ممبئی شہر میں ٹاٹا ہسپتال کے سامنے مفت کھانا تقسیم ہورہا ہے، ایک لمبی لائن لگی ہوئی ہے، اسی بیچ ایک باحجاب مسلم خاتون بھی کھڑی ہے،ایک شخص خاتون سے یہ کہتا ہے کہ؛”جے شری رام کا نعرہ لگاؤ یا لائن سےہٹ جاؤ”یہ سن کر وہ بحث کرتی ہے کہ مفت کھانا دیا جارہا ہے پھر یہ شرط کیوں؟ میں نعرہ نہیں لگا سکتی، اسی لئے اسے کھانا نہیں ملتا ہے۔

اس واقعہ کی ویڈیو گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا میں وائرل ہورہی ہے، لاکھوں کروڑوں لوگوں نے اسے دیکھا ہے، کسی نےبھی اس عمل کو پسند نہیں کیاہے،نیز میڈیا میں اپنے تبصروں کے ذریعہ زبانی طور پر اس بات کا کھل کر اظہار بھی کیا ہے، یہ بھی ایک جواب ہے،اس پر تمام سیکولر اور انصاف پسند بھائیوں کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے،مگر مسلم برادرہڈ فاؤنڈیشن کے ذمہ داروں نے جو عملی جواب دیا ہے وہ بہت ہی لائق تحسین اور قابل صد مبارکباد ہے۔

فاؤنڈیشن کے مسلم بھائیوں نے اپنے سروں پر ٹوپیاں رکھ کر مفت کھانا بلاتفریق بھوکوں میں تقسیم کیا ہے، یہ منظر بھی کیمرہ نے قید کرلیا ہے، ایک بھائی یہ کہ رہے ہیں کہ؛ "اللہ اکبر بولنے کی ضرورت نہیں ہے، بھوک لگی ہے کھانا کھاؤ، کیا نام ہے تمہارا، شرن بھائی آپ بنداس کھاؤ ،ٹینشن مت لو ۰۰۰

اس کی ویڈیو بھی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے، ہر کوئی پسندیدگی کی نگاہ سے اس عمل کو دیکھ رہا ہے، اس کے بعد ہی ملک بھر میں مفت کھانا تقسیم کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے، حتی کہ مسلم بھائی مندروں کے سامنے پہونچ کر بھی بلاتفریق مذہب وملت اس عمل کو انجام دے رہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم فاؤنڈیشن کا یہ مبارک مخلصانہ عمل قبولیت سے ہمکنار ہوگیا ہے، وہ اس لئے کہ انہوں نے صرف کھانا تقسیم نہیں کیا ہے بلکہ بھوکوں کو کھلانے کا اسلامی طریقہ بھی پیش کردیا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے؛ اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو، یتیم کو اور قیدی کو۰۰

ہم جو تم کو کھلاتے ہیں سو خالص اللہ کی خوشی چاہیے نہ کہ تم سے ہم چاہیں بدلہ اور نہ چاہیں شکر گزاری، ( سورہ الدھر )

مذکورہ آیات میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ایمان والوں کی شان و پہچان یہ ہے کہ وہ ضرورت مندوں کو کھلاتے ہیں اور انمیں تفریق نہیں کرتے ہیں، تاریخ اسلام کا یہ واقعہ مشہور ومعروف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بدر کے قیدیوں کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، جو کھاتے ہو وہی کھلاؤ، چنانچہ صحابہ کرام نے اپنے سے اچھا کھانا انہیں کھلایا، جب کہ یہ مسلمانوں کی قید میں تھے اور غیر مسلم تھے۔

قرآن کریم یہاں پر اس چیز کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ یہ کھلانے کا عمل ان کا خالص اللہ کی خوشی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہوتا ہے، یہ کھلانے کے بعد بدلہ یا کسی طرح کا معاوضہ یا کوئی شکریہ و نعرہ کے امیدوار نہیں ہوتے ہیں۔

واقعی مسلم بردارہڈ فاؤنڈیشن نے اپنے عمل کے ذریعہ درحقیقت قرآن کی عملی تفسیر پیش کی ہے، بلاتفریق ضرورت مندوں کو کھلایا، اور یہ واضح پیغام دیا کہ ب کہ ہمیں تم سے نہ کوئی بدلہ چاہیے اور نہ ہم کسی شکریہ کے امیدوار ہیں، نیز کھانے کے لئے تمہیں کوئی اسلامی نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے،تمہیں بھوک لگی ہے تم اس کھانے کے مستحق ہو، تمہارا نام شرن ہے یا شفیق ہے، یہ تمہارا واجبی حق ہے، تم ٹینشن نہ لو اور اس بات کی فکر نہ کرو کہ ہم مفت میں کھا ریے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے اس عمل کی ملک بھر میں پذیرائی ہورہی ہے، ساتھ ہی ساتھ اسلام کی سچی تصویر پوری دنیا میں گئی ہے، باری تعالٰی شرف قبولیت سے نوازے اجر جزیل عطا فرمائے، دعا کیجئے کہ یہ عمل جاری وساری رہے، اس وقت وطن عزیز میں عملی دعوت کے ذریعہ ہی اسلام کی اشاعت کی جاسکتی ہے اور نفرت کا خاتمہ ممکن ہے۔ ہمیں عمل کی توفیق نصیب ہو۔ آمین یارب العالمین۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ 

جنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری 

۲/جمادی الاولی۱۴۴۶ مطابق ۵/نومبر ۲۰۲۴ء

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے