مسجد ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی کے امام وخطیب مولانا مقیت احمد قاسمی کا خطبہ جمعہ۔
مولانا نے موجودہ وقت میں ملت کی زبوں حالی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
گونڈہ : ۲۰/دسمبر ۲۰۲۴ع بمطابق ۱۷/جمادی الثانی ۱۴۴۶ ھ مسجد ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی میں جمعہ کے خطبہ میں مولانا مقیت احمد قاسمی نے بعنوان نشے کی حرمت پر خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں، خاص طور سے نئی نسل تیزی سے منشیات کے استعمال کی طرف راغب ہو رہی ہے اور اس لعنت میں مبتلا ہو کر نوجوان نسل فکری اور عملی اعتبار سے تہی دست ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے اندر سامراجی اور مخالف طاقتوں سے ٹکر لینے کا حوصلہ فنا ہوتا جا رہا ہے۔ جرائم کی سطح میں اضافہ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ایسے افراد ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔
مولانا نے ۲۵/ منٹ کے اپنے خطبہ جمعہ کو سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۹۱/۹۰ کی تلاوت مع ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہا : کہ ان دونوں آیتوں میں اللہ عزوجل نے دس دلائل سے شراب کی حرمت کو بیان کیا ہے۔
(۱) شراب کا ذکر جوئے، انصاب اور ازلام کے ساتھ کیا۔ یہ تینوں چیزیں چونکہ حرام ہیں لہذا شراب بھی حرام ہے۔
۲۔ شراب نوشی کو رجس (ناپاک) کہا گیا اور ہر ناپاک شے حرام ہے۔
۳۔ شراب نوشی کو شیطانی کام فرمایا اور ہر شیطانی کام حرام ہے۔
۴۔ شراب نوشی سے اجتناب کا حکم فرمایا لہذا اجتناب فرض و واجب اور اس کا ارتکاب حرام ہوا۔
۵۔ آخرت ودنیا کی کامیابی اور فلاح کو شراب سے اجتناب پر منحصر کیا لہذا ارتکاب حرام ہوا۔
۶۔ شراب کو شیطان کی طرف سے عداوت کا سبب قرار دیا اور حرام کا سبب بھی حرام ہوتا ہے۔
۷۔ شراب کی وجہ سے شیطان بغض پیدا کرتا ہے اور بغض حرام ہے۔
۸۔ شراب اللہ کے ذکر سے روکنے کا سبب بنتی ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنا حرام ہے۔
۹۔ شراب نماز سے روکتی ہے اور نماز سے روکنا حرام ہے۔
۱۰۔ اللہ تعالی نے انتہائی بلیغ ممانعت فرماتے ہوئے استفہاماً فرمایا ہے: ’’تو کیا تم شراب نوشی سے باز آنے والے ہو؟
اللہ عزوجل نے قرآن عظیم الشان میں تین سورتوں میں مختلف انداز سے شراب نوشی سے روکا ہے، اور اس کی حرمت کو بیان کیا ہے، اسی طرح احادیث میں بھی نشے کے تعلق سے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، چنانچہ بروایت بخاری و مسلم ” زنا کرتے وقت زانی میں ایمان کامل نہیں ہوتا اور شراب پیتے وقت شرابی میں ایمان کامل نہیں ہوتا اور چوری کرتے وقت چور میں ایمان کامل نہیں ہوتا ”
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے دنیا میں شراب پی، وہ آخرت میں (جنت کی شراب طہور) سے محروم رہے گا‘‘ (بخاری ج ۲، ص ۸۳۶)
سیدنا ابو مالک اشعریؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور آلات موسیقی کو حلال کہیں گے۔ اور عنقریب کچھ لوگ پہاڑ کے دامن میں رہیں گے۔ جب را ت کو وہ اپنے جانوروں کا ریوڑ لے کر واپس لوٹیں گے اور ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت لے کر آئے گا تو وہ اس سے کہیں گے، کل آنا۔ اللہ تعالی پہاڑ گرا کر ان کو ہلاک کر دے گا۔ اور دوسرے لوگوں یعنی زنا، شراب اور آلات موسیقی کو حلال کہنے والوں کو مسخ کر کے قیامت کے روز بندر اور سور بنا دے گا‘‘ (بخاری، ج ۲، ص ۸۳۷)
سیدنا عبد اللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی نے شراب پر لعنت فرمائی ہے، اور شراب پینے والے پر، شراب پلانے والے پر، شراب فروخت کرنے والے پر، شراب خریدنے والے پر، شراب کو انگوروں سے نچوڑنے والے پر، اس کو بنانے والے پر، اس کو لادنے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس لاد کر لے جائی جائے‘‘ (سنن ابی داؤد، ج ۲، ص ۱۶۱)
سیدنا عثمانؓ فرماتے ہیں کہ شراب سے اجتناب کرو۔ یہ تمام گناہوں کی اصل ہے۔ تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص جو نہایت عبادت گزار تھا، اس پر ایک بدکار عورت فریفتہ ہو گئی۔ اس نے اپنی لونڈی بھیج کر اس کو کسی بہانے سے بلایا۔ جب وہ عبادت گزار شخص اس کے پاس پہنچا تو اس نے دروازہ بند کر دیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں ایک حسین وجمیل عورت ہے، ایک لڑکاہے اور ایک شراب کا برتن ہے۔ اس بدکار عورت نے اس سے کہا : ’’خدا کی قسم ! میں نے تم کو گواہی کے لیے نہیں بلایا بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ تم میری خواہش نفس پوری کر و یا اس شراب کو پیو یا اس لڑکے کو قتل کر دو۔‘‘ اس عابدنے (شراب کو کم تر گناہ سمجھتے ہوئے) کہا : مجھے اس شراب سے ایک پیالہ پلا دو۔ اس عورت نے اس کو ایک پیالہ شراب پلائی۔ اس نے کہا، اور پلاؤ۔ (اسی شراب کی مدہوشی میں) پھر اس نے ا س عورت سے بد کاری کی اور اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔ سو تم شراب سے اجتناب کرو کیونکہ خدا کی قسم ! شراب نوشی کے ساتھ ایمان باقی نہیں رہتا ‘‘ (سنن نسائی، حدیث نمبر ۵۶۸۲)
دوران خطاب مولانا نے کہا : عرب کے ماحول میں شراب پانی کی طرح استعمال کیا جاتا تھا اور شراب پر قسم اٹھایا جاتا تھا مگر اسلامی تعلیمات آجانے پر انہوں نے مٹکے سمیت شراب کو پھینک دیا اور ہمیشہ کے لیے اس سے دور ہو گئے ، آج ضرورت ہے کہ ہم بھی عزم کریں کہ ہر قسم کا نشہ چھوڑیں گے اور اپنی نسلوں کو اس سے بچانے کی بھرپور فکر کریں گے نشہ چھوڑنے کے تعلق سے تین کام نہایت مفید ہے ، (۱) پختہ ارادہ کریں اور اس پر قائم رہیں (۲) بکثرت مسواک کریں (۳) منہ میں الائچی وغیرہ رکھے رہا کریں۔ اخیر میں کچھ اشعار بیان کر کے بات مکمل کی جا رہی ہے وہ اشعار یہ ہیں۔۔۔۔۔
گلاسوں میں جو ڈوبے پھر نہ ابھرے زندگانی میں
ہزاروں بہ گئے ان بوتلوں کے بند پانی میں
نہ کر برباد اپنی زندگی بوتل کے دیوانے
وہ کاٹے گا بڑھاپے میں جو بوتا ہے جوانی میں
یہ دارو کا پیالہ موت کا کڑوا پیالہ ہے
ملا ہے زہر شربت میں چھپی ہے آگ پانی میں
اللہ عزوجل نشہ آور اشیاء سے ہماری اور پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور ایمان وعمل صالح کی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
