پر ہر جگہ کی اپنی خصوصیات ہوا کرتی ہیں ، کہیں زمینیں ہموار ہیں تو کہیں غیر ہموار ، کہیں پہاڑ وں کا لا متناہی سلسلہ ہے تو کہیں جنگل و بیابان ۔اور ان سب کی معلومات ہمیں جغرافیائی مطالعہ سے ہی دستیاب ہوا کرتی ہے ۔ انسان جہاں بود و باش اختیار کرتا ہے وہاں کی معاشی ، سماجی ، معاشرتی ، ثقافتی سرگرمیوں کے بارے میں بھی ہمیں اسی سے پتہ چلتا ہے ۔
میرے لئے یہ ایک خوش گوار حیرت ہے کہ بستی کمشنری کے قیام کے کافی عرصے بعد کوئی جغرافیہ کی کتاب ”جغرافیہ ضلع سنت کبیر نگر‘‘ مکاتب اسلامیہ و اسکولی بچوں کے لئے، منظر عام پر آئی ہے اور بے حد مسرت اس بات پر ہوئی کہ اس کے مولف عزیزم سلمان کبیر نگری ہیں۔ جومتحرک اور فعال شخصیت ہیں اور خصوصاً تپہ اجیار کی صحافتی نمائندگی کرتے ہیں ۔ وہ ایک عرصے سے ’ نئی روشنی ‘ کے نام سے مجلہ بھی شائع کر رہے ہیں ۔ تعلیمی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں اور یہ سب کام و ہ بحسن و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی تازہ ترین یہ کاوش ایک بہت بڑے خلاء کو پر کرتی ہے یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا لیکن شاید خدا کو یہی منظور تھا کہ یہ کام سلمان کبیرنگری کے قلم سے ہو-
کتاب کا انداز بیان بہت سادہ ہے نہایت ہی اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ اگر یہ کتاب ہندی میں شائع ہوجائے تو اس کی اہمیت اور دوگنی ہو جائے گی، یہ کتاب نسل نو کی ذہن سازی میں بڑی معاون ہوگی۔ آج ایسے ہی کاموں کی سخت ضرورت ہے میں ان کو اس کامیاب پیش کش پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتاہوں کہ یہ کتاب مدارس و اسکولوں میں داخل نصاب کی جائے گی ۔
