محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ تجھے دیکھنے کی آرزو
دودفعہ نما زلوٹانے پر شوہر نے پوچھا ’’کیا بات ہے ، خیریت تو ہے ؟‘‘ اہلیہ کی آنکھیں بھر آئیں اور کہا’’ ابا یاد آرہے ہیں، وہ کہاکرتے تھے نماز ایسے پڑھوجیساتم خدا کو دیکھ رہے ہواور وہ ویسی نما زپڑھابھی کرتے تھے،مگرمجھے خدا کودیکھنا نصیب نہیں رہاہے ۔ اسلئے نماز لوٹانی پڑرہی ہے ‘‘
شوہر نے کہا’’فرض نماز وں کی ادائیگی کے دوران ذہن میں کام کاج کابوجھ ہوتاہے ،اسلئے دھیان بٹ سکتاہے ، میراخیال ہے کہ کام وام ختم ہونے کے بعد راتوں میں پڑھے جانے والے نوافل میں خدا کودیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘ جانے کیوں بیچاری اہلیہ دھاڑیں مارمار کرروتی رہیں۔
۲۔ حشر سے شکوے
وہ بے حد سنجیدہ شخص تھا۔کبھی اس کوایسی ویسی باتوں میں دلچسپی لیتے نہیں دیکھا ۔ مگر جب وہ دہائی دینے لگاکہ کاش ، کوئی اساتذہ کے پروفیشن کو بھی عزت دے ،ہماری تہنیت اور ہمارا مان سمان کرے۔ تو حیرت ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ خیال آیاکہ آج کل لوگ مان سمان کی مانگ میں حد سے زیادہ جٹے ہوئے ہیں۔ سبھی کوزمانے سے بجا، یابے جا، بہر حال شکویٰ ہے ۔ یہاں تک کہ مسجدکے امام ومؤذن بھی شاکی ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی برتی جارہی ہے۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ آخر ہم کھائیں گے کیا؟ بچوں کی اعلیٰ عہدوں کے لئے پرورش کس طرح کریں گے ؟
اس بات کی شہادت عبداللہ جوزی نے دی تھی۔ عبداللہ جوزی دنیا سے جاچکاہے ۔ اس کی بات یادہے ۔ اس نے ایک دن کہاتھا’’میاں کیابتاؤں ،مولوی اورمفتی صاحبان بھی شاکی ہیں اور صاف کہہ رہے ہیں کہ تم مرجاؤگے توہم نماز جنازہ نہیں پڑھائیں گے۔ کوشش کرکے تم ہی اپنے بڑے چھوٹوں کاجنازہ پڑھ لیاکرو‘‘
مزید حیرت میرے بجائے عسکر حسن کو ہے ۔ وہ ایک دن غصہ میں تھا اور کہہ رہاتھا’’ مولوی اور مفتی صاحبان اپنے آپ کو عالمگیر امامت کے بجائے نماز اور جنازے کی امامت تک محدود کرچکے ہیں تو کیوں کر؟کیا اللہ کی بنائی ہوئی اس دنیا کی امامت اہل کفر اور شرک کریں گے ؟ یاپھر دنیا کی امامت مفتیان کرام اور مشائخین ِ عظام نے اس لئے چھوڑ رکھی ہے کہ ملت اسلامیہ ان کی خدمات کامشاہرہ دے نہیں سکتی؟‘‘
میں نے جواباً عسکر حسن سے کہا’’تمہارے سوال کاجوا ب بھی شاید کچھ نہ کچھ دیاجائے مگر شکوہ کنندگان اور بھی میدانوں سے وابستہ ہیں۔کوئی شکویٰ کے بغیرگزار انہیں کررہا ہے ۔لگتا ہے دنیامیں ہی حشر برپاہوچکاہے ‘‘عسکر حسن نے پیشانی پر بل لاتے ہوئے کہا’’دنیا ختم ہوجائے گی لیکن شکویٰ شکایات ختم نہیں ہوں گی ‘‘ میرا سراثبات میں ہل گیا۔
۳۔ اردو
اس کو اردو سے بے انتہامحبت تھی اور اس کے شہر کاسارا ماحول اردو دشمن تھا۔ اردو شعراء ، اردو صحافی اور اردو اساتذہ کے بچے انگریزی اسکولوں میں انگریزی پڑھ رہے تھے اور وہ تھاکہ ان سب عملی مخالفتوں کے باوجود اُردو کو زندہ دیکھنا چاہتاتھا۔ ایک دن اُردوزبان خود ا س سے آکر ملی اورپوچھا ۔ ’’پیارے ، کیوں تکلیف اٹھارہے ہو؟‘‘ اس نے کہا’’اماں جان ، آپ سے بہت محبت کرتاہوں ، آپ کی زندگی میں میرے قوم کی زندگی اور ترقی پنہاں ہے لیکن قوم ہے کہ سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔نئی نسل انگریزی اسکولوںمیں پڑھتی ، انگریزی فلمیں دیکھتی اور انگریزی بولتے اور مغربی کلچر اختیار کرتے ہوئے میرے سینے پر مونگ دَلتی ہے ‘‘
اس کی دِی گئی اطلاع پر اردو مغموم ہوگئی ۔ کچھ دیر غم کرنے کے بعد اردونے تسلی دیتے ہوئے کہا’’ پیارے بیٹے ، کوشش کروکہ میری سانسیں چلتی رہیں۔ مجھے اپنی سے زیادہ تم جیسے میرے ہونہاربچوں کی فکر ہے ‘‘ اورپھر اچانک اُردوغائب ہوگئی ۔
۴۔ زندہ احساس
بارش بہت ہورہی تھی اور وہ سوچ رہاتھامیری بستی سے دیڑھ کیلومیٹر کی دوری پرواقع سلم ائریاکے لوگ اس شدت کی بارش میں کس طرح جینے کی کوشش کررہے ہوں گے؟۔ اسی اثناء میں چینل خبر نشر کرنے لگے کہ زیادہ بارش کی وجہ سے لینڈ سلائڈنگ کاواقع پیش آیا ہے۔سلم ائر کے 300افراد ملبے تلے دب گئے ہیں ،بچاؤ کاریہ شروع ہوچکاہے لیکن تیز بارش کے سبب امیدیں ٹوٹتی نظر آرہی ہیں ۔
وہ چیخنے لگا لیکن اس کے منہ سے چیخیں نہیں نکل رہی تھیں۔اُسے لگاکہ وہ اگر نہیں چیختے گاتو کچھ دیر بعد مرجائے گا۔
۵۔ آلودۂ شرک وسیاست
ایک بڑی زعفرانی بھیڑ کا مطالبہ تھاکہ مسجد غیرقانونی ہے ، اس کوڈھادیاجائے۔ اسمبلی میں بھی ایک آواز مسجد کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ سارا ملک زعفرانی بھیڑ کو دیکھ رہاتھا۔ اور کچھ موحد اذہان سوچ رہے تھے ’’ اور کتنی بابری مسجدیں گریں گی اور کتنے رام مند ربنیں گے ؟، کیا یہ قطعہ توحید کے نغموں سے گونجے گایاشرک اور سیاسی ظلم کی آلودگیوں میں ہی پھنسا رہے گا؟‘‘ ان سوالات کے فی الحال جوابات میسر نہ آسکے۔درودکی آوازیں لیکن کانوں میں گونج رہی تھیں۔
