کہا جاتا ہے کہ جان ہے تو جہاں ہے اس بات پر عمل اب کسی حدتک بہت زیادہ ہو رہا ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے۔ اس حوالے سے جہاں عمومی بیداری آئی ہے وہیں نوجوان طبقہ بھی کافی حساس نظر آرہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ٹرانسلیٹرس کرکٹ لیگ کے صدر کمیٹی نوراللہ خان نے کیا اور آپ نے بتایا کہ آج چونکہ ورلڈ ہارٹ ڈے ہے اس حوالے سے بھی ہمارا افتتاحی سیشن بہت معنی خیز اور قابل مبارک باد ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آج افتتاح ہوا ہے اور یہ دسواں سال ہے جس میں ہر سال ہاسپٹل انڈسٹری کے مترجمین ایک بڑا ٹورنامنٹ کرتے ہیں۔ اور ایک اچھا پروگرام منعقد ہوتا ہے۔

افتتاح کے مدنظر آج دو میچ تھے۔ دس ٹیمیں اس سال کھیل رہی ہیں۔ آج پہلا میچ میڈازم گلوبل اور ایچ ٹی آئی اور دوسرا میچ کیپتان ابو اللیث خان کی ٹیم عنایہ ہیلتھ سروسز کے ساتھ میڈ سرف کا تھا۔ پہلے میچ کے “ مین آف دی میچ” رتک رہے اور دوسرے میچ کا ایوراڈ سمیع الزماں کو ملا۔
ڈاکٹر وکاس دعا نے بحیثیت مہمان خصوصی اپنی تقریر میں کہا کہ نوجوانوں کو صحت کے حوالے سے بیدار دیکھ کر خوشی ہے اور میں اس کامیاب پروگرام کیلئے مبارک باد دیتا ہوں۔
مصروفیت کے سبب پروگرام میں بہت سارے ڈاکٹرس حاضر نہ ہوسکے۔ کئی ڈاکٹروں نے جہاں غائبانہ طور پر اظہار خوشی کیا وہیں ڈاکٹر امل رائے چودھری نے اپنے ویڈیو پیغام میں مبارک باد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

سیکڑوں کی بھیڑ میں کرکٹ کا شان دار پروگرام ہوا اور جہاں کئی فاکٹرس رہے وہیں جونئر سمیت انڈسٹری کے کافی سینئر احباب موجود رہے۔ وہیں عبید اللہ سنابلی، جاوید اشرف خان، علی خان، سرفراز جوہر، کمیٹی مینیجر برکت علی، مینیجر عمران شیخ ، کمیٹی ممبر بلال ندوی اور صابر بھائی ، علیم اللہ، مطیع الرحمان، کندن، رتک، جاوید ، انجم، احمد، ناصر خان، بدر خان، ضیاء الحق ، امتیاز احمد، عبدالرحمان ، ساجد خان ، شفیق خان وغیرہ کافی بڑا جم غفیر تھا۔
آخر میں برکت علی اور عمران شیخ کے تاثرات کے ساتھ احباب میدان سے خوش وخرم واپس آئے اور افتتاحی سیشن کا اختتام ہوا۔
