سدھارتھ نگر: گزشتہ شب کو ادبی تنظیم سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن ‘ نئی آواز ‘کی ماہانہ شعری نشست ہمیشہ کی طرح ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ جس میں شعرا اور کویوں نے شرکت کی۔نشست کا آغاز ڈاکٹر نوشاد اعظمی نے اپنی غزل کے اس شعر کے ساتھ کیا:

” کسی حیواں سے وہ کمتر نہیں ہے

خدا کا جس کے دل میں ڈر نہیں ہے۔

 مہاراج گنج سے آئے شیو ساگر سحر نے کہا

” تو ہے کندن تو آگ میں ہی جل

 تجھ کو کچھ اور ہی نکھرنا ہے ۔

ایڈوکیٹ شاداب شبیری:

سب دوائیں تو بے اثر ٹھہریں

آخری وقت ہے دعا کیجئے۔

 ڈاکٹر جاوید کمال:

بول اٹھیں کہیں نہ دیواریں،

نام لکھ کر مٹا رہا کوئی-

 ڈاکٹر فضل الرحمن ‘یاس’:

ایک دن ہو کے وہ جدا مجھ سے

 کر دیا مجھ کو آشنا مجھ سے-

نشست کے بعد آنے والے یوم جمہوریہ پر منعقد کیے جانے والے پروگرام پر بھی بحث کی گئی جس میں یہ طے کیا گیا کہ ٢٦ جنوری ٢٠٢٥ کو نئی آواز کی جانب سے جنگ آزادی کے شہداء کے نام ایک مشاعرے کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس میں ادب کی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دینے والے کچھ شاعروں کویوں کو اعزاز بھی دیا جائے گا۔

بتاتے چلیں کہ ادبی تنظیم نئی آواز کی یہ ١٤٧ ویں شعری نشست تھی۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم علاقے میں سماج کی فلاح و بہبود کے لیے بھی تعمیراتی کام کرتی رہی ہے۔ نشست کی صدارت ڈاکٹر فضل الرحمن ‘یاس’ نے اور نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے