محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔عزت واپسی
آج اُستاد کون ؟ پوچھنے پرجواب ملا ۔’’وہی جو حکومت سے محنتانہ وصول کرنے کے بجائے اپنی خدمات کا طلبہ سے راست معاوضہ وصول کرتاہے جس کی وجہ سے طلبہ اس کی عزت نہیں کرتے۔ کیوں کہ طلبہ کے والدین اور خود طلبہ وطالبات کو بے عزت کرکے اپنی خدما ت کی بھاری رقم وصول کی جاتی ہے‘‘
میں نے کہا’’پہلے کے استاد عزت کے لائق ہوتے تھے ، اس کی وجہ ؟‘‘ وہی جناب گویاہوئے ’’اس کی وجہ ان کی خود داری اور قناعت پسندی تو تھی ہی ، اس کے علاوہ ان کی خدمات کامعاوضہ حکومت دیتی تھی۔ طلبہ کے والدین پربھاری فیس کا بوجھ نہیں ہوتاتھا اوروقت پرفیس نہ دینے پر بے عزتی نہیں کی جاتی تھی۔ طلبہ وطالبات کو کلاس کے باہر کھڑا نہیں کیاجاتاتھا‘‘
’’استادوں کی عزت واپسی کس طرح ہو‘‘ میرے منہ سے نکل گیا حالانکہ ’’عزت واپسی‘‘ کوئی اچھی ترکیب نہیں ہے مگرزبان کا تیرنکل چکاتھا۔میرے دوست نے مداخلت کرتے ہوئے کہا’’ہرجگہ کام کا سوچنا صحت کے لئے اچھانہیں ہوتا۔ کبھی حالات کویوں ہی چھوڑبھی دیا کریار‘‘
پھر اس نے ذرااونچی آواز میں کہا’’ چل یہاں سے انجلی کے گھر چلتے ہیں ، اس نے میٹھابنایاہے ۔منہ میٹھا کرتے ہیں ۔ وہ بھی توطلبہ کوکمپیوٹر کی تعلیم دیتی ہے تاکہ طلبہ مستقبل کو مٹھی میں کرسکیں ‘‘
۲۔ مسکراتے چہرے
اپنابے نقاب چہرہ لئیپریس کانفرنس میں آکر وہ شہ نشین پر بیٹھ گئی۔ سامنے بیٹھے صحافیوں میں سے ایک صحافی کو اس نے سرکے اشارے سے سلام کیا۔صحافی نے بھی سلام کاجواب اپنے سرکے اشارے سے ہی دیا (ہونٹ بھی ہلے تھے)۔ پریس کانفرنس کے ختم پر پریس سے مخاطب کرنے والی چھ سات برقعہ پوش خواتین آگے چلی گئیںلیکن کھلے چہرے کی خاتون رُک کرچند مردوخواتین صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوکر بات کرنے لگی ۔سلام کاجواب دینے والاصحافی بھی آہستہ سے آکر بے نقاب چہرے والی خاتون کے بازو کھڑا ہو گیا۔ کئی صحافیوں کے چہرے مسکرااٹھے ۔بعدازاں اُس نے خجالت مٹاتے ہوئے اپنے صحافی دوستوں سے کہا’’ایسی کوئی بات نہیں ہے ، وہ خاتون راستے میں کھڑی تھی ، میںکس طرح وہاں سے نکل آتا ؟‘‘ایک منچلے صحافی نے کہا’’تم صحیح کہہ رہے ہو ، میں بھی ہوتاتو وہی کھڑا رہ جاتا ‘‘
۳۔ سنہرادور
انسانی DNAبھی تھک جاتاہے۔ لہٰذابرائیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کایارا انسان کے اندر بہت کم نظر آیا۔یعنی انسانی DNAتھک چکاتھا۔ سائنسدان حیران ملے کہ مشرق مغرب شمال اور جنوبی ممالک کے 100سے زائد مرچکے افراد کا DNAٹسٹ کیاگیا تھا۔ ان تمام کے DNAمیں برائیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے بجائے برائیوں کواختیار کرنے کے لئے اوتالے ہونے کاشدید عنصر موجود وغالب تھا۔
مسلسل نیکیوں کی تلقین کرنے اور نیک افراد کی زندگیوں کی کہانی کو سناتے رہنے کے ایک مخصوص تجربہ کے 12سال بعد دوبارہ DNAٹسٹ کرنے پر نتیجہ سامنے آیاکہ برائیوں کو اختیار کرنے کی شدت رکھنے والے انسان برائیوں کو اختیار کرنے سے یکلخت بیزار نظر آئے۔ سائنسدانوں نے کہہ دیاکہ ’’DNAمیں تبدیلی کے لئے نیکی اور اس کی تلقین شرط ہے۔
۴۔ حراستی کیمپ فارمولہ
انھیں حراستی کیمپ بھیج دیاگیا۔ وہ 28مسلمان تھے۔ ان پرالزام لگایاگیاکہ وہ ملک ِ عزیز سے تعلق نہیں رکھتے ہیں ۔ریاست کے بڑے مولانا کا بیان آیا کہ’’بلڈوزر پر پورے ملک میں روک لگائے جانے کے بعد ریاستی حکومت اس دفعہ ’’حراستی کیمپ فارمولہ ‘‘ لے کرسامنے آئی ہے ۔ حراستی کیمپ بھیجے گئے 28افراد غیرملکی ہرگز نہیں ہیں۔یہ دراصل مسلمانوں پر ظلم ہے‘‘
مولانا کے بیان کوپڑھ کر البیلا نے اس پراپنی رائے دیتے ہوئے کہا ’’مولانا بھی عجیب ہیں، ان کو یہ ظلم نظر آرہاہے۔ جبکہ مجھے اس میں 28مسلمان شہریوں کی صاف صاف عصمت ریزی نظر آرہی ہے۔ریاستی حکومت دہشت گردی کیاکرتی تھی لیکن اب حراستی کیمپ بھیج کر وہ اپنے ہی شہریوں کی عصمت ریزی کرنے پرتلی ہوئی ہے،ملک گیر سطح پر اس کے خلاف احتجاج ہونا چاہیے۔ مردہ بادمردہ باد،ریاستی حکومت مردہ باد ‘‘
البیلا کی باتیں اورنعرے سن کرہوٹل میں بیٹھے سبھی افراد آہستہ آہستہ کھسکنے لگے کہ مبادا حکومت کا کوئی جاسوس البیلا کے ساتھ نہ دیکھ لے اور حکومت ہمیں بھی حراستی کیمپ نہ بھیج دے
۵۔ اسٹیچو لائف
’’مرنا چاہتے ہو؟‘‘ پوچھنے پر اس نے جواباً کہاکہ’’ مجھے مرے ہوئے بیس سال ہوگئے۔ والدکی موت کے ساتھ میں بھی فوت ہوچکاتھا۔ میری موجودہ زندگی دراصل ایکStatue life ہے‘‘
۶۔ ایامِ حلال
’’یومِ اساتذہ پر استادوں کی برائی کرناحرام ہے ‘‘ اس نے کہاتو سبھی حیران رہ گئے۔ میں نے پوچھا’’یومِ اساتذہ پراساتذہ کی برائی حرام اور عام دِنوں میں اساتذہ کی برائی کرنا حلال ،یہ بات کس طرح جائزکہلاسکتی ہے ؟‘‘ وہ بڑا ڈھیٹ استاد تھا۔اِس اسکول میں آئے اس کو چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے لیکن گاؤں کے آوارہ نوجوانوں سے اس کی دوستی ہوچکی تھی۔منہ پھٹ تھا۔اسلئے ا سکول کے دیگر استاد اس کو منہ نہیں لگاتے تھے۔ آج میں اس سے بھڑگیاتھا۔
میرے مذکورہ سوال پر وہ بولا’’عام دِنوں میں اساتذہ کی برائی حلال ایسے ہی ہے جیسے جمعہ کے دن نما زپڑھنا ہم سب نے بہت بڑا فرض قرار دیا ہے(اس کویومِ اساتذہ سمجھ لیں ) ہرکوئی جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد چلاجاتاہے ۔ اور ہردِن روزانہ کی نماز غائب کرنے میں قباحت محسوس نہیں کرتے ، یعنی ایک برائی کوخود ہی حلال کر بیٹھے، کیا سمجھے ؟‘‘میں سمجھ چکاتھا۔ میں یہ سمجھ چکاتھاکہ اس بظاہر برے استاد کے اندرایک اچھا استاد چھپاہواہے۔ اس استاد کو وہ کبھی کبھی باہرلے آتاہے۔ وہ دراصل محبت کابھوکا ہے یاپھر کسی سماجی تجربہ میں مشغول ہوگا۔ علم کی سماجی ناقدری آدمی کو کھلنڈرے پن پرمجبور کردیتی ہے۔
