تربیتی اجتماع بیدر سے اقبال الدین انجینئر کا خطاب

بیدر۔ 20؍ڈسمبر (پریس نوٹ): نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’قیامت میں خدا فرمائے گاوہ لوگ کہاں ہیں جو صرف میرے لئے لوگوں سے محبت کیاکرتے تھے۔ آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا‘‘ پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کے لئے ضرور ی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور نیک سلوک کریں ۔ خدا سے غافل ، غیرذمہ دار اور بداخلاق لوگوں سے ہمیشہ دور رہیں۔ ان خیالات کا اظہار جناب اقبال الدین انجینئر نے تربیتی اجتماع بیدرمیں نوجوانوں سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ اور آگے بتایاکہ آنکھوں کازنا بدنگاہی اور زبان کازنا بے حیائی ہے۔ صلح صفائی میں جلدی کرنے سے دلوں کی نفرت دور ہوتی ہے۔ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کریں ، اگر زندہ نہیں ہیں تو ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں ،کیوں کہ نبی کریم ﷺ کاارشاد ہے کہ ’’تو اور تیرامال سب تیرے باپ کا ہے ‘‘ ایمان میں نیک اعمال سے اضافہ ہوتاہے اور برے اعمال سے اس میں کمی واقع ہوتی ہے۔ خوش اخلاقی جنت میں جانے کاسبب بنتی ہے۔ اللہ کوماننے والے عیش کوش نہیں ہوتے۔ سادہ زندگی گزارنا ایمان کی علامت ہے۔

جناب اقبال الدین انجینئر نے نبی ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی طرف زور دیتے ہوئے کہاکہ تب ہی اللہ ہم سے خوش ہوتاہے۔ کیوں کہ نبی ﷺاپنی قوم میں شیریں کردار، فاضلانہ اخلاق اور کریمانہ عادات کے لحاظ سے ممتاز تھے۔ آپ ﷺ سب سے زیادہ بامروت ، سب سے زیادہ خوش اخلاق ، سب سے زیادہ معزز ہمسایہ ، سب سے بڑھ کر دوراندیش ، سب سے زیادہ راست گو، سب سے بڑھ کر پابند ِ عہد اور سب سے بڑے امانت دار تھے۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کی قوم نے آپ کانام ہی امین رکھ دیاتھا کیوں کہ احوال ِ صالحہ اور خصال ِ حمیدہ کے وہ پیکرتھے۔ اور جیساکہ حضرت خدیجہ ؓ نے شہادت دی ہے کہ ’’آپ ﷺ درماندوں کابوجھ اٹھاتے تھے ۔ تہی دستوں کابندوبست فرماتے تھے۔ مہمان کی میزبانی کرتے تھے۔اور مصائب حق میں اعانت فرماتے تھے۔

اقبال الدین نے حضرت شیخ معین الدین چشتی ؒ کی زندگی کی تاریخ کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے آگے بتایاکہ حضرت شیخ معین الدین چشتی ؒ ایک عظیم مصلح، معلم اور مجدد تھے۔ مستقل قیام کے لئے آپ نے اجمیرکو پسند کیا۔ کیوں کہ اجمیر اُن دِنوں مرکزی حیثیت رکھتاتھا۔ پرتھوی راج کا دارالسلطنت تھا۔ پرتھوی راج حضرت شیخ معین الدین چشتی ؒ کی پاکیزگی، ان کی تعلیم اور ان کے بلند کردارسے بہت مطمئن تھے۔ پرتھوی راج کے درباری بھی آپ ؒ کے عقیدت مند ہوگئے اور انھوں نے راجہ سے کہاکہ ان بزرگ کے ساتھ خدائی طاقت ہے اور آپ یقینا خدارسیدہ بزرگ ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ذات شریفہ، اخلاق ،روحانیت اور شریعت و طریقت کی جامع تھی۔ صاحب ماشرالکرام لکھتے ہیں کہ ’’اس میں شک نہیں کہ ہندوستان پر بزرگانِ چشتیہ کا قدیم حق ہے ‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے