محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ معاشی کلمہ 
سب نے اردو ، اردو کہہ کر ’’یوم ِ اردو‘‘کی خوشیاں منائیں۔ اردوکادن منانا کا ختم ہواتو جگہ جگہ سے انگریزی آوازیں اے بی سی ڈی کی شکل میںصبح ودوپہر سنائی دینے لگیں۔
انگریزی گرائمر اور جملے سننے کو نہیں ملے لیکن شہر کے تقریباً اسکول دراصل زیر تعلیم طلبہ کواے بی سی ڈی پڑھانے میںمنہمک تھے۔ اسکولوں کادعویٰ تھاکہ اے بی سی ڈی وہ معاشی کلمہ ہے جس سے مستقبل بنتاہے۔ (طلبہ کا نہ سہی ، اسکولوں والوں کا) یہ بات اولیائے طلبہ بھی جانتے تھے لیکن اولیائے طلبہ کو یقین تھاکہ اے بی سی ڈی جیساجادوئی کلمہ ہمارے بچوں کامستقبل بنائے گااور ہمارے خاندان وطبقہ کو بھی محفوظ رکھے گا۔ سبھی انگریزی کلمہ کی افادیت کے نشہ میں چور تھے۔
ماہرین لسانیات کو شہر اور شہر والوں کی اس کیفیت کا پتہ چلاتو انھوں نے بے بسی سے صاف کہہ دیاکہ’’اس قسم کی بے خودی کاکیاعلاج ہوسکتاہے ؟‘‘
۲۔ ہاوز فل 
’’سر۔۔۔۔۔۔ جامع مسجد جانے سے پہلے اگر اپنے متعلق جو شکایات ہیں انہیں دورکرلیں تو کیسا رہے گا‘‘ یہ بات تقریباً 12سال پہلے کہی گئی تھی۔ آج پھر موصوف جامع مسجدکیلئے عازم ہیں، پورے شہر کوجامع مسجد میں جمع کیاجارہاہے لیکن شکایات کاخانہ لبالب بھرا ہواہے۔ 12سال کے دوران کچھ بھی خالی نہیں ہواہے۔
۳۔ دنیا دنیا 
’’تم نے دیکھاہوگاکہ کسی کے خلاف کچھ بھی اچانک ہوسکتاہے ، اسی طرح کسی کے بھی خلاف رب کائنات کا کوڑا برسے گاتو زمین کے اوپر جگہ نہیں ملے گی ‘‘ اس نے گویامجھے ڈرادِیاتھالیکن خود ڈرسے پرے دنیا دنیا کھیل رہاتھا۔
۴۔ سوری سر 
ڈاکٹر وجے سنگھ نے شعر پڑھا ۔طنز سے بھرپور شعر تھا۔ شاعرکی زبان سے وہ یہ کہہ رہاتھاکہ اس شہر کے لوگ نمازوںمیں لوگوں کابراسوچتے ہیں۔ نمازوں میں برا نہ سوچیں ، لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ میں وجے سے کہہ نہیں پایاکہ ملک بھر کے چنندہ مقامات کی خبریں ہیں کہ لوگ مندروں میں اور پوجا کرتے ہوئے بھی براسوچتے ہیں۔ پھر خیال آیاکہ اصل میں شعر کو میں نے شعر کی طرح نہیں لیا۔ دل پرلے لینے سے بہت کچھ اتھل پتھل ہوجاتاہے ۔ میں نے ڈاکٹر وجے سنگھ کوفون کیااور کہا’’سوری سر ‘‘ اور پھراپنافون رکھ دیا۔
۵۔ عرصہ بیت گیا
خالی پن تب بڑھ جاتاہے جب روزانہ والے کام نہ ہوں۔ جیسے دن نہ نکلے ، بلکہ بدلے میں مسائل نکل کھڑے ہوں ۔ رات نہ ہوں بلکہ جھگڑوں کی کالی گھٹاٹوٹ کر برسے۔ وہ خاموش ہواتو میں نے کہا’’خالی پن تب بھی بڑھ جاتاہے جب اپنے رب سے گفتگو کئے ہوئے عرصہ بیتاہو‘‘
اس نے مجھ پر ایک نظر ڈالی اور اپنا بیاگ اٹھا کر چل دِیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے