ارریہ: قمر آباد ( مجاہد عالم ندوی ): گزشتہ کل مدرسہ دارالقرآن الکریم میں ایک روزہ عظیم الشان اجلاس عام فضیلتہ الشيخ ڈاکٹر امان اللہ مدنی کی صدارت اور نجیب عالم ندوی مدیر مدرسہ ہذاکی سرپرستی میں منعقد ہوا ،جس میں مہمان خصوصی فضیلتہ الشيخ تنویر ذکی مدنی نے اپنے پر مغز اسلامی و روحانی خطاب کے میں فرمایا کہ : ہم تمام امت مسلمہ کے ہر فرد کی ذمہ دار ی ہے کہ جہاں ہم دینی و اسلامی تعلیم کو حاصل کرتے ہیں وہیں عصری تعلیم کے حصول کے لیے بھی جدو جہد کریں ، ہمارے مسلم نوجوان آج دین سے بے زاری اور بے راہ روی کا شکار ہیں ، راتوں رات موبائل میںانہماک سےہماری مسلم بچیوں میں پے پردگی کا چلن عام ہو چلا ہے ، ہماری شادیوں میں بے جا رسومات اور فضول خرچیاں عروج پر ہیں ، بے حیائی اور بے شرمی اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے ، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کریں ، اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور اپنے نفس کی اصلاح کرتے ہوئے اللہ کے احکام اور رسول کے احکامات کو اپنائیں ، اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں ، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں ، اگر ہم ایسا کرنے والے بن جائیں گے تو ہمارا معاشرہ ایک اچھا معاشرہ کہلائے گا ۔
فضیلۃ الشیخ عرفان ابو طلحہ تیمی نے کہاکہ : انسانی معاشرے کا امن و سکون ، راحت و چین اور اس کی تعمیر و ترقی کی بنیاد صدق پر ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کو اپنانے کی بہت تاکید آئی ہے ، قرآن و سنت کی تعلیمات میں اس کی فضیلت اور ضرورت روز روشن کی طرح واضح ہے ۔
فضیلتہ الشيخ عنایت اللہ سلفی نے اپنی تقریر میں معاشرے میں اسلام کی تعلیمات کے نشر و اشاعت کا فریضہ انجام دینے کی اپیل کی اور موجودہ حالات میں صبر و استقامت اور امن و قانون کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے کتاب و سنت کی تعلیمات کو حرز جان بنانے کی اپیل کی اور سماجی برائیوں شراب نوشی ، قمار بازی ، رشوت ستانی ، معاشی استحصال ، جہیز ، توہم پرستی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ۔
فضیلتہ الشيخ خلیل الرحمن ازہری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ : اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے تمام مسائل کا احاطہ کرتا ہے ، انسان جن حالات سے دو چار ہوتا ہے ان میں سے کوئی گوشہ نہیں جو اسلام نے چھوڑا ہو ،ایک ایسا مذہب جو عبادت اور زندگی کے چند رسوم اور طریقوں تک محدود نہ ہو بلکہ پوری زندگی کو اس نے اپنے دائرے میں لے رکھا ہو ، علم کی وسعت اور تحقیق و اجتہاد کے تسلسل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ، اسی لیے اسلام میں تمام ہی علوم اور خاص کر علم دین کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔
بنگالی زبان کے ماہر خطیب معروف عالم دین فضیلتہ الشيخ بدر الدجی ندوی نے قیامت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کتنے جہان بنائے ہیں ، ان سارے جہانوں کا علم صرف اللہ ہی کو ہے البتہ چار جہان ایسے ہیں جن سے انسان کو سابقہ پڑتا ہے اول عالم ارواح ، دوسرے عالم دنیا ، تیسرے عالم برزخ اور چوتھے عالم آخرت ۔
صدر اجلاس نے اجلاس میں خیر مقدم کلمات کے بعد جامع ترین تذکیری و توجیہی خطاب فرمایا اور عقیدہ توحید کی اصلاح ، اتباع کتاب وسنت ، تقویٰ و طہارت ، اتحاد و یکجہتی ، اخوت و بھائی چارگی ، حسن اخلاق اور اعتدال و وسطیت کی اہمیت و ضرورت اور معنویت پر روشنی ڈالی ۔ علاوہ ازیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسان دوستی نیز اسلام کی بیش بہا انسانیت نواز روشن تعلیمات سے برادران وطن کو روشناس کرانے کی ضرورت پر بطور خاص زور دیا ۔ مزید برآں ہر طرح کی دہشت گردی ، بد امنی و مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور پوری ایمانی قوت ، صبر و ضبط ، ہمت و حوصلہ ،حکمت و دانائی کے ساتھ خیر امت کا فریضہ ادا کرتے رہنے کی تلقین کی ۔
اخیر میں جلسہ کے روح رواں فضیلتہ الشيخ جناب نجیب عالم ندوی مدیر دارالقرآن الکریم نے آئے ہوئے تمام معزز علماء کرام و دانشوران ملت اور مہمان عظام کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا،جلسے کا آغاز حافظ اجمل حسین مدرس مدرسہ دارالقرآن الکریم کی تلاوت سے ہوا ، اور حمد باری تعالیٰ فضیلتہ الشيخ پرویز حاصل ندوی مدرس معہد حفصہ للبنات زھراء نے پیش کیا ۔ نظامت کے فرائض فضیلتہ الشيخ سرفراز عالم ابو طلحہ ندوی مدرس جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم شنکر پور سپول نے انجام دیئے ۔
اجلاس عام میں اظہار خیال اور تائید اور شرکت کرنے والوں میں درج ذیل حضرات کے اسمائے گرامی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں : مولانا نظام الدین مدنی مدیر جامعہ سلفیہ مفتاح العلوم بیریا کمال ، ڈاکٹر علاء الدین سلفی شعبہ صحت سیتا مڑھی ، مولانا انعام الحق قاسمی مدیر جامعہ اسلامیہ مدینہ العلوم بابوآن ، فضیلتہ الشيخ مجاہد عالم ندوی مدرس الفیض ماڈل اکیڈمی فضیلۃ الشيخ مہتاب سلفی ، فضیلتہ الشيخ امیر الہدیٰ ندوی ، فضیلتہ الشيخ حبیب الرحمٰن سنابلی ، فضیلتہ الشيخ رحمت اللہ اثری ، فضیلتہ الشيخ سفیان خلیق اللہ سلفی ، ڈاکٹر کوثر اعظم ، مسٹر سعید امان ، معید الرحمٰن ، مسٹر عبد الحسیب ، مسٹر تنویر ، مسٹر سلمان اسحاق ، مسٹر وثیق ، مسٹر عادل ، مسٹر ضحاک ، مسٹر نصیر الدین ، مسٹر شمیم ، مسٹر نوشاد کے علاوہ بڑی تعداد میں سامعین و سامعیات نے شرکت کی۔
