تقریب سے سید عبدالرب، امجد جاوید، ڈاکٹر ناصب قریشی و دیگر کا خطاب 
کلبرگی 22/  ستمبر(ڈاكٹر ماجد داغی):  ڈاکٹر رفیق رہبر کی اولین تصنیف، مشاہدات کی رسمِ اجراء بدست ڈاکٹر وہاب عندلیب سابق صدر کرناٹک اُردو اکاڈمی انجام پائی۔ ڈاکٹر وہاب عندلیب نے فرمایا کہ ڈاکٹر رفیق رہبر بہت ہی سادہ مزاج شخصیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب "مشاہدات میں اپنے مشاہدے اور دیگر مضامین شامل کئے ہیں۔ سفرنامے بھی دل چسپ ہیں۔ جناب وہاب عندلیب نے انھیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اردو داں طبقہ اس کتاب کی پذیرائی کرے گا ۔
مہمان خصوصی جناب سید عبد الرب KAS موظف ریجنل کمشنر محکمہ تعلیمات نے اپنے منفرد انداز میں ڈاکٹر رفیق رہبر سے اپنی پچاس سالہ دوستی اور تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ رفیق رہبر کی کتاب "مشاہدات کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مضامین ، سفرنامے، ادبی شخصیات پر مضامین تنقید اور ان کے افسانے ۔ انھوں نے کہا کہ رفیق رہبر کے مضامین اور ان کی کہانیاں سلگتے ہوئے مسائل پر لکھی ہیں۔ تعلیم پر ان کا مضمون ، معیارِ تعلیم کی گراوٹ کا ذمہ دار کون؟ پر جناب سید عبدالرب نے کہا کہ تعلیم کا معیار ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کے ذمہ داران خود طالب علم ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی ادارے ہیں ۔ اسی طرح کے اور مسائل پر ڈاکٹر رفیق رہبر نے قلم اُٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے فیض احمد فیض، مولانا ابوالکلام آزاد، سرسید احمد خان، جناب و ہاب عندلیب، ڈاکٹر طیب انصاری، پروفیسر محمد اکبر الدین صدیقی جیسی شخصیات پر لکھا ہے، جو رفیق رہبر کے وسیع مطالعہ کا پتہ دیتے ہیں۔
جناب امجد جاوید نے مشاہدات کی اشاعت پر ڈاکٹر رفیق رہبر کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ڈاکٹر رفیق رہبر کی زبان بہت ہی سادہ ہے۔ ڈاکٹر رفیق رہبر مخلص ، ملنسار، مہمان نواز جیسی صفات سے متصف اور بے باکی و صداقت پسند ہیں۔ ان کی تحریروں میں کوئی پیچیدہ بات نہیں ہے۔ سیدھی سادی زبان میں اپنا مدعا بیان کرنے کی خوبی ہمیں ان کی تحریروں کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہیں ۔ جو بات محسوس کرتے ہیں سیدھے انداز میں لکھ دیتے ہیں۔ یہی ان کی خوبی ہے۔ ممتاز مزاح نگار منظور وقار نے بڑوں کے رفیق چھوٹوں کے رہبر کے زیرِ عنوان  مضمون میں ڈاکٹر رفیق رہبر کی تحریر کی تازگی ، مٹھاس اور سادگی پر روشنی ڈالی ۔ انھوں نے کہا کہ رفیق رہبر کالج کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ اللہ نے انھیں بڑی خوبیوں سے نوازا ہے۔ وہ بہت ہی ملنسار اور ہمدرد مزاج کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر محمد رکن الدین ناصب قریشی نائب صدر انجمن نے مشاہدات کی اشاعت پر ڈاکٹر رفیق رہبر کو مبارکباد پیش کی اور کتاب مشاہدات میں شامل تمام مضامین کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر رفیق رہبر سے میرے تعلقات 50 سال سے ہیں۔ ڈاکٹر ناصب قریشی نے ڈاکٹر رفیق رہبر کے خاندانی کوائف اور اپنی دوستی کے واقعات کا ذکر کیا اور کہا کہ رفیق رہبر ایک تعلیم یافتہ خاندان کے فرد ہیں ۔ مطالعہ کے شوقین ہیں۔ رفیق رہبر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کیا اور خود بھی ایم اے ۔ ایم ایڈ ، پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔
جناب سید عبد القیم سید بارے نے کہا کہ ڈاکٹر رفیق رہبر ہمارے معاشرہ میں اہم مقام کی حامل شخصیت ہیں ۔ ہم ان کی علمیت اور صحبت سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ وہ وقت کے پابند اور بڑے دین دار شخص ہیں ۔ انھوں نے اپنے قریبی دوست عبد العظیم، ڈاکٹر عبد الرحیم افضل پوری کے علاوہ وہاب عندلیب، ڈاکٹر طیب انصاری پر بھی معلومات خیز مضامین لکھے ہیں. ڈاکٹر اسماء تبسم شریک معتمد انجمن ترقی اردو گلبرگہ نے رفق رہبر کی اولین تصنیف "مشاہدات” پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کتاب اُردو ادب” میں ایک اضافہ ہے۔ جو بہت سادہ زبان میں لکھی گئی ہے. تمام مضامین دلچسپ اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں مضامین ( مضمون نما خاکے بھی شامل ہیں ۔ ) تبصرے، تین سفرنامے ، دو مضامین اور ان کے چار افسانوں کے علاوہ ان کی اپنی کہانی شامل ہیں ۔ مشاہدات کی رسمِ اجراء کے موقع پر ڈاکٹر رفیق رہبر کی صاحبزادی ڈاکٹر نوشین کوثر ایم ۔ اے پی ایچ ڈی نے بھی اظہار خیال کیا۔ اور کہا کہ میرے ابا جان بےحد نرم دل اور ہمدرد انسان ہیں۔ انھیں کسی کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی۔ آپ ہم چاروں بہنوں اور بھائی کو اعلی تعلیم دلائی ، اچھے گھرانوں میں ہمیں بیاہ دیا۔ ہم اپنے گھروں میں بہت خوش ہیں ۔ ہم دُعا گو ہیں اللہ تعالیٰ ابا اور امی کو اچھی صحت دے۔ لمبی عمر دے اور ہمیشہ خوش و خرم رکھے ۔ ڈاکٹر رفیق رہبر کی نواسی آنسہ خدیجہ نورین نے بھی مخاطب کیا اور کہا کہ میرے نانا جان تمام بچوں کو بہت چاہتے ہیں، پیار کرتے ہیں ہم بھی انھیں بہت پیار کرتے ہیں۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالی نانا جان کو اچھی صحت دے لمبی عمر دے وہ ہمیشہ خوش رہیں ۔
ڈاکٹر رفیق رہبر (مصنف ) نے اپنی تقریر میں ان تمام احباب اور رشتہ داروں کا ذکر کیا جن کی رفاقت اور صحبت نے ان کے ذوق مطالعہ کو جلا بخشی ۔ آپ نے کہا کہ آج میرے چاہنے والوں نے مجھ پر اور میری کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا میں آپ تمام کا مشکور ہوں ۔ آپ بہ طور خاص ڈاکٹر اکرم نقاش کی خدمات کا ذکر کیا۔ کہا کہ ڈاکٹر اکرم نقاش نے اس کتاب کی اشاعت کے ہر مرحلہ پر میری مدد کی۔ ان کے تعاون کے بغیر مشاہدات کی اشاعت میرے لیے بڑا مشکل کام تھا۔ میری اس مشکل کو ڈاکٹر اکرم نقاش نے آسان بنا دیا۔ ان کے اس تعاون پر میں ان کا بےحد مشکور و ممنون ہوں ۔
آخر میں صدر جلسہ جناب ولی احمد سابق صدر انجمن ترقی اردو ہند، شاخ گلبرگہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے مشاہدات کی اشاعت پر ڈاکٹر رفیق رہبر کو مبارکباد پیش کی ۔ جلسہ کا آغاز مولانا محمد نوح کی قرات کلام پاک سے ہوا۔ جناب اسد انصاری نے نذرانہ نعت شریف پیش کیا۔ جناب سید سجاد علی شاد نے تو شیحی نظم پیش کی۔ ڈاکٹر محمد افتخار الدین اختر نائب صدر انجمن نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ جناب محمد صلاح الدین خازن انجمن کے شکریہ پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے