ابوطیبہ عزير مدنى
صدر جمعیت البسام الخیریہ سدھارتھ نگر، یوپی۔
کہا جاتا ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے، اور جتنے ہی زیادہ چراغ جلیں گے اتنی ہی روشنی ہوگی اور اندھیرے ختم ہوں گے، پھر اگر اس کی لو انوار رسالت سے لگی ہوئی ہو تو وہ چراغ زمانے میں کبھی بجھنے نہیں پاتا ہے، اسی لیے کتاب و سنت کے علمبرداروں اور دعوت حق کے پاسبانوں کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ انھوں نے ہر دور اور ہر زمانے میں اپنے حصے کی شمع جلائے رکھی ، جس سے شرک و بدعت کی تاریکیاں کافور ہو ئیں اور توحید وسنت کے اجالے ہر جگہ پھیل گئے ۔
اسی کاروان شمع فروزاں اور قافلۂ نور و ضیاء سے بحیثیتِ گرد راہ نسبت کرتے ہوئے راقم نے بھی اللہ بزرگ و برتر کا نام لے کر اپنے حصے کی شمع ”جمعیت البسام الخیریہ” کے نام سے جلادی ہے اس امید کے ساتھ کہ یہ ” بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی” کی مانند ہو گی اور جہالت کی سیاہ رات میں مشعل راہ ثابت ہوگی جس کی تابانی و ضوفشانی سے جہالت کے اندھیرے ختم ہو جائیں گے اور شرک و بدعت کی تاریکیاں ماند پڑ جائیں گی ،اور ایک صالح معاشرہ وجود میں آئے گا۔ (ان شاءاللہ)
جمعیت البسام الخیریہ ایک رجسٹرڈ رفاہی ادارہ ہے ، اس کے مختلف شعبہ جات ہیں ، جن میں ان شاءاللہ شعبۂ تصنیف و تالیف اور نشر و اشاعت کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گی۔
کسی بھی ادارے کے قیام کے وقت سب سے بڑا مسئلہ ممبران کا انتخاب اوراس کے رجسٹریشن کا ہوتا ہے راقم کے سامنے بھی جب یہ مسئلہ آیا تو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایسا محسوس ہوا کہ "جتنے اپنے تھے سب تھے بیگانے” اور یہ صورتِ حال بھی سامنے آئی کہ "جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے” بہر حال” فإذا عزمت فتوكل على الله” سے ہمت و حوصلہ ملا اور”ولا يحك جلدي مثل ظفري” سے تحریک پیدا ہوئی اور چند دنوں کی بھاگ دوڑ اور جد وجہد سے بفضلہ تعالیٰ ممبران کا انتخاب اور رجسٹریشن کا عمل پایۂ تکمیل کو پہونچا۔
اللہ وحدہ لاشریک لہ کے لیے جذبات تشکر و امتنان سے خاکسار کا دل لبریز اور بارگاہِ الٰہی میں سر بسجود ہے اور اس کے فضل عظیم اور احسان عمیم کے اعتراف کے ساتھ یہ لکھتے ہوئے انتہائی خوشی اور مسرت ہورہی ہے کہ جمعیت البسام الخیریہ کی اولین پیشکش یہ کتاب "عقیدۂ توحید پر سو سوال و جواب” زیور طباعت سے آراستہ ہوکر آچکی ہے اور ان شاءاللہ عنقریب ہی آپ کے ہاتھوں میں ہوگی، جو سوال و جواب کی شکل میں عقیدہ کے انتہائی اہم اور بنیادی موضوعات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ہر خاص و عام کے استفادے کی چیز ہے اور اس لائق ہے کہ اسے چھوٹی عمر کے بچوں کو حفظ کرایا جائے۔ فللہ الحمد و المنۃ ۔
یہ کتاب دراصل سعودی عرب کے مشہور عالم دین اور شعبۂ جالیات کے مدیر اعلیٰ شیخ عبد العزیز بن محمد الشعلان حفظہ اللّٰہ کی علمی و دعوتی کاوشوں کا ثمرہ ہے ، اس کی اہمیت کے پیش نظر راقم نے خود ہی اردو میں اس کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیا ہے اور آسان سے آسان تر اور عام فہم بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔
بڑی خوش آئند بات یہ کہ طباعت سے پہلے ہی بہت سے اسکول و مدارس اور مساجد میں قائم شدہ صباحی و مسائی مکاتب کی طرف سے اس کی پیشگی بکنگ کرالی گئی ہے ۔ فللہ الحمد علی ذالک ۔
آخر میں "من لم يشكر الناس لم يشكر الله” کے تحت فخر جماعت، نمونۂ سلف، اردو و عربی کے نامور ادیب و قلمکار اورمتبحر عالم دین فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا صلاح الدین مقبول احمد مدنی حفظہ اللّٰہ کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے کہ جنہوں نے اپنی پہلی ہی ملاقات میں راقم سے حد درجہ شفقت و محبت اور اپنائیت کا اظہار کیا ، اسے ڈھیر ساری دعائیں دیں اور اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود راقم کو اس کی دو کتابوں پر اپنے قیمتی تاثرات سے نوازا جس سے ان کا حسن دو چند اور پایۂ اعتبار بلند تر ہوگیا ہے ،فجزاه الله خير الجزاء و بارك فى عمره بالصحة و العافية.
برادرم عبد القدیر سلفی المعروف بمرشد بھی مستحق شکریہ ہیں جنہوں نے ہر موقع سے راقم کا ساتھ دیا اور ایک ساتھی ہونے کی حیثیت سے اپنا بھر پور تعاون پیش کیا۔ حتى أصبح -كاتب هذه الأسطر-مدينا له طوال الحياة و مثقلا بفضله و إحسانه مدى الدهر و لا يكاد يجد ما يكافئه به إلا الدعاء له بالخير و الصلاح فجزاه الله خير الجزاء و بارك فى علمه و عمله و جعله مرشدا بمعنى الكلمة.
دعا ہے کہ مولائے کریم اس کتاب کو شرف قبولیت سے نوازے ، اس کے مؤلف ، مترجم ناشر اور جملہ مساعدین کو جزائے خیر عطا فرمائے ،جمعیت البسام الخیریہ کو دوام و استحکام بخشے اسے "و أما ما ينفع الناس فيمكث فى الأرض” کا حقیقی مصداق بنائے اور راقم کے لیے معاشی کفالت کا ایسا آبرو مندانہ انتظام فرما دے کہ وہ ملازمت کی در بدری سے نجات پاکر سکون و عافیت کے سائے میں پوری آزادی اور استقلال کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت کا فریضہ انجام دے سکے اور اسے وہ صلاحیت و استعداد اور حوصلہ بخشے جس کی اسے اس کام کے لیے ضرورت ہے اس کی زبان و قلم میں روانی و شگفتگی عطا فرمائے تاکہ اس کی قلمی بے بضاعتی ، علمی کم مائیگی اور معاندین کا حوصلہ شکن رویہ اس مشن کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بنے۔ وما ذالك على الله بعزيز.
