احمد کمال ندویؔ
پڈرنہ بلاک، کشی نگر، جامعہ رحمانیہ اسلامیہ رحمان نگر، سمرا ہردو، کشی نگرمیں سورت کے ایک مشہور تاجر حاجی محمد عثمان منیار کے سانحۂ ارتحال پر ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس میں سارے طلبہ و اساتذہ نے شریک ہو کر قرآن خوانی اور ایصال ثواب کیا، جس کا آغاز شعبہ حفظ کے طالب علم عزیزم حافظ شوکت علی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
جامعہ کے سربراہ مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی چونکہ علیل ہیں اس لئے انہوں نے تعزیتی پیغام بھیجا جس میں موصوف نے بڑے رنج و افسوس کے ساتھ فرمایا کہ حاجی محمد عثمان منیارسے میری پہلی ملاقات ممبئی مدرسہ آزاد کے طلبہ کے ایک پروگرام میں ہوئی جو پروگرام مولانا عمر ندوی کے زیر سرپرستی منعقد ہوا تھا۔ حسن اتفاق کہ میں بھی اس پروگرام میں مولانا عمر کی درخواست پر شریک تھا، پروگرام کے اختتام پر میری نظر ایک نورانی مجسمہ انسانی پر پڑی جس کے چہرہ پر شرعی داڑھی، سر پر کشتی نما سیاہ ٹوپی، شرعی لباس میں ملبوس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور شرف ملاقات کی تمنا ہوئی، ملاقات کے بعد تعارف ہوا تو یہ سورت کے مشہور معزز خاندان ’’منیار‘‘ کے فرد نکلے جس کی وجہ سے مزید کشش محسوس ہوئی اور جب مرحوم کو معلوم ہوا کہ ان کے بنگلہ کے سامنے میری بیٹی جو حافظ محمد علی سے منسوب ہے مقیم ہے، تو مزید ان کی توجہ میری طرف مبذول ہوئی اور فرمایا کہ جب بھی آپ سورت تشریف لائیں تو مجھ سے ملاقات کرتے رہیں چنانچہ سورت میں قیام کے دوران میں اس مسجد میں جس کو ’’ملا مسجد‘‘ کہتے ہیں نماز ادا کرتاتھا اور وہ بھی اس مسجد میں جنوب کی طرف ایک کرسی پر تشریف فرما ہو کر نماز ادا کرتے، نوافل و تسبیحات اور تلاوت قرآن میں مصروف رہتے۔
افادۂ معلومات کے لئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ’’منیار‘‘ خاندان سورت کا ایک معزز و شریف خاندان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دینی و دنیاوی دونوں نعمتوں سے مالا مال کر رکھاہے، اگر ایک طرف یہ خاندان تجارت سے جڑا ہوا ہے تو دوسری طرف اس خاندان میں درجنوں حافظ و قاری اور عالم دین ہیں ، حفاظ کرام کا قرآن سے شغف اور تلاوت کا یہ عالم ہے کہ ان میں بعض حفاظ کرام عالمی مسابقہ حفظ قرآن کیلئے حکم منتخب کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف یہ خانوادہ علماء و مشائخ کا قدردان ہے، جو ہمارے علماء و مشائخ سورت کا رخ کرتے ہیں ان کا قیام اس خانوادہ کے مہمان خانہ میں رہتا ہے جو خدمت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔
مرحوم حاجی محمد عثمان منیار جہاںایک سچے امانت دار تاجر تھے وہیں محسن مدارس اسلامیہ، محب الفقراء والمساکین اور علماء و مشائخ کے قدردان تھے جو کہ ان کا خاندانی امتیازہے، ان کے سانحہ ارتحال کی خبر عزیز حافظ محمد علی کروڑیا سے معلوم ہوئی، یہ خبر سن کر بیحد تکلیف ہوئی ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے ان کے سارے پسماندگان خاص طور پر محمد عمران بھائی اور دوسرے صاحبزدگان، بیٹیوں اور اس خاندان کے سارے افراد کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔
اس نششت کا اختتام شعبہ حفظ کے صدر مدرس قاری محمد جبرئیل کی دعا پر ہوا جس میں حافظ روح الامین ، ماسٹر صدر عالم ، حافظ مظفر الحسن ، ماسٹر محمد ، حافظ اخلاق، مولوی اسامہ وغیرہ شریک رہے۔۔
