(عبدالمبین منصوری)

سدھارتھ نگر:  مشہور ترانہ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” ملک واسیوں کے ہر ایک زبان پر گن گنانے کو مجبور اور مسحور کرنے والے ڈاکٹر علامہ اقبال کے یوم پیدائش اور عالمی یوم اردو کے موقع پر ضلع کے ایک مقامی ہوٹل میں کوی سمیلن اور مشاعرہ کا انعقاد نئی آواز اور ساہتیہ سدھا جیسی ادبی اور سماجی تنظیموں کے مشترکہ حمایت سے ‘تہذیب’ کے بینر تلے کیا گیا۔ جس میں مقامی شعراء کے علاوہ دیگر اور ہمسایہ اضلاع اور پڑوسی ملک نیپال سے کویوں اور شاعروں نے شرکت کیا اور دیر شب تک سامعین کو ان کے کلام پر داد و تحسین اور تالیاں بجانے پر مجبور کر دیا۔

پروگرام کا افتتاح روایتی انداز میں ڈاکٹر ومل دویدی، ایم پی گوسوامی، سینئر صحافی، ڈاکٹر گووند اوجھا، ڈاکٹر جاوید کمال، رانا پرتاپ سنگھ، ایڈوکیٹ سرور انوار احمد، محمود عالم، سنتوش سریواستو وغیرہ نے چراغ روشن کر کے کیا۔

بستی سے تشریف لائے شاعر اروند عنایت نے اپنے کلام سے کوی سمیلن اور مشاعرے کا آغاز کیا۔

جسے تم باورا کہتی تھی رادھے

مہابھارت جتا کر آ گیا ہے۔

پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے خلیل آباد سے تشریف لائے اجیت الہ آبادی نے کہا۔

کسی کے گھر کی رونق جا رہی ہے

مرے دل کا اجالا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان یاس نے کہا۔

تم بھول جاؤ مگر میں نہ بھول پاؤں گا

تری زبان کا رشتہ میرے لہو سے ہے۔

وویک پانڈے وکل نے کہا –

گھیر کر بجریا بھلے توپ لے

سوریہ سا ایک دن ہم اُگیں گے ضرور۔

اسی سلسلے میں ڈاکٹر نوشاد اعظمی نے کہا۔

ہے کیسی کیفیت پوچھو پسر سے

کہ سایہ ماں کا جن کے سر نہیں ہے

سنگھشیل جھلک نے کہا –

کبھی سمجھنا کبھی سمٹنا کتنا اچھا لگتا ہے

ہاتھ ترا کاندھے پر رکھنا کتنا اچھا لگتا ہے۔

ایڈوکیٹ شاداب شبیری نے کہا کہ۔

اس کی کچھ پرواہ نہیں کہ سر قلم ہو جائے

تُجھ کو ظالم حکمراں جب کہہ دیا تو کہہ دیا۔

گورکھپور سے آئے پردیپ مشرا نے کہا۔

اُدھر سونا بنایا جا رہا ہے

اِدھر ہم خود کو پارس کر رہے ہیں۔

دیوریا سے آئی نیہا اوجھا نے پروگرام کو نیا رنگ دینے کی کوشش کی۔

تپش سورج کی اتنی بڑھ گئی ہے

یہاں سب پیڑ سا یا مانگتے ہیں۔

کشی نگر کے نوجوان شاعر نوید ساحل نے اپنی شاعری سے لوگوں سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔

سیاد پر کو کاٹنے سے کیا ملا تجھے

میں دیکھنا اُڑو ں گا لیے پر کٹا ہوا۔

شیو ساگر سحر نے کہا-

پتا کے کاندھے پر بیٹھا ہوا ہوں

گگن چھونے کو ایک موقع ملا ہے۔

فیض خلیل آبادی نے کہا کہ۔

تو دل نشیں ہے وفادار ہے ذہین بھی ہے

مگر میں اور کسی کو زبان دے چکا ہوں۔

نیپال سے تشریف لائے شاعر سحر محمود کا انداز کچھ یوں تھا۔

کسی کو شہر نے لوٹا تو آ گئے گھر کو

مگر وہ جائے کہاں جس کو گھر نے لوٹا ہے۔

پریتی لتا نے کہا-

سورگ جانے کی تمنّا کیا کروں

سورگ دھرتی کو بنانا چاہتی ہوں۔

ساہتیہ سدھا کے صدر گووند اوجھا نے کہا

یوں مسکرا کے ہاتھ بڑھانے کا شکریہ

نفرت کو چھوڑ پیار لُٹانے کا شکریہ

بستی سے تشریف لائے اشرف علی نے کہا۔

ادب سے بیٹھیں لطف اٹھائیں داد اچھالیں واہ کہیں

ہم شاعر ہیں شعر کہیں گے مُجرا تھوڑی کرنا ہے۔

پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنے والے

ڈاکٹر ومل دویدی نے کہا۔

ہر کسی کو سلیقے سے زخم سلنا نہیں آتا

گلے ملتے ہیں پر دل سے ملنا نہیں آتا۔

اسی سلسلے میں مشاعرے کی نظامت کر رہے گورکھپور کے شاعر وقار واحد نے کہا۔

گن بھی سکتے ہو تا رے آسماں کے مگر

شرط اتنیتم ہے مسلسل رتجگا کرتے رہو۔

پروگرام کی صدارت کر رہے ڈاکٹر جاوید کمال نے کہا۔

کچھ تو تیرا نصیب جگیگا

ٹھوکر یں تھوڑی کھا کر دیکھو تو۔

واضح رہے کہ ہر سال 9 نومبر کو ملک اور دنیا بھر میں ڈاکٹر علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر عالمی یوم اردو کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر ومل دویدی نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس شعری کانفرنس اور مشاعرہ میں آپ کی موجودگی اور آپ کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ایسا پیار، ہم آہنگی اور محبت ہمیشہ قائم رہے گی اور ھم سب ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح مل جل کر رہیں گے۔

پروگرام کے چیئر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید کمال نے کہا کہ ڈاکٹر اقبال نے ہندوستان کو ایک ایسا نغمہ دیا جس کی گونج پورے ہندوستان میں صدیوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ جب بھی کبھی یہ ترانا کسی بھی قومی تہوار پر گایا، بجایا یا سنایا جاتا ہے تو ایک جوش اور جذبہ تمام اہل وطن کے اندر موجزن ہونے لگتا ہے اور حب الوطنی کے جذبہ سے دل سرشار ہونے لگتا ہے اور یہی جوش اور جذبہ تمام اہل وطن کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے۔ جہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہ ہو سکے۔

پروگرام کے انعقاد میں ایڈوکیٹ شاداب شبیری، شیو ساگر سحر، سنگھ شیل جھلک اور شبھم سریواستو نے خصوصی تعاون کیا۔ پروگرام کی نظامت گورکھپور کے وقار واحد نے کیا اور صدارت ڈاکٹر جاوید کمال نے کیا۔ پروگرام کے آخر میں شیو ساگر سحر، ایڈوکیٹ شاداب شبیری اور سنگھشیل جھلک نے مشترکہ طور پر آنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام میں فراہم کیے گئے کسی بھی قسم کے تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر سدھارتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالحفیظ، مولانا عبدالکلام ندوی ایڈیٹر البلاغ اور سب ایڈیٹر مشرقی آواز جدید اردو اخبار سدھارتھ نگر، سینئر صحافی ایم پی گوسوامی، پریس کلب کے صدر سنتوش شریواستو، مہاراج گنج کے چیف فارماسسٹ سنتوش سریواستو، محمود عالم، شری چند جیولرز، رانا پرتاپ سنگھ، اشرف احمد، عبدالحکیم، سروش احمد، ڈاکٹر ابو شحمہ، ڈاکٹر حماد حسین، چھیدی لال ورما، شکتی جیسوال اور ڈاکٹر کے پی پانڈے، شبھم سریواستو کے ساتھ، ضلع اور پڑوسی ملک نیپال سے آئے ہوئے سامعین بھی دیر شب تک جاری رہنے والی اس شعری کانفرنس اور مشاعرے سے خوب لطف اندوز ہوتے رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے