بیدر۔ 12؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): انجمن ڈگری کالج بیجاپور کے زیر اہتمام یوم تعلیم کا کامیاب انعقاد اس اجلاس سے جناب امجد جاوید ڈاکٹر ایم جی گھوڑے سوار ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی کا خطاب. اس اجلاس کے مہمان خصوصی جناب امجد جاوید سابق پرنسپل نیشنل کالج گلبرگہ نے اپنے اظہار خیال میں فرمایا مولانا آزاد علم وعمل کا وہ روشن چراغ ہیں جس سے آج بھی زندگی کی راہیں منور ہیں۔
مولانا آزاد ایک ہمہ گیر صلاحیتوں والی شخصیت کا نام ہے، وہ شاعر تھے، ادیب تھے، صحافی تھے، عربی وفارسی کے جید عالم تھے، مفکر اسلام تھے، مفسر قرآن تھے، دانشور تھے، سیاست داں تھے، بہترین مقرر تھے، بلکہ یوں کہئے کہ وہ اپنی ذات سے ایک انجمن تھے۔ہمارے ملک کی تحریک آزادی کے صف اول کے سپاہی تھے۔ انہوں نے آزادی کے بعد ہندوستان کی سیاسی اور تعلیمی پالیسی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مقرر ہوئے اور انہوں نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے تعلیمی ڈھانچے کو ایسی مضبوط بنیادیں فراہم کیں کہ جن پر آج کہ شاندار عمارت وجود میں آئی۔
اس کے بعد ڈاکٹرسید علیم اللہ حسینی صدر شعبہ اردو انجمن ڈگری کالج بیجاپور نے اپنے اظہار خیال میں کہاں کے ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم ان کی تعمیری خدمات لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے آزاد ہندوستان کے شاندار مستقبل کیلئے سائنس، ٹکنالوجی اور میڈیکل سائنس کی تعلیم کے لئے بہترین ادارے قائم کرنے میں اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تعلیم کے میدان میں آج ہم جتنی ترقیاں دیکھ رہے ہیں ان کی بنیادیں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے ہی رکھی تھی۔
اس کے بعد ڈاکٹرایم جی گھوڑے سوار نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم اور منفرد شخصیت اور جنگ آزادی کا وہ اہم نام جنہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ تعلیمی ترقی پر سب سے زیادہ زور دیا۔ ملک کی آزادی کے بعد مولانا آزاد کے حصہ میں ہندوستان کا وزارت تعلیم آیا اور وہ 1947 سے اپنی وفات 1958 تک آزاد بھارت کے پہلے وزیر تعلیم رہے۔ مولانا آزاد ایک اہل بصیرت اور ممتاز اسکالر، آزادی اس اجلاس کا آغاز عاقب دضاحکیم کی قرآت کلام پاک سے ہوا، نطامت کے فرائض پروفیسر ثناء کولہار نے بحسن خوبی انجام دیا۔ پروفیسر تنزیل جاگیردار کے شکریہ پر اجلاس کا اختتام عمل آیا۔
