گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں قومی یوم تعلیم تقریب سے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کا خطاب
ظہیر آباد11 / نومبر( غلام مصطفٰی محصولدار): ہندوستان کے عظیم مجاہد آزادی اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی بصیرت دانشوری دور اندیشی اور ان کی جانب سے تعمیر کیے گئے ملک کے تعلیمی ڈھانچے کی بدولت عالمی سطح پر ہندوستان آج ایک عظیم تعلیمی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ مولانا آزاد نے تعلیم سب کے لیے کے تحت بچوں کی لازمی تعلیم پر زور دیا اور ملک کی اعلیٰ تعلیم کے لیے یوجی سی ساہتیہ اکیڈیمی اور دیگر تعلیمی ادارے قائم کرتے ہوئے ایک ایسا تعلیمی نظام پیش کیا جس پر عمل کرتے ہوئے عالمی روزگار مارکیٹ میں ہندوستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی مانگ ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے نوجوان اپنے آپ کو عصری تعلیم اور ہنر سے آراستہ کرتے ہوئے اپنا اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ اردو ہماری مادری زبان ہی نہیں دلوں کو جوڑنے والی عالمی سطح کی مقبول زبان ہے۔ آج اردو سے روزگار کے مواقع پہلے سے زیادہ ہیں۔ اردو کی یونیورسٹی حیدرآباد میں قائم ہے جہاں عصری علوم اردو میں پڑھائے جارہے ہیں، جس سے استفادے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد نے کالج میں منعقدہ قومی یوم تعلیم اور یوم اردو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تقریب کا اہتمام کالج کے اساتذہ ڈاکٹر عشرت اور دیگر نے کیا۔ اس تقریب میں کالج کے طلباء نے تعلیم کی اہمیت پر ڈرامہ پیش کیا اور شکوہ جواب شکوہ اور کلام اقبال سے منتخب اشعار پیش کیے۔ تقاریر اور نظمیں پیش کی گئیں۔
کالج کے لیکچررز ڈاکٹر محمد تنویرٗ محمد مظفرٗ ڈاکٹر راتھوڑ مدن سید واجد علی ایس راملو ڈاکٹر لچیا وائس پرنسپل نے خطاب کرتے ہوئے مولانا آزاد کی تعلیمی فکر کے گوشے اجاگر کیے۔ امیر النساء اور نذیر نے شکوہ جواب شکوہ پیش کیا۔۔۔
