عزت مآب محترمہ بہن/ دروپدی مرمو صاحبہ!
آداب وتسلیمات
قبل اس کے کہ کچھ عرض کروں،میں آپ کو قلبی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے عہدہ کیلئے منتخب فرمایا، جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا، ہندوستان جیسے عظیم ملک کے صدر جمہوریہ کے لئے آپ جیسے عظیم خاتون کا انتخاب کرکے جہاں ہمارے ملک عزیز پر احسان عظیم فرمایا وہیں یہاں کے شہریوں کو قریب سے سمجھنے اور پرکھنے کا آپ کو موقع عنایت فرمایا، اللہ کا شکر ہے کہ اب تک جو آپ کے بیانات آتے رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جہاں آپ دھڑکتادل رکھتی ہیں وہیں ہندوستانیوں کے موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لئے آپ جیسا مسیحاایسے وقت میں عطافرمایا،جبکہ ملک کے حالات ناگفتہ بہ ہو چکے ہیں، چاروں طرف ناامیدی کے بادل منڈلاتے نظرآرہے ہیں، ایسے وقت میں یہ فقیریہ دستک دے رہا ہے، جبکہ سوائے اللہ تعالیٰ کے سارے دروازے بند نظر آرہے ہیں ،ہمارے حکمرانوں کی زبانیں گونگ ہوگئی ہیں، حق بات کہنے اور بولنے کی صلاحیت مفقود نظر آرہی ہے، ان حالات میں بڑی امیدوں کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ی ہوئی ہے۔
محترمہ بہن صاحبہ!ان حالات میں آپ کی توجہ موجودہ مسائل کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں، چند نکات کی شکل میں حاضرخدمت ہیں ،ان پر سنجیدگی سے غور کرکے ملک کی کشتی کو طوفان کے تپھیڑوں سے نکالنے کی آپ کی ذمہ داری ہے !
(۱) کوئی بھی ملک ظلم وزیادتی کی بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتا،آج ہمارے ملک میں ظلم وزیادتی انتہا کو پہنچ چکی ہے ،عدل وانصاف جو کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے آج اس کا پیمانہ بدل چکا ہے جبکہ بعض شعبوں میں مفقود ہوچکا ہے، ضرورت ہے کہ اس کو بلاتفریق مذہب وملت نافذ کیا جائے،اقلیتوں کو یکساں حقوق فراہم کئے جائیں، کیونکہ کو ئی بھی ملک اتنی بڑی اقلیت کو ہراساں کرکے کامیاب نہیں ہوسکتا، کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی کا راز وہاں کی اقلیتوں کے تعمیر وترقی کا ترجمان ہوتا ہے۔
(۲) ہمارا ملک ایک ’’آئین ‘‘ رکھتا ہے جو بڑی محنت ومشقت اور جانفشانی کے بعد ہمارے دانشوروں ،وکیلوں،سیاستدانوں اور فلسفیوں کو مسلسل جدوجہد کے بعد تین چار سال میں تیار ہوکر۲۶؍جنوری ۱۹۵۰ء؁ کو نافذ ہوا، جس کو’’ آئین ہند‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اور اس عظیم عہدہ کا حلف لیتے ہوئے آپ نے بھی اس کی پاسداری وحفاظت کا وعدہ کیا ہے یہ آنے والا۲۶؍ جنوری۲۰۲۵ء؁ کا دن ہم سارے ہندوستانیوں سے اس کا مطالبہ کرتا ہے کہ دامے درمے قدمے سخنے اس کو اختیار کرتے ہوئے ملک کے حسین خوابوں کی تعبیر کی جائے اور وفادری کا عہدلیاجائے، تو پھر ایک طبقہ کیسے ایک متوازی’’آئین ہند‘‘ تیار کررہا ہے بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق تیار بھی کرچکا ہے مگر اب تک اس کے خلاف نہ ایکشن لیاگیا اور نہ کوئی کارروائی ؟
(۳) ہمارے ملک کے پاس عام شہریوں کی جان ومال کی حفاظت سے لیکر سرحدوں تک کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی فورس موجود ہے اس کا نظام کافی مستحکم اور مزبوط ہے تو پھر ایک متوازی فورس بنانے کی کیا ضرورت ؟ایک طبقہ حفاظت کے نام پر نوجوانوں کو صرف اسلحہ چلانے کی مشق ہی نہیں کرارہاہے بلکہ ان کی آتشیں اسلحہ چلانے اور زخیرہ اندوزی کا بھی دعوت دی جارہی ہے،نیز ہر سال اس کے لئے ورکشاپ کا اہتمام بھی ہوتا ہے جس میں ہر قسم کی ٹریننگ د ی جاتی ہے جب ہمارے ملک کے پاس ہرموقع اور ہر محاذ پر مقابلہ کے لئے فورس موجود ہے تو پھر ایک متوازی فورس کی کیا ضرورت ہے؟جہاں اقلیتوں کے ذہن میںشکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، وہیں ان کو ہراساں کرنے کی ایک سازش بھی ہے پھر اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟
(۴) جب ہمارا ملک آزاد ہوا تو اس کی بنیاد ’’سیکولرزم‘‘ کی رکھی گئی یعنی نہ تو یہ کوئی اسلامی ملک ہوگا اور نہ ہندوراشٹر، بلکہ اس کے سارے تانے بانے سیکولرہوں گے اور ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی، مگر چند سالوں سے ایک طبقہ اس ملک عزیز کو ہندو راشٹر بنانے اور اقلیتوں کو دونمبر کا شہری قرار دینے کی دھمکی دے رہا ہے حتیٰ کہ حق رائے دہند گی  کوغصب کرنے کی بات کرتا رہتا ہے مگر اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟
(۵) ہمارے ملک کے قیدخانوں میں ہزاروں بے قصور مظلوم نوجوان ایک خاص طبقہ کے آج ۲۰؍۳۰؍ اور چالیس سال سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں مگراب تک نہ ان کا مقدمہ کھلا اور نہ پیروی ہوئی اور نہ کوئی پیروی کرنے والا ہے تو آخر ان مظلوموں کو کب تک جیل کے سلاخوںمیں رکھا جائے گا؟ ایسے مظلوموں کے لئے سارے ملکوں میں ایک خاص معافی دن ہوتا ہے جس میں ایسے لوگوں کے لئے عام رہائی کاپروانہ جاری کیا جاتا ہے ،تو آخرہمارا اتنا وسیع وعریض اور عظیم جمہوری ملک اس نعمت خداداد سے محروم کیوں؟
اس لئے یہ فقیر بڑے ادب واحترام سے عرض کرنا چاہتا ہے کہ اس سال ۲۶؍جنوری ۲۰۲۵ء؁ کو ایسے مظلوم قیدیوں  کے لئے عام رہائی کا اعلان کرکے جمہوریت کو پروان چڑھانے کا موقع فراہم کیا جائے۔
امید ہے کہ ان پانچوں نکات کی روشنی میں ملک کے حالات کو بہتر بنانے اور اقلیتوں کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کا فریضہ انجام دیا جائے گا اور جن چور دروازوں سے جمہوریت پر یلغار ہورہا ہے ان کو بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انداز بیاں گرچہ پرشوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
آپ کا
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم  پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
کسیا،کشی نگر،یوپی (9839394368)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے