جھنڈا نگر (نیپال): جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال میں جاری شرعی ریفریشر کورس کی دوسری نشست میں آج بعد نماز عصر ایک اہم علمی اور فکری لکچر پیش کیا گیا۔ یہ لکچر جامعہ کے استاد اور راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے صدر، ڈاکٹر عبدالغنی القوفی نے دیا، جس کا موضوع تھا: "علمانیت اور الحاد”۔
ڈاکٹر عبدالغنی القوفی نے اس لکچر میں علمانیت کے تاریخی، فلسفیانہ، اور نظریاتی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اسلامی فکر کے تناظر میں اس کی بھرپور تشریح کی۔
علمانیت کی لغوی اور اصطلاحی وضاحت
ڈاکٹر القوفی نے سب سے پہلے علمانیت کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم واضح کیا۔
- لغوی طور پر علمانیت کو انگریزی لفظ Secularism اور فرانسیسی Secularité کا ترجمہ بتایا اور اس کی جڑ Saeculum سے جوڑا، جس کا مطلب دنیا یا مادی زندگی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ علمانیت کو "علم” سے جوڑنا غلط فہمی ہے اور اس کی درست نسبت "عالم” سے ہے، لہذا اسے "عَلمانیت” کہا جانا چاہیے۔ - اصطلاحی تعریف میں علمانیت کو مذہب اور ریاست کی علیحدگی سے تعبیر کیا، لیکن انہوں نے اس تعریف کو ناقص قرار دیا۔ انہوں نے علمانیت کو دو اقسام میں تقسیم کیا:
- جزوی علمانیت، جو سیاست سے مذہب کو الگ کرتی ہے۔
- شامل علمانیت، جو زندگی کے تمام پہلوؤں کو دینی اثرات سے پاک کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
علمانیت کی فلسفیانہ بنیادیں
ڈاکٹر القوفی نے علمانیت کی جڑیں مغربی تاریخ کے ان ادوار میں تلاش کیں، جہاں چرچ کی بالادستی کے خلاف عقل و سائنس کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ انہوں نے اس کے بنیادی نظریات کا خلاصہ یوں پیش کیا:
- دین کو مابعدالطبیعیات اور اخلاقیات کے دائرے سے باہر نکالنا۔
- عقل کو فطرت پر قابو پانے کا واحد ذریعہ سمجھنا۔
- دنیا کو مادی اور نسبتی حقیقت کے طور پر دیکھنا۔
علمانیت اور اسلام: ایک فکری تنازعہ
ڈاکٹر القوفی نے علمانیت اور اسلام کے مابین بنیادی تناقض کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ:
- اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو زندگی کے ہر پہلو میں دینی اقدار کو شامل کرنے پر زور دیتا ہے۔
- علمانیت دینی اقدار کو صرف نجی زندگی تک محدود کرتی ہے، جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
انہوں نے قرآن و سنت اور اسلامی فقہ کے حوالے سے واضح کیا کہ اسلام زندگی کے تمام پہلوؤں میں دینی اصولوں کی شمولیت پر اصرار کرتا ہے، اور علمانیت کو الحاد پر مبنی ایک فلسفہ قرار دیا جو اسلام کے خلاف ہے۔
علمانیت کے سماجی اور تاریخی اثرات
ڈاکٹر القوفی نے علمانیت کے اثرات کو مغربی اور مسلم معاشروں کے تناظر میں بیان کیا:
- مغربی معاشرہ:
- علمانیت نے اخلاقی گراوٹ، خاندانی نظام کی تباہی، اور مادی مفادات کی دوڑ کو فروغ دیا۔
- مسلم دنیا:
- علمانیت کی دراندازی نے مسلم معاشروں میں دینی شناخت کو کمزور کیا اور قانون سازی و سیاسی نظام کو دینی اصولوں سے دور کرنے کی کوشش کی۔
نتائج اور اسلامی ردعمل
لکچر کے آخر میں ڈاکٹر القوفی نے علمانیت کے مقاصد اور اس کے خطرناک اثرات کو اجاگر کیا:
- علمانیت کا مقصد دینی تصورات کی جگہ مادی اور انسانی نظریات کو مسلط کرنا ہے۔
- دین کو عوامی زندگی سے نکال کر نجی عبادات تک محدود کرنا۔
اسلامی نقطہ نظر سے انہوں نے واضح کیا کہ دین اور دنیا کو جدا کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور اسلام انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے۔
اختتامی کلمات
ڈاکٹر القوفی کے مطابق، علمانیت ایک الحادی فلسفہ ہے، جو نہ صرف مذہب بلکہ اخلاقیات اور انسانی اقدار کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ان کے اس تحقیقی لکچر نے شرکاء کو فکر و عمل کی نئی راہیں دکھائیں اور علمانیت کے فتنہ پر اسلامی نقطہ نظر کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع دیا۔
شرعی ریفریشر کورس کی یہ نشست جامعہ کے طلباء، اساتذہ، اور دیگر شرکاء کے لیے نہایت علمی اور فکر انگیز ثابت ہوئی۔ ڈاکٹر القوفی کی پیشکش کو حاضرین نے بے حد سراہا اور اس موضوع پر مزید علمی گفتگو کی ضرورت پر زور دیا۔
