مکرمی!

جہاں تک معاملہ آگزنی اور پتھر بازی کا ہے یہ حرکت تو بہرائچ فساد میں بھی دیکھی جا چکی ہے، جہاں کئی گاؤں کے لوگ لاٹھی ڈنڈوں سے لیس ہوکر بہرائچ پرچڑھ دوڑے،سیکڑوں مکانات اور درجنوں شوروم کو نذرآتش کردیا گیا، مگر ابھی تک ان بلوایوں کی شناخت نہ ہو سکی ،اور نہ کوئی کارروائی ہوئی، تو دوسری طرف سنبھل کی آگزنی اور پتھر بازی کے لئے کیمروں اور ڈرون کے ذریعہ ان کی شناخت کی جارہی ہے اور پوسٹر بھی چسپا کئے جارہے ہیں،جہاں چھ مسلم معصوم نوجوانوں کی شہادت ہوچکی ہے اور گرفتاریاں بھی ایک مخصوص طبقہ کے افراد کی کی جارہی ہے، حتیٰ کہ بعض خواتین کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے، مزید براں ہمارے وزیر اعلیٰ کا یہ اعلان ہے کہ املاک کاجو نقصان ہوا ہے اس کا ان سے جرمانہ بھی وصول کیاجائے گااور ان کے خلاف مقدمہ دائر کئے جائیں گے، تو آخر اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟جب کہ سنبھل کے(s.o)نے بیان دے تے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا کہ پولیس میں بھرتی مرنے کے لئے تھوڑ ے ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے ان کا مقصد جتنا کی خدمت نہیں بلکہ ان کو جان سے مارڈالنا ہے، جیسا کہ سنبھل میںیہ غلط پالیسی اجاگر ہوئی ہے۔
آخر ان دونوں جگہوںکے واقعات تو بہت یکساں ہیں، تو پھر سزامیںیہ دوہراپیمانہ کیوں؟یہ صرف اور صرف اس لئے ہے کہ بہرائچ کے اندر جو مجمع تھا وہ اکثریتی طبقہ کا تھا اور یہاں جو مجمع تھا وہ اقلیتی طبقہ کا تھا اس لئے انہوں نے بندوق کی گولیوں سے چھ معصوم نوجوانوں کا سینہ چھلنی کرکے موت کے گھات اتاردیا، آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یقینا اس کے ذمہ دار جہاں گولی چلانے والے ہیں وہیں اس کا حکم دینے والے بھی ہیں، اس لئے سنبھل کے موجودہ انتظامیہ کے اسٹاف(S.O) سے لیکر(S.P) (D.M)سب کو معطل کرکے ان پر قتل کا مقدمہ چلایاجائے اور اعلیٰ سطحی کمیٹی سے اس کی تفتیش کرائی جائے۔

مولانا ،اے ،کے ،رحمانی
قومی نائب صدر
مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے