اُردو زبان کوکسی طبقہ تک محدودنہ کریں، اردو ہم سب کی زبان ہے: ڈاکٹر ریشماکور 
بیدر۔ 12؍نومبر (پریس نوٹ): مجھے خوشی ہے کہ آج بین الاقوامی سطح پر معروف زبان ’’اردو ‘‘ کادِن ہماراگرونانک ڈگری کالج بیدربڑے اہتمام سے منارہاہے۔ اور تقریب کو شروع ہوئے دوگھنٹہ ہونے کے بعد بھی طلبہ وطالبات کے چہروں کی تمازت بتارہی ہے کہ وہ اردو کے اِس پروگرام کو لے کربہت پرجوش ہیں۔ میرے والد اردو لکھنااورپڑھنا جانتے تھے اور ان کی قربت اردو زبان کے ادیب اور شعراء سے رہی ہے ۔ یہ باتیں ڈاکٹر ریشماکور نائب چیرپرسن گرونانک ادارہ جات بیدر نے کہیں۔ وہ آج منگل کوگرونانک ادارہ جات کی جانب سے گرونانک ڈگری کالج موقوعہ ٹیچرس کالونی ، منہلی روڈ بیدرکے سیمینار ہال میںمنعقد ہونے والے’’عالمی یومِ اردو‘‘ اور ’’یومِ تعلیم‘‘ سے صدارتی خطاب کررہی تھیں۔ ڈاکٹر ریشماکور نے آگے کہاکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ اردو کو کسی ایک طبقہ تک محدود کرکے دیکھاجائے ، اردو زبان دراصل ہندوستانی زبان ہے ۔ ہم سب کی زبان ہے ۔ محترمہ نے طلبہ وطالبات سے سوال کیاکہ آپ میں شاید اردو غزل سننے کاکوئی رواج نہیں ہے۔ اردو غزل ضرور سنیں ۔ اردو غزل کے سننے سے زبان کالطف تو ملتاہی ہے۔ اداسی کو دور کرنے کاکامیاب نسخہ اردوغزل سننے میں پوشیدہ ہے۔انھوں نے اردو کے چند اشعار پیش کئے جن میں غالب ؔکے اس شعر کو اپناپسندیدہ ترین شعر بتلایا ؎
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
تقریب کے مہمان خصوصی اردو ادیب وشاعر اور صحافی جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اپنے خطاب میں طلبہ وطالبات کو بتایاکہ اردو مسلمانوں کی زبان بالکل نہیں ہے ۔جومسلمان ہندوستان پر حملہ آورہوکرآئے تھے ان کی زبان فارسی تھی۔ اور تمام مسلمانوں کی مذہبی زبان عربی ہے۔ اگر مسلمانوں کی زبان اردو ہوتی تو ابھی ابھی جواذان ہوئی وہ عربی میں نہ ہوکر اردو میں ہوتی ۔دراصل سیاست دانوں نے اپنے مفادات حاصلہ کے لئے یہ سب کھیل کھیلاہے۔ طلبہ وطالبات یہ بات سمجھ لیں کہ جو جس قطعہ میں پیدا ہوتاہے اس کی زبان وہ ہوجاتی ہے۔ اگر ٹمل ناڈو یاکیرلہ میں پیداہوئے ہوتے تو آج بیدر کے مسلمانوں کی زبان ٹمل یاملیالم ہوتی ۔ موصوف نے اردو صحافت کے بارے میں بتایاکہ 22؍مارچ 1822؁ء کوپہلا اردوخبار ’’جام ِ جہاں نما‘‘ نکالنے والے غیرمسلم تھے۔اخبار جاری کرنے والے ہری ہر دت اور ایڈیٹر منشی سداسکھ لعل تھے۔ منشی نول کشور نے لکھنؤ سے ’’اودھ اخبار‘‘ کے نام سے اردو  ہفت روزہ نکالا۔ منشی دیانارائن نے ’’زمانہ‘‘ عنوان سے ادبی جریدہ نکالا۔ مہاشہ کرشن نے 1919؁ء میں لاہور سے روزنامہ ’’پرتاپ‘‘ نکالا ۔ اپنے اخبار میں برٹش حکومت کے خلاف لکھنے کی وجہ سے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اردو صحافت کے چندنام پنڈت ہری چند اختر ، لالہ جگت نرائن ، فکرتونسوی ، جمناداس اختر ، من موہن تلخ، خوشترگرامی، ظفرپیامی ، شانتی رنجن بھٹاچاریہ ، جی ڈی چندن، سوم آنند ، نندکشوروکرم اور موہن چراغی کے علاوہ کئی ہندو نام شامل ہیں۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ انگریزوں کی لڑائی اردو زبان نے لڑی اور پہلے شہید ہونے والے صحافی مولوی محمد باقر مسلمان تھے۔ جناب رحیم بیدری نے شعراء اور افسانہ نگاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ سکھ افسانہ نگار جناب راجندرسنگھ بیدی کی ناول ’’ایک چادر میلی سی‘‘ پر فلم بن چکی ہے۔بیدی منٹوکے بعد دوسرے نمبر پر آ نے والے اردو کے مایہ ناز افسانہ نگار ہیں۔ اسی طرح دہلی کے سکھ کلکٹر جناب کنور مہندرسنگھ بیدی سحرؔنے اپنی اردو شاعری کاوہ سکہ چلایاکہ اہل ِ دہلی نے ان کی ادبی خدمات کا جشن منانا بھی ضروری سمجھا۔اسی طرح تقسیم ِ ہند کے بعد علامہ اقبال کے خلاف جو رائے عامہ بنی اس کو اقبال کے حق میں ہموار کرنے والوں میں ڈاکٹر جگن ناتھ آزادؔکے مضامین اور جگجیت سنگھ کی غزلوں نے اہم رول اداکیا۔ اس جائزے سے پتہ چلتاہے کہ اردو کی خدمت میں غیرمسلم پیش پیش تھے ۔ ارد و دراصل برہمن ، لنگایت ، راجپوت ، ٹھاکر اور دیگر تمام طبقات کی زبان ہے۔ انھوں نے گرونانک ڈگری کالج کی جانب سے یوم ِ اردو منانے پر کالج کا شکریہ اداکیا۔ ہندی شعبہ کی صدر محترمہ اندرا لیکچررصاحبہ نے اپنے مضمون کے ذریعہ اردو کی خدمات کا اعتراف کیا۔ یوم ِ اردو کی مبارک باد پیش کی۔اورکہاکہ میں اردو سیکھ رہی ہوں۔ ایک اور مہمان ڈاکٹر مستقیم بیگم اسسٹنٹ پروفیسرشعبہ ء اردو، بیدر یونیورسٹی بیدر نے اپنے خطاب میں اردو کے معنی اور مفہوم پرروشنی ڈالی۔’’داغ داغ چاند‘‘ کے خالق اور بید رکے آنجہانی سکھ شاعر جناب چرن سنگھ چرن ؔ کی شاعری پیش کی جس کو کافی پسند کیاگیا۔ محترمہ نے اپنی مترنم آواز میں اردو کے کئی اشعارپڑھ کرسنائے اور اردو سے متعلق نظم بھی ترنم میں پیش کی اور دادحاصل کی۔
تقریب کے مہمانِ اعزازی ڈاکٹر وکرم سنگھ تومر پرنسپل گرونانک پی یوکالج بیدر نے کہاکہ میں علی گڈھ سے فارغ ہوں اور علی گڈھ کی فضاؤں میں اردو رچی بسی ہوتی ہے۔  17سال تک میراقیام علی گڈھ کے علامہ اقبال ہال میں رہاہے ۔موصوف نے علامہ اقبال کے چند اشعاربھی پیش کئے۔’’یوم اردو ‘‘ اور ’’یومِ تعلیم‘‘تقریب کاآغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ طالبہ ثناکوثر نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ بعدازاں گرونانک تعلیمی ادارہ جات کے بانی سردار جوگاسنگھ کی تصویر پر ڈاکٹر ریشماں کور اور مہمانوں نے پھول چڑھائے ۔ تمام مہمانوں کی شالپوشی کرتے ہوئے انہیں پھول سونگھنی عطا کی گئی۔
اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی شاعروادیب جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اپنی جانب سے ڈاکٹر ریشماکور ، نائب چیرپرسن ادارہ کی شالپوشی کی ۔ گلدستے کے علاوہ ڈاکٹر صاحبہ کے تعلق سے لکھی گئی اپنی تقازہ تہنیت فریم کرکے پیش کی اور اصرار پر پڑھ کر بھی سنائی جس کوڈاکٹر ریشما کور صاحبہ نے خوشی خوشی قبول کیا۔اور پسند فرمایا۔ طالب علم محمد معاذ نے استقبالیہ کلمات پیش کئے ۔ تقاریر کے درمیان میں مختلف طلبہ جیسے محمد کیف نے اردو اشعار پیش کئے۔اِقراء حرمت نے اردو نظم پیش کی۔ اور طالبہ صباء نے مولانا ابوالکلام آزادؔ کی زندگی پر عمدہ تقریر پیش فرمائی۔ ڈاکٹر منہاج الدین صدر شعبۂ اردو نے نظامت کے فرائض بخوبی انجام دئے۔ان ہی کے شکریہ پر تقریب اپنے اختتام کوپہنچی۔ شہ نشین پر شیاملاوی دتہ پرنسپل ڈگری کالج بھی موجودتھیں۔ جبکہ طلبہ کے ساتھ لائبریرین ڈاکٹر محمد عامر اورلیکچرر انعام الرحمن خان وغیرہ موجودتھے۔ اس بات کی اطلاع گرونانک ڈگری کالج بیدر کے ذرائع نے ایک پریس نوٹ کے ذریعہ دی ہے۔
One thought on “گرونانک ڈگری کالج بیدر میں یومِ اردو کا کامیاب انعقاد و انصرام ”
  1. عالمی یوم اردو کے انعقاد پر کالج انتظامیہ اور اردوداں برادری کو مبارکباد.
    اگر اردو کو کسی مذہب سے جوڑنا نہیں ہے تو پروگرام کا آغاز کسی مذہبی کلام سے کس لیے؟ میرا مقصد مذہبی کلام کا عدم احترام نہیں، بلکہ اس تضاد پر اختلاف ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے