وجئے پور۔۹؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری):  شعبہ اردو سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین وجئےپور کے زیر اہتمام یوم اردو کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا اس جلسہ کے مہمان خصوصی پروفیسر اخترالواسع پدم شری ایوارڈ یافتہ سابق وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی جودھ پور نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے اردو سب کی زبان ہے جیسے آپ فراق کو فیض سے جدا نہیں کر سکتے پریم چند کو منٹو سے جدا نہیں کر سکتے اس طرح شمس الرحمن فاروقی کو گوپی جند نارنگ سے جدا نہیں کر سکتے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اردو کو سب سے زیادہ مسلمانوں کے رویوں سے نقصان ہوا ہے، آج بازاروں میں اردو کے بورڈ بہت کم نظر آنے لگے ہیں جبکہ بورڈ لگانے پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے، اردو اخبارات، اردو چینل، ریختہ ڈاٹ کام سب کچھ ہندو بھائیوں کی دین ہے، دہلی کا بازار ایک زمانے میں کتابوں کے لئے مشہور تھا اب کبابوں کے لئے مشہور ہے، اردو کو فروغ دینے میں مدارس اور فلمی دنیا کا اہم کردار رہا ہے. آج ہم
اس موقع پر عہد کر لیں کے اردو کو کم از کم تیسری زبان کی حیثیت سے پڑھینگے. اس جلسہ کے اور ایک اعزازی مہمان جناب نظام الدین بھوسنور ڈین سیکیاب پی کو کالجس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کی یومِ پیدائش کے موقع پر یوم اردو منایا جاتا ہے اس موقع پر میں تمام حضرات کو عالمی یومِ اردو کی مبارک باد پیش کرتا ہوں،اور امید کرتا ہوں کہ علامہ اقبال کے فکر و فن کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائنگے ، ڈاکٹر ایچ کے یڑہلی پرنسپل سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین وجئےپور نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ مہمان خصوصی نے بتایا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ بالکل درست ہے ہمارے کالج میں ایک طالبہ نے اردو میں پی ایچ ڈی کر کے بنگلور یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے، بلکہ میرا ماننا ہے کہ زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنا چاہیے، اور مادری زبان میں ہی تعلیم حاصل کرنا چاہیے کیونکہ مادری زبان ہی ہماری ترقی کا ضامن ہوسکتی ہے. اسما ناگر دینی، یاسمین منیار نے اقبال کی غزلیں پیش کیں۔
اس جلسہ کا آغاز بی بی عائشہ کی قرآت کلام پاک سے ہوا اور بھگوت گیتا کے شلوک ڈاکٹر ایس ایچ کاکھنڈکی نے پیش کیے، افسانہ پٹید نے حمد پیش کیا، پروفیسر ودیاوتی شعبہ انگریزی نے نعت رسول پیش کیا، ڈاکٹر محمد سمیع الدین ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو، سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین وجئےپور نے خیر مقدمی و تعارفی کلمات و نظامت کے فرائض انجام دیئے، ڈاکٹر ہاجرہ پروین وائس پرنسپل و صدر شعبہ اردو نے شکریہ ادا کیا اور لب پہ آتی ہے دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔
اس موقع پر جناب صلاح الدین ایوبی پونیکر ڈائریکٹر سیکیاب اسو سی ایشن بیجاپور ،ڈاکٹر ایس ایچ ملگھان، ڈاکٹر ملیکا ارجن میتری، پروفیسر زہرہ تبسم قاضی، دہلی کے مہمان منصور آغا، معین اختر انصاری، پروفیسر حسن قادری، پروفیسر ایم ایم باگلکوٹ، ڈاکٹر گریش لینڈی، پروفیسر امبرین ملا، بی ایم کلکرنی، پروفیسر گنگا دھر بھٹ کے علاوہ کثیر تعداد میں طالبات موجود رہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے