محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ اندھاپاشاہ 
وہ اب بہت بلند ہوچکاتھا۔اس کو دی جانے والی تجاویزاورمشورے بونے لگنے لگے تھے۔اس کواپنی بات بہتر معلوم ہوتی تھی ۔ سو اندھاپاشاہ وہی کرتاجارہاہے۔ اور زوال ہے کہ تیزی سے اس کی جانب بڑھ رہاہے لیکن ٹہریں ، چوں کہ اس کے عروج کے مقدر کاستار ااس کے ساتھ ہے ، اس کو لگ رہاہے کہ اس کو زوال نہیں آئے گا۔ بلکہ چھوئے گا تک نہیں ۔
سناہے کہ عوام کوکسی مسیحا کاانتظار ہے۔وہ بھی اس کوچھوناتودور کی بات ہے ۔ اس کی طرف دیکھنے کوتیار نہیں ہیں۔
۲۔ یادِ وفا
دردبہت تھا۔ آرام بھی تھا۔ مسئلہ یہ تھا آرام یادنہیں رہتاتھا، درد کی تنگنائیاں شکویٰ زبان پر لے آتی تھیں۔ اسی میں زندگی کاایک بڑا عرصہ گزرگیا۔اورزندگانی سے لطف نہیں لیاجاسکا۔ کیوں کہ ہرآن درد کی طرف دھیان لگارہتاتھا۔
آرام والے دِن یاد نہ رہتے۔ اچھے یار کی وفاؤں کویاد نہ رکھنے کی طرح آرام والے دِنوں کو بھی یادرکھنے میں ناکامی رہی ۔یعنی آرام کے ایام سے یادِ وفا نبھائی نہ جاسکی۔ اس قدر غفلت ہوکر رہی۔
۳۔ وصولی کادھندا
وزیر بننے کے بعد کاروبار بہت پھیل گیاتھا۔اور وزیر محترم سوچ رہے تھے کہ کاش!میرے باپ کو پانچ چھ بچے اور ہوتے تو پوری ریاست سے رقم وصول کرنے کے ملے ہوئے اس موقع کی بدولت وہ میرے پانچ چھ بھائی بھی ارب پتی بن جاتے۔
اب دیکھئے خواہ مخواہ کے پارٹی کے دیگر قائدین کوادھر اُدھرمقرر کررکھاہے۔میرے نزدیک ہر ضلع میں پارٹی کے ناقابل اعتبار قائدین وصولی پر معمور
ہیں ۔چوں کہ مجبوری ہے ، اس لئے اِن ہی سے کام چلاناپڑرہاہے۔
۴۔ ہمدردلہر 
سمند ر کی ایک بڑی سی لہر سبھی کاکام تمام کرنے والی تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس کی طاقت ختم ہوگئی اور وہ اچانک ہی واپس لوٹ گئی۔ کنارے پر سیر کرنے والوں کو ایسا محسوس ہورہاتھاکہ اب سمند رکے حوالے ہوئے یاتب حوالے ہوئے ۔ پیروں میں بھاگنے کی سکت بھی نہیں تھی اور پیر ریت میں پھسلتے ودھنستے چلے جارہے تھے۔لہر واپس لوٹ گئی تو انھوں نے دیکھاکہ چار نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی نعشیں کنارے پرپھینک کر بڑی سی لہرلوٹ گئی ہے۔
ایک کپل جوڑا کہہ رہاتھا’’میں نے دیکھا اور میں نے بھی دیکھاکہ  لہر کی آنکھوں میں آنسوتھے جیسے ان چاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی موت پر وہ ہمدردلہر آنسو بہار ہی ہو‘‘ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے