بیدر۔ 22؍ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): بغیر اطلاع دئے نالیوں کی دوبارہ تعمیر کے منظر بیدر شہر میں دیکھنے کوملتے ہیں۔ لیکن یہ بات اس وقت مزید تکلیف دہ ہوجاتی ہے جب وہ نالی کسی بڑی شاہراہ پر ہو۔ اور لوگ پوری سڑک طئے کرکے جب اس سڑک کے ختم پرپہنچتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ یہاں نالی کاکام ہورہاہے۔ انہیں دوبارہ واپس جانا پڑتاہے۔ ایسا ہی منظر جبارپٹرول پمپ اور ڈی سی سی بینک کے درمیان والی سڑک کا ہے۔ بیرون شاہ گنج سے آنے والے جب ڈی سی سی بینک اور جبار پٹرول پمپ پرپہنچتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ آگے نالی کاکام چل رہاہے۔ آنے والا راہگیر پلٹ کر واپس چلاجاتاہے۔ ترقی یافتہ شہروں میں کام کاطریقہ یہ ہوتاہے کہ عوام کے لئے تختی لگادی جاتی ہے کہ آگے کام چل رہاہے۔ دائیں یابائیں مڑ جائیں اور جہاں کام چل رہاہے وہاں پر بھی بورڈ آویزاں رہتاہے۔ جس پر کام کی نوعیت، رقم اور کنڑاکٹر وغیرہ کانام بھی درج ہوتاہے۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ کام کے اس انداز کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہماراملک بھارت پوری دنیا کی قیادت کے لئے تیار ہے۔ ایسے میں اس طرح کی بھول چوک اور کام کرنے کے پرانے انداز سے جہالت ٹپکتی نظر آتی ہے۔ جس سے پیچھا چھڑا نا ضروری ہوجاتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے