جمعیت علماء کا مشاورتی اجلاس
ظہیرآباد/کوہیر31 ڈسمبر (مشرقی آوازجدید): جمعیت علماء ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کی جانب سے حکومت تلنگانہ سے اقلیتوں کے مطالبات کو منوانے کی لیے شروع کی جانے والی تحریک کا آغاز مورخہ 17/ جنوری سے جامع مسجد کوہیر میں بعنوان "موجودہ حالات اور ملت کی ذمہ داریاں،، اجلاس عام کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے، اور اسی طرح اس کے بعد ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں اجلاسوں کا انعقاد عمل میں آئیگا، اور آخر میں 26 اپریل 2025 کو جمعیت علماء ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کی جانب سے ریاستی سطح کا مرکزی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
جامع مسجد کوہیر میں آج اجتماع عام کے پوسٹر کی رسم اجرائی کے بعد جمعیت علماء کے مشاورتی اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر حافط پیر خلیق صابری جنرل سیکرٹری جمعیت علماء ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش نے شرکت کی اور مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اغراض اور مقاصد کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا جاۓ اور کسی بھی مذہبی عبادت گاہ و مقدس شخصیات کے متعلق نازیبا خیالات کے خلاف اسمبلی میں بل پاس کیا جائے، اور انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ آزادی کے وقت مذہبی مقامات کی جو حیثیت تھی پارلیمنٹ کے قانون 1991 کے مطابق جوں کا توں برقرار رکھا جائے، اس کے علاوہ ریاست کے اقلیتوں کو آبادی تناسب کے اعتبار سے سیاسی و سماجی حصہ داری فراہم کی جاۓ، حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ھیکہ ان تمام بلوں کو باضابطہ قانون ساز اسمبلی میں پاس کرتے ہوئے سخت قانونی شکل دی جائے، آخر میں انہوں نے عامتہ المسلمین سے گزارش کی کہ جمعیت علماء کی اس تحریک کے ابتدائی اجلاس مورخہ 17/ جنوری جامع مسجد کوہیر کے اجلاس سے جمعیت علماء ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کے 26 اپریل 2025 کے اختتامی حیدرآباد مرکزی اجلاس تک شرکت کے زریعہ بھر پور تعاون کریں، تاکہ حکومت مجبور ہوکر مطالبات کی یکسوئی کرے۔
اس موقع پر مولانا اسلم سلطان صاحب صدر جمعیت علماء ضلع سنگاریڈی، مفتی عبدالصبور صاحب جنرل سیکرٹری جمعیت علماء سنگاریڈی، حافظ اکبر خازن جمعیت علماء سنگاریڈی، عبدالقدیر صاحب، مفتی عبدالباسط صدر جمعیت علماء کوہیر منڈل، مولانا سلمان آفاق جنرل سیکرٹری جمعیت علماء کوہیر منڈل، مولانا شوکت صاحب، عبدالرحیم،محمد اقبال کے علاوہ عبدالحنان جاوید سابقہ نمائندہ منڈل پریشد رکن، نوجوانان کوہیر عبدالمتین اسماعیل، محمد خضر اسلم، محمد عمران، محمد عاقب، شیخ یوسف، کے بشمول کوہیر مستقر کی مساجد کے آئمہ و موذنین کی کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔
