انوار الحسن وسطوی
 ریاست بہار میں سرکاری سطح سے اردو کے ساتھ ہو رہی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے 02/ اگست 2018ء کو روزنامہ قومی تنظیم, پٹنہ کے چیف ایڈیٹر اور ملک کے نامور صحافی جناب ایس ایم اشرف فرید صاحب کی رہائش گاہ "فرید ہاؤس” جامن گلی,بھنور پوکھر پٹنہ میں اردو ایکشن کمیٹی کی تشکیل دی گئی تھی, جس میں جناب ایس ایم اشرف فرید صاحب کو اس کمیٹی کا صدر بنایا گیا تھا اور ان کے اس انتخاب کے ساتھ چند مخلص اور تجربہ کار لوگوں پر مشتمل کمیٹی کی مجلس عاملہ بھی  تشکیل دی گئی تھی, جس میں پٹنہ سے باہر کے جن دو لوگوں کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا ان میں ڈاکٹر حبیب مرشد خان (بھاگلپور) اور ناچیز( انوار الحسن وسطوی) کے نام بھی شامل ہیں. اردو ایکشن کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اردو کی ترقی اور اس کے تحفظ یا اردو کے مسائل کے حل کے لیے قائم قدیم لسانی تنظیم انجمن ترقی اردو بہار گزشتہ بیس 20 برسوں سے غیر متحرک اور منجمد ہو کر رہ گئی ہے, جس تنظیم کی تحریک اور کاوشوں سے بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا تھا.آج یہ انجمن "ترقی اردو” کے بجائے "تنزل اردو” کےعمل میں مصروف ہے۔
 ایکشن کمیٹی تشکیل دینے اور بہار میں اردو کی لڑائی لڑنے کا مشورہ قافلہ سالارِ اردو پروفیسر عبدالمغنی مرحوم نے اس وقت دیا تھا جب وہ بستر مرگ پر جا چکے تھے۔ اس عالم میں انہوں نے یہ مشورہ بہار کے سینئر صحافی اور اردو کے قدیم تحریک کار ڈاکٹر ریحان غنی (پٹنہ) کو اپنا ایک یادگار انٹرویو دیتے ہوئے دیا تھا۔ پروفیسر عبدالمغنی اپنی کھلی انکھوں سے یہ دیکھ رہے تھے کہ اب ان کے بعد اردو کی لڑائی لڑنے کی جرأت اور ہمت کسی ایک اکیلے شخص کے اندر نہیں ہے۔لہذا اس کے لیے ایک ٹیم تیار کی جائے اور اجتماعی قیادت تیار کی جائے۔ شاید اس طریقے سے اردو کی لڑائی لڑی جا سکے گی۔پروفیسر عبدالمغنی صاحب نے اپنے اس تاریخی انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ ایکشن کمیٹی بنا کر حکومت سے بھی لڑا جائے اور ان اردو والوں سے بھی لڑا جائےجو اردو کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ بات اگست 2006ءکی ہے۔ پروفیسر عبدالمغنی صاحب کا انتقال پانچ ستمبر 2006 ء کو ہوا تھا اور انہوں نے یہ انٹرویو اپنے انتقال سے صرف دو ہفتہ قبل دیا تھا۔ ڈاکٹر ریحان غنی صاحب نے اس انٹرویو کو روزنامہ پندار پٹنہ میں نمایاں طور پر شائع کیا اور پھر اس انٹرویو کو پروفیسر عبدالمغنی پر لکھے اپنے مونو گراف (فرد نامہ)میں بھی شامل کیا۔ جسے اردو ڈائریکٹوریٹ،بہار نے ان سے لکھوایا تھا۔ پروفیسر عبدالمغنی صاحب نے ایکشن کمیٹی بنانے کا مشورہ تو 2006 میں دیا تھا لیکن اردو والے نے ان کے اس مشورے کو کوئی اہمیت نہیں دی حتی کہ تقریباً 12/ برس کا عرصہ گزر گیا اس لمبے عرصے میں بہار میں اردو کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ یعنی یہ سمجھا جائے کہ پانی سر سے اوپر چلا گیا تب اردو والوں کو لگا کہ عبدالمغنی صاحب کا مشورہ کیا تھا اور ہم لوگوں نے ان کے مشورہ پر کان نہیں دھرا، جس کا یہ انجام ہوا ہے ۔مشہور کہاوت ہے” جب جاگے تب سویرا "حالانکہ بہت دیر ہو چکی تھی۔ پھر بھی ایکشن کمیٹی دیر سے ہی صحیح تشکیل پا گئی۔جس کے نتیجے میں اردو آبادی کے درمیان اردو کا چرچہ ہونے لگا۔ یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ گزشتہ چھے برس کے درمیان ایکشن کمیٹی نے اپنی اردو تحریک کے ذریعے جہاں پوری ریاست میں اردو آبادی کو اپنی مادری زبان کے فروغ و اشاعت کے لیے بیدار کیا وہیں اردو کے دیرینہ اور زیر التوا مسائل کی جانب وقتاً فوقتاً  سرکار کی توجہ بھی مبذول کرانے کا فریضہ انجام دیا۔ بہار کے سابق وزرائے تعلیم کو اردو کے مسائل سے روشناس کرایا گیا۔جس میں کرشن نندن پرساد ورما اور  وجئے کمار سنہا کے نام شامل ہیں ۔
اردو ایکشن کمیٹی نے اردو آبادی کو بیدار کرنے کا بھی ایک بڑا کارنامہ انجام دیا۔گزشتہ برس 2023ء کے نومبر ماہ میں ایکشن کمیٹی کے بینر سے پورے بہار میں اردو بیداری ہفتہ کا انعقاد کیاگیا ۔ بالخصوص راجدھانی پٹنہ کے مختلف مقامات پر اردو بیداری اجلاس اور نکّر سبھائیں منعقد کی گئیں جن کے ذریعے اردو آبادی کی توجہ اردو کے مسائل کی جانب مبذول کرائی گئی۔ ہینڈ بل چھپوا کر اردو کے مسائل سے اردو آبادی کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ اردو کے کیا کیا مسائل ہیں اور ان کے  تدارک کس طرح کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اردو بیداری ہفتہ جس وقت منایا جا رہا تھا ایکشن کمیٹی کے صدر جناب ایس ایم اشرف فرید صاحب انگلینڈ کے سفر پر تھے اور وہ وہیں سے اس بیداری مہم کی مونیٹرنگ کر رہے تھے اور اپنے مفید مشوروں سے نواز رہے تھے۔ سوۓ اتفاق کہ کمیٹی کے جنرل سکریٹری جناب اشرف النبی قیصر بھی اس وقت عمرہ کے سفر پر تھے ۔ان دو اہم عہدیداران کی غیر موجودگی میں کمیٹی کے نائب صدر اور اس وقت کارگزار صدر کے فرائض انجام دے رہے ڈاکٹر ریحان غنی اس تاریخی مہم کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ اس اہم مہم میں ڈاکٹر انوار الہدی (سکریٹری) ریحان غنی صاحب کے دست راست کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کمیٹی کے جن دیگر اراکین نے اس مہم میں اپنی معاونت درج کرانے کا فریضہ انجام دیا ان میں جناب اسحاق اثر ،ڈاکٹر ثریا جبیں، شاہ فیض الرحمن، ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں۔ راقم السطور بھی تین دن تک اس مہم میں گرد راہِ سفر کے طور پر شامل رہا تھا۔ بیداری ہفتہ کا اختتامی اجلاس راجدھانی پٹنہ کے مرکزی مقام انجمن اسلامیہ ہال ،پٹنہ میں منعقد ہوا جس میں اردو ایکشن کمیٹی کی اس مہم کو تقویت بخشنے اور اپنی حمایت دینے کے لیے عوام کے ساتھ ساتھ خواص نے بھی بھرپور طور پر اپنی حاضری درج کرائی جس میں مختلف ملی تنظیموں ،مثلاً امارت شرعیہ ،ملی کونسل، جماعت اسلامی سمیت کئ دیگر چھوٹی بڑی تنظیموں کے عہدہ داران و ذمہ داران شامل تھے ۔اس تاریخی اجلاس کے انعقاد میں سنی وقف بورڈ کے فعال اور متحرک چیئرمین الحاج محمد ارشاد اللہ صاحب نے اہم کردار ادا کیا تھا‌۔اردو ایکشن کمیٹی نے اردو بیداری ہفتہ منا کر اردو والوں کو جگانے کا کام تو ضرور کیا لیکن سرکار سے جو مطالبات کیے گئے اس پر سرکار کی جانب سے مایوسی ہی ہاتھ آئی ۔ یہی سبب ہے کہ 2023ء میں اردو کے جو مسائل درپیش تھے وہ2024ء گزر جانے کے بعد بھی جیوں کے تیوں ہیں ۔بلکہ گذشتہ ایک سال کے درمیان مزید اور مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اردو ایکشن کمیٹی نے یہ خود محسوس بھی کیا اور اس کے لیے اگلا قدم یہ اٹھایا کہ اردو کے اہم دیرینہ زیر التوا مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لیے گزشتہ 25/ ستمبر 2024ء کو اردو ایکشن کمیٹی کا ایک مؤقر وفد کمیٹی کے صدر جناب ایس ۔ایم ۔اشرف فرید کی قیادت میں گورنر (سابق) بہار جناب راجندر وشنو ناتھ آرلیکر سے راج بھون میں ملاقات کی اور انہیں عرضداشت دے کر انہیں بہار میں اردو کے مسائل سے باخبر کیا اور ان مسائل کو حکومت سے حل کرانے کی گزارش کی۔اس وفد میں کمیٹی کے نائب صدر ڈاکٹر ریحان غنی ،جنرل سکریٹری ڈاکٹر اشرف النبی قیصر ،سکریٹری ڈاکٹر انوار الہدی اور رکن مجلس عاملہ ڈاکٹر ثریا جبیں شامل تھیں۔ گورنر صاحب موصوف نے مسائل کے حل کا وعدہ تو کیا لیکن وہ اپنی مدت میں وعدہ پورا نہیں کر سکے اور اب ان کا تبادلہ بھی کیرل میں ہو چکا ہے۔ ایکشن کمیٹی کے صدر جناب اشرف فرید صاحب سے میری مخلصانہ گزارش ہوگی کہ بہار کے نئے گورنر جو حسنِ اتفاق سے ایک اردو داں بھی ہیں اور بہت باصلاحیت اور قابلیت کے مالک ہیں۔ ان سے بھی وقت لے کر انہیں اردو کے مسائل کے تعلق سے ایک میمورنڈم دیں اور اردو کے مسائل کو ان کے روبرو رکھیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اردو ایکشن کمیٹی نے سابق گورنر کی یقین دہانی کے بعد بھی خاموشی اختیار نہیں کی اور آگے کا لائحہ عمل بھی تیار کیا ۔اس سلسلے کی ایک اہم میٹنگ گزشتہ 12/ نومبر 2024ء  کو "فرید ہاؤس” بھنورپوکھر  پٹنہ میں منعقد کی گئی جس میں کمیٹی کے اہم عہدیداران کے علاوہ مجلس عاملہ کے اراکین بھی مدعو کیے گئے تھے ۔بھاگلپور  سے ڈاکٹر حبیب مرشد خاں، گیا سے سید شاہ غفران اشرفی، نوادہ سے ڈاکٹر اعجاز رسول اور حاجی پور سے ناچیز (انوارالحسن وسطوی )بھی موجود تھا۔ اس اہم میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ اگر دسمبر 2024ء  تک سرکار نے ہمارے مطالبے پورے نہیں کیے اور اردو کو درپیش مسائل کا حل نہیں نکالا تو اردو ایکشن کمیٹی واقعی ایکشن میں آجائے گی اور اس کے لیے شہر پٹنہ میں آل بہار اردو کانفرنس کا انعقاد کرے گی جس میں وزیراعلی ،بہار اور گورنر، بہار دونوں کو مدعو کیا جائے گا اور ان کے سامنے اردو کے مسائل پر ان سے گفتگو کی جائے گی۔ اس مجوزہ اردو کانفرنس کے لیے فروری/ 2025ء  میں کسی مناسب تاریخ کا تعین کیا جائے گا جس کا فیصلہ جنوری 2025ء  میں ہی کر لیا جائے گا اور اردو آبادی کو یہ بات بتا دی جائے گی۔  بہار کی اردو آبادی کو اردو ایکشن کمیٹی، بہار کے اس ارادہ اور عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جانا ہے۔
 چند باتیں اردو کونسل کے تعلق سے کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ اردو کونسل بھی اردو کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل رہی ہے جس طرح اردو ایکشن کمیٹی سرگرم عمل ہے۔ نظریات کا فرق کوئی غلط بات نہیں ہے۔ ہر زمانے میں یہ ہوتا رہا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مہاتما گاندھی کا نظریہ کچھ اور تھااور سبھاش چندر بوس کا کچھ اور۔ لیکن دونوں کا مقصد ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانا تھا۔اگر اردو ایکشن کمیٹی اور اردو کونسل کو اس کسوٹی پر پرکھنے کے لیے مجھے کہا جائے تو  میں یہ کہوں گا کہ اردو ایکشن کمیٹی کا نظریہ گاندھی جی کے نظریے کے عین مطابق ہے اور اردو کونسل کا نظریہ سبھاش چندر بوس کے نظریے سے مشابہت رکھتا ہے.کسی بھی تنظیم کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ دوسرے کے طریقہ کار پر انگلی اٹھائے۔ ورنہ یہ غلط  ہوگا۔
 خوشی کی بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی بھی تنظیم کے لوگ سرکار سے کوئی عہدہ پانے کے لیے یہ تگ و دو نہیں کر رہے ہیں بلکہ خدمتِ اردو کے جذبے سے اپنی کاوشوں میں مصروف ہیں۔ اردو کونسل کے صدر جناب شمائل نبی صاحب اب عمر کی اس منزل میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کسی عہدے  کی تمنا اور لالچ کے ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ جہاں تک اردو ایکشن کمیٹی کے صدر جناب ایس ۔ایم۔ اشرف فرید صاحب کا تعلق ہے تو میں  دعویٰ کے ساتھ یہ  کہہ سکتا ہوں کہ انہیں بھی کسی سرکاری عہدے کو پانے کی قطعی کوئی لالچ نہیں ہے اگر موصوف ایم ایل سی بننا چاہتے تو وہ آج سے 20/ 25 سال قبل ہی ایم ایل سی بن جاتے .جب لالو رابڑی کی حکومت کا زمانہ تھا۔نتیش کمار کے زمانے میں بھی ایم ایل سی بننا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا جب ایرے غیرے  لوگ ایم ایل سی ہو سکتے ہیں تو اشرف فرید صاحب تو ایک ایسے اخبار (قومی تنظیم)  کے مالک اور چیف ایڈیٹر ہیں ۔ جن  کا اخبار بیک وقت بہار کی راجدھانی پٹنہ ،جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی اور اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو سے شائع ہو رہا ہے۔ اشرف فرید صاحب کا شمار ملک کے نامور اردو صحافیوں میں ہوتا ہے انہیں ملک کے کئی اہم صحافتی ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ انہیں قریب سے جاننے والے  بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی کسی عہدے کی خواہش نہیں ظاہر  کی اور عہدہ حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی، ورنہ وہ ضرور کوئی سرکاری عہدہ پا لیتے، عہدہ حاصل کرنے کے تعلق سے اگر کوئی ان کی بے لوث کاوش پر انگشت نمائی کرتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک طرح کا ان پر الزام تراشی ہے اور ان کی کردار کشی کے مترادف ہے۔
 انداز بیاں گرچہ بہت شوخ  نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے