امۃ الرحمن بنت ندوی
کے این پبلک اسکول قلعہ، نان پارہ، بہرائچ ،یوپی
جو لوگ اپنی زبان سے محبت کرتے ہیں، زبان ان کے لگاؤ کی وجہ سے ترقی کرتی ہے اور دامن اور کشادہ اور دراز ہوتا چلا جاتا ہے، جس طرح سورج، ہوا، اجالا اور خوشبو کا کوئی مسلک اور مسکن نہیں ہوتا، اسی طرح زبان بھی کسی حد میں محدود اور کسی قید میں مقید نہیں ہوسکتی، ہر چاہنے والا اپنی منشاء کے مطابق اپنے ظرف کو بھر کر زبان کی لذت، لطافت اور دل نوازی سے استفادہ کر سکتا ہے، اردو اور ہندی ہندوستان کی دو بہت مال دار اور اثردار زبانیں ہیں، دونوں کا ایک دوسرے سے اتنا قریبی اور گہرا رشتہ ہے جسے لاکھ تعصب اور تنگ نظری کے باوجود کبھی جدا نہیں کیا جاسکتا، کسی خاص زبان پر کسی خاص مذہب کی ملکیت ثابت کرنا کور چشمی اور کج فہمی کی علامت ہے. اردو خاص مسلمانوں کی زبان نہیں ہے اور نہ ہی ہندی صرف ہندوؤں کی زبان ہے، یہ دونوں اس ملک کی سب سے مقبول، محبوب اور ہردل عزیز زبانیں ہیں جن میں کسی ایک کو سرے سے علاحدہ کرنا ناممکن اور محال ہے،ضد اور عناد میں بہت سے کم شعور اور نادان لوگوں نے تقسیم کی بے شمار کوششیں کی ہیں لیکن جس بلب میں موجودہ دور کا برقی پاور موجود ہو ظاہر ہے اسے پھونکوں سے نہیں بجھایا جا سکتا، اب آندھی بھی چلے تب بھی اردو کا آفتاب بہر حال روشنی پوری آب و تاب کے ساتھ بکھیرے گا.
ہمارے ضلع بہرائچ کے معروف قصبہ نان پارہ میں گزشتہ کئی دہائی سے یوم اردو مناکر یہی پیغام دیا جاتا ہے کہ یہ سب کی زبان ہے، سب کی ضرورت ہے اور اس کی آبیاری پر سب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے، راحت جنتا انٹر کالج کے منیجر ارشد خان یقیناً ایک بے لوث محب اردو ہیں جو ہر سال اس موقع پر خصوصی اہتمام کرتے ہیں، اس طرح کی توجہ اور عنایت اردو کی بہت بڑی خدمت ہے، اس پروگرام میں برادران وطن کی بڑی تعداد بھی شریک ہوتی ہے اور ہمیشہ محبت اتحاد کا پیغام لے کر واپس ہوتی ہے.
وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی
جدھر سے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑ جاتا ہے
