بیدر کے ہفتہ واری تربیتی اجتماع موقوعہ مسجد قباء میں اقبال الدین انجینئر کاخطاب 
بیدر۔ 24؍ستمبر (محمد یوسف رحیم بیدری): وحی الٰہی کی تائید کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کو اللہ نے جامع کمالات سے متصف کرکے دنیا میں بھیجا۔ آپ  ﷺ سب سے زیادہ عادل ، پاکدامن، صادق القول اور عظیم الامانت تھے۔ اللہ نے بنی آدمؑ کی اولاد میں اسماعیل علیہ السلام اور بنی کنانہ میںقریش کو اور قریش میں بنی ہاشم کو اور آخر میں بنی ہاشم میں سے سارے انسانوں کے سردار حضرت محمد ﷺ کاانتخاب فرمایا۔ اللہ نے آپ ﷺ کو حق بات کہنے ، خوشخبری سنانے اور ڈرانے کافریضہ انجام دینے کے لئے رسالت سے نوازا۔ جس کاذکر قرآن میں موجودہے۔
ان خیالات کا اظہار جناب اقبال الدین انجینئر نے ہفتہ واری تربیتی اجتماع سے اپنے خطاب کے دوران مسجد قباء بیدر میں کیا۔ آگے بتایاکہ آپﷺ کی پیدائش سے دوماہ قبل بیت اللہ شریف پر بری نظر ڈالنے والوں پر اللہ نے اپنا عذاب بھیجا جس کاذکر سورہ الم ترا میں ہے۔ اس کے بعد دنیاکے تمام حضرات جو پچھلی تاریخ کا علم رکھتے تھے، پیشین گوئی کی کہ ضرور یہاں کوئی نبی پیدا ہونے والے ہیں۔ آپ  ﷺ انسانوں سے اکرام کے ساتھ پیش آتے تھے۔ یعنی دوسرے انسان کومحترم سمجھنا اور عزت دینا اور اسے کمتر اور حقیرنہ سمجھنا، اور آپ  ﷺ لوگوں کی خدمت کرتے تھے۔ یعنی سماج کے پچھڑے ہوئے، پسماندہ اور کمزور لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا، خدمت کا حصہ ہے۔ آپ  ﷺایثارکیاکرتے تھے یعنی صرف حق ادا کرنا مطلوب نہیں بلکہ دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دینا، سورۂ حشر میں ہے ’’وہ دوسروں کواپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، اگر چہ وہ خودفاقہ سے ہوں اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچالیاگیا سمجھو کہ وہی کامیاب ہے۔ خدمت خلق کا کامل تصور ابھر نے کے لئے اکرام، انصاف اور ایثار ضروری ہے۔
اقبال الدین نے اپنے اختتامی خطاب میں کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے انسانی خدمت کو ادارتی شکل دینے کے لئے وقف کاتصور دِیا۔ وقف کامطلب یہ ہے کہ اصل جائیداد باقی رہے۔ اور اس کی آمدنی سے خدمت رسانی کے کام ہوتے رہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے اپنی ایک جائیداد وقف کرنے کے متعلق آپ ﷺ سے مشورہ کیا اوراپنی ایک جائیداد ان شرائط کے ساتھ وقف کردی کہ یہ جائیداد آئندہ نہ ہی فروخت کی جائے گی ، نہ ہبہ کی جائے گی اور نہ اس میں وراثت جاری ہوگی۔ اور اس کی منفعت سائلوں ، رشتہ داروں ، پریشان حال لوگوں، مہمانوں اور مسافروں کے لئے وقف ہوگی اور اس کے متولی کے لئے اس سے معروف اجرت لینا جائزہوگااور حضورﷺ نے فرمایاکہ مرنے کے بعد آدمی کے تین اعمال ایسے ہیں جوقبر کی کشادگی کا سبب بنتے ہیں۔ وقف، اولاد کی والدین کے لئے دعا اور ایسا علم جس سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں۔ دعا ہے کہ میرے اور دیگر مسلمان بھائیوں کے والدین کی قبر میں بھی اللہ تعالیٰ کشادگی عطا فرمائے، آمین ۔ یہ اطلاع جناب اقبال الدین انجینئر کے ذرائع نے دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے