مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں میں 174بچوں کی دستاربندی ، طلبہ سمیت ان کے سرپرست اور علاقہ کے لوگوں میں خوشی کا ماحول
سمریاواں ،سنت کبیر نگر (محمد رضوان ندوی):
مدارس دین کے مضبوط قلعے ہیں، اصلی دین مدارس کے وجود سے زندہ ہے،یہی مدارس ہم کو حرام حلال بتاتے ہیں، قیام مدارس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ہو اور علم و معرفت کی روشنی سے جہالت کی تاریکی دور ہو۔
سود، نشہ، نشہ کی مختلف شکلیں ختم ہوں، نشہ ایک متعدی گناہ ہے، وہ برائیوں کی بنیاد ہے، سماج کو نشے سے پاک انسانوں کی تلاش ہے۔ ان خیالات کا اظہار دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظم مولانا سید بلال حسنی ندوی نے مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر ملحقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے زیرِ اہتمام منعقد جلسہ دستار بندی کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا نے کہا کہ شادی میں فضول خرچی، رسم پرستی، انانیت و تکبر سے دوری اختیار کرنے کی ضرورت ہے، لوگ فضول خرچی کو گناہ نہیں سمجھتے۔ جب کہ قرآن صاف کہتا ہے کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی اور دوست ہیں۔
تقریر کانوں کے ذائقے کیلئے نہیں سنی جاتی عمل کیلئے سنی جاتی ہے، اور تقریر مسجع و مقفی جملے بگھارنے کیلئے نہیں دین کی بات، اللہ اور رسول کی بات بتانے کیلئے کی جاتی ہے، مسجدیں نشانہ بن رہی ہیں اس کی وجہ ہم ہیں، جب ہم مسجدوں کو خالی رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ مسجدوں کو باقی نہیں رکھے گا، مسجدوں کو آباد کریں۔

(پروگرام میں موجود علماء کرام اور شرکاء کا منظر)
اولاد کی تربیت کریں، اپنے کردار کے ذریعہ ان کے سامنے اپنا کردار پیش کریں، ان کو عزت دیں، شفقت احترام سے خالی نہیں۔ اگر ماں باپ اولاد کا احترام کریں گے تو اولاد والدین کی اطاعت گزار بنے گی۔
نوجوانوں میں بہن بیٹیوں میں دین پر اعتماد قائم کرنے کی کوشش کریں۔ مسلمان معاشرے اسلامی اقدار و روایات اور اخلاقی بلندی اور تحمل دینی سے خالی ہیں اور اس کا ایک سبب میراث کا شرعی تقسیم نہ کرنا اور بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا بھی ہے،
شریعت نے جانوروں کے بھی حقوق بتلائے ہیں، دشمنوں کے بھی حقوق بتلائے ہیں،پورے دین کی پیروی کرو۔ اگر تم پورے دین کی پیروی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ممتاز کردے گا۔ تمہیں سربلندی عطا فرمائے گا، اور اگر تم پورے دین کی پیروی نہیں کروگے تو اللہ تعالیٰ دوسری قوم کو لے آئے گا، صلح حدیبیہ سے سبق لینے کی ضرورت ہے، دعوت کو لازم پکڑو۔ اللہ تعالیٰ پروگرام کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے منتظمین کے لیے ذریعۂ نجات بنائے۔
مولانا نے کہا کہ ہمیں ہر جگہ مسلمان بنے رہنے کی ضرورت ہے، ہمارے طلبہ مدارس سے مکمل دین کے ترجمان بن کر نکلیں، فرائض کی ادائیگی میں کسی صورت کوتاہی نہ کریں، ہر ایک کے حقوق ادا کریں، ہر حال میں شریعت کے مطابق زندگی گزاریں، جو کرے گا وہی آگے بڑھے گا جو نہیں کرے گا، ہاتھ پر ہاتھ دھرے انتظار میں رہے گا اس کو نقصان تو اٹھانا ہی پڑے گا،
ان کے علاوہ مولانا مفتی عتیق احمد بستوی قاسمی کنوینر دار القضاء مسلم پرسنل بورڈ اور مفتی رحمت اللہ ندوی استاذ حدیث وفقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور مولانا عبد السبحان ناخدا ندوی بھٹکلی استاذ تفسیر مدرسہ ضیاء العلوم میدان پور تکیہ رائے بریلی کا قرآن اور حافظ قرآن کی اہمیت وافادیت پر اہم خطاب ہوا.
ڈاکٹر مفتی محمد علی شفیق ندوی حجازی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی تلاوت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ حمد، نعت اسعد بستوی اور فخر الاسلام کبیر نگری نے پیش کی۔
جلسہ کی صدارت مولانا ظہیر انوار قاسمی مہتمم دار العلوم الاسلامیہ بستی اور نظامت کے فرائض معروف ناظم اجلاس مولانا غفران احمد ندوی صدر مدرس مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں نے انجام دی۔
پروگرام کی سرپرستی مولانا کفیل احمد ندوی ناظر و انچارج ملحقہ مدارس ندوۃ العلماء لکھنؤ نے کی، مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ کی نگرانی میں پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام تک پہونچا، مہمان خصوصی کی رقت آمیز دعا اور طلبہ کو انعام و اکرام اور تقسیم اسناد کے بعد اختتام کا اعلان کیا گیا.

(منزل کی جستجو کتاب کا اجراء کرتے علماء کرام)
اس عظیم الشان جلسہ دستار بندی میں دینی ،علمی و ادبی مسابقات کی تیاری کے لئے مفید و جامع کتاب "منزل کی جستجو” کا اجراء ہوا۔
اس موقع پر مولانا مجبیب بستوی ،مولانا محمد رضوان ندوی ڈائریکٹر کے این پبلک اسکول نان پارہ بہرائچ، علامہ محمد عمر قاسمی صدر جمعیت علماء سنت کبیر نگر، مولانا ادیب الرحمن ندوی، مولانا محمد احمد ندوی استاذ ادب ضیاء العلوم تکیہ کلاں، مولانا ریاض الحق مظاہری، مفتی مسعود احمد قاسمی، مولانا عبد اللہ قاسمی، مولانا شمس الضحی قاسمی، افضل بستوی، ماسٹر ظفیر علی کرخی ،مولانا شعیب احمد ندوی، حافظ اعجاز احمد، مولانا فضیل احمد ندوی، مفتی سعید احمد مظاہری، فیروز احمد ندوی، امتیاز احمد اور جملہ اساتذہ و ممبران کے علاوہ عوام الناس کی ایک بہت بڑی تعداد موجود رہی۔
