محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک ۔
’’اسلامی اجتماعیت میں داخل ہونا بڑی بات ہوگی ‘‘ یہ بات عبداللہ احمد کے ذہن میں بیٹھی ہوئی تھی، کس نے یہ بات کہی تھی انہیں یاد نہیں رہامگر ذہن باربار یہ سوچتاتھا۔ عمر کی 50بہاریں دیکھنے کے بعد بھی وہ اسلامی اجتماعیت کی جانب راغب نہیں ہوئے تھے لیکن جب شہر میں ’’کارکن سازی مہم‘‘ شروع ہوئی تو وہ بھی اسلامی اجتماعیت کے کارکن بننے میں دلچسپی لینے لگے۔ فارم وام بھرناتھا۔ فارم پر کردیاگیا۔ مقامی مسجد کے ہفتہ واری اجتماع میں آنے کے لئے کہاگیا اوریہ بھی کہاگیاکہ روزانہ بعدنماز ِ فجر درسِ قرآن ہواکرتاہے ۔ا س میں بھی شریک رہیں۔ تیسرا اور اہم کام تھا شہر کی ایک مسجد میں ہونے والے اجتماع میں شرکت ۔
تینوں کام وہ دلچسپی اور لگن سے کرتے رہے۔فائدہ تینوں کام سے ہورہاتھا۔ اسلامی اجتماعیت اور مسلمانوںسے متعلق نئے نئے نکتے ان کے ذہن میں بیٹھ رہے تھے۔ گھر کے اندر موصوف نے کافی بدلاؤمحسوس کیا۔ اہلیہ اور بچوں نے بھی والد کوبدلتاہوادیکھاتواس کااثر گھر پر ہوا۔ بچے بہت کم موبائل دیکھتے تھے۔ والد کی آمدکے ساتھ ہی چڑی مڑی غپ چپ والامعاملہ گھر میں دیکھنے کومل رہاتھا۔ پہلے ایسی بات نہیں تھی ۔ بچے گانا بھی گالیتے تھے لیکن اب والد کے سامنے گانا گانے سے گریز کرنے لگے۔
پھر انھوں نے گھر یلو اجتماع شروع کردیا۔ عبداللہ احمد بہت کم بولتے تھے لیکن اجتماعات میں شریک ہونے کے بعد دل سے آواز آنے لگی کہ انھیں بھی قرآن اور احادیث مبارکہ سے ملنے والی تعلیمات کو سبھی تک پہنچانے کیلئے بولنا چاہیے۔تب انھوں نے اپنے مکان کے گھریلو اجتماع سے بولنے اور تقریر کرنے کاآغاز کیا۔
  گھریلو اجتماع میں بچوں نے بھی دلچسپی لی ۔ عبداللہ احمد کی اہلیہ نے کچھ زیادہ ہی دلچسپی لی تو انھوں نے اہلیہ کو خواتین کے اجتماع میں جانے کو کہا۔ وہ خوشی خوشی خواتین کے اجتماع میں شرکت کرنے لگیں۔ نئی نئی خواتین اور نئی نئی سہیلیوں کی بدولت ان میں بھی تبدیلی آگئی۔ کپڑے فیشن ایبل پہنتی تھیں اب انھوں نے مناسب اور اسلامی ثقافت کے مظہر کپڑوں کوسلانے اورپہننے لگیں۔ عبداللہ احمد صاحب نے اہلیہ کو اس رنگ میں دیکھا تو اور بھی مسرت ہونے لگی۔ انہیں لگاکہ تبدیلی آرہی ہے۔
دونوں لڑکیوں میں سے بڑی لڑکی بی ایس سی کررہی تھی جبکہ چھوٹی پنجم میں تھی (دولڑکے بھی انہیں اللہ نے دے رکھے تھے)۔ عبداللہ احمد کی اہلیہ نے بڑی لڑکی پر زور دیاکہ اس کو بھی اجتماع میں شریک ہونا چاہیے ، کافی اچھی باتیں بتائی جاتی ہیں۔ میری تو اب سمجھ میں آرہاہے کہ اسلام کیاہے ؟بڑی لڑکی نے بھی اجتماع میں شرکت شروع کردی ۔وہ پہلے سے ایک سنجیدہ لڑکی تھی۔ اجتماع میں آنے والی کسی خاتون کواچھی لگی تو رشتہ مانگ لیا اوردیکھتے ہی دیکھتے شادی بھی ہوگئی۔
  عبداللہ احمد کی کایاپلٹ اس وقت ہوئی جب انہیں تقریر کرنے کے لئے کہاگیا۔ عنوان ’’اسلامی اجتماعیت کے فوائد‘‘ دیاگیاتھا۔عبداللہ احمد نے اس عنوان کونبھانے کے لئے 25سے زیادہ کتابیں پڑھیں اور جب تقریر کی تو سبھی عش عش کراٹھے ۔ انھیں بھی احساس ہواکہ ان میں ا یک مقرر ، ایک داعی اور ایک واعظ چھپا بیٹھاہے۔ پھر تو وہ اپنی عمدہ تقاریر کے لئے مشہور ہوگئے۔ یہاں سے ان کی اڑان دور تک ہوئی ۔
وہ اب پیچھے پلٹ کردیکھتے ہیں تو لگتاہے کہ سابقہ پانچ سال میں کافی کچھ بدل گیاہے۔ میں بدل گیا۔ اہلیہ بدل گئیں ، بچے بدل گئے الحمد للہ ۔پھر انھوں نے معاشرہ کی طرف نظر ڈالی تو مایوسی ہوئی کہ معاشرہ کل جہاں تھا ، وہیں ہے۔بلکہ پانچ سال میں مسلم معاشرہ تنزلی کااور بھی شکار ہواہے۔
نئے سال کی تقریبات بڑھ گئی ہیں۔ کیک کاٹ کر یومِ پیدائش ، دوکان کا افتتاح ، شادی کی سالگرہ منانا عام ہے۔آپسی میل جول کے دوران سلام اور آداب کے بجائے گڈ مارننگ اور نمستے کاچلن بھی ہے ۔اگر السلام علیکم کہہ بھی دیں تب بھی صبح بخیر(یعنی گڈمارننگ کا اردوترجمہ) واٹس ایپ میں تحریری طورپر وائرل ہوتارہتاہے۔  پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی میں کمی ہے۔رشتے ناطے ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں۔ بھائی بھائی سے لڑرہاہے۔ بہن بھائی کے خلاف کیس دائر کرچکی ہے۔ بہت سارے گھروں میں بہنوں کاحق بھائی نہیں دیتے ہیں۔ مسلمان سودی کاروباردھڑلے سے کرتے ہیں(کل بھی کرتے تھے لیکن عبداللہ احمد کو آج احساس ہورہاتھا) شہر میں ٹاپ 10سودی کاروباریوں میں 4مسلمان ہیں۔ سودی کوآپریٹیوسوسائٹیاں بھی ہیں جو مسلمان چلاتے ہیں۔ شراب کے کاروبار میں بھی مسلمان ملوث ہیں۔ برادرانِ وطن سے کاروباری اور سیاسی تعلق ضرور ہے لیکن اسلام تعلیمات کے حوالے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام کے بارے میں مسلمان کوئی بات برادرانِ وطن کو نہیں بتاتے ہیں۔ اوربرادرانِ وطن کی پوائنٹ ون فیصد آبادی تک بھی قرآن مجید اور احادیث مبارکہ نہیں پہنچائی گئی ہیں اور آئندہ کاکوئی منصوبہ بھی اس شہر کے مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔
اور سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ 4لاکھ کی جملہ آبادی والے شہر میں مسلمانوں کی آبادی قریب دیڑھ لاکھ ہے اور ان میں 10ایسی شادیاں حال ہی میں ہوئی ہیں ، جس میں لڑکی مسلمان ہے اور لڑکابرادران ِوطن سے ہے اور یہ تمام شادیاںمسلم والدین کی مرضی کے خلا ف ہوئی ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں میں115سے زائد کیسز ایسے ہیں جن میں طلاق ہوچکی ہے لیکن مطلقہ خواتین اپنے سابقہ شوہروں سے نان ونفقہ طلب کررہی ہیں۔ پچھلے پانچ سال میں 200خلع اور 500طلاق سے مسلمانوں کامعاشرہ کمزور ہوتانظر آرہاہے۔دوہزار سے زائد طلاق اور خلع کے تنازعات عدالت میں زیردوران ہیں یاپھر جس کے لئے  قاضی صاحب کے پاس درخواست جمع کی جاچکی ہے۔ اسی درمیان آپسی رنجشوں کی بناپرایک خاتون سمیت 10مسلمان قتل ہوچکے ہیں جبکہ برادرانِ وطن میں قتل کی تعداد 80تک پہنچی ہوئی ہے۔چھوٹے موٹے مسلم سیاست دان برادران ِ وطن کی گنیش پوجا اور دیگر پوجاؤں میں شامل رہتے ہیں بلکہ چند ایک باقاعدہ پوجابھی کرتے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ علمائے کرام اس شرکیہ عمل کوروکنے کے لئے کیاکررہے ہیں، اس سے عبداللہ احمد نابلد تھے ۔
یہ سب چیزیں یادکرکے ایک دن تہجد کے وقت عبداللہ احمد روپڑے ۔معاف کردے ہمیں مولیٰ ، معاف کردے ۔پروردگار، ہمارے تغافل کوختم کردے اور اسلام کابول بالا فرمادے۔ کام بہت تھا۔ سبھی تک اسلام پہنچاناتھا ۔عبداللہ احمد کو لگ رہاتھاکہ ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں میں سے 10؍ہزار مسلمان بھی اگر اسلام پہنچانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں توچار لاکھ انسانوں میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اتنا سوچناتھاکہ عبداللہ احمد کے اندر ایک طاقت سی آ گئی ۔ وہ 10ہزار افراد کانشانہ بناکر پھر ایک بار کام کیلئے کمر بستہ ہوگئے، ان کے دونوں فرزندان بھی ان کے ساتھ تھے۔انھیں لگ رہاتھاکہ وہ اس نشانے کو ضرور پارکرلیں گے۔
رب کریم کااحسان ہے کہ مسافر کے سفر کاآغاز ہوچکاہے ۔ ہوسکے تو اس مسافر کی کامیابی کے لئے دعا کردیاکریں ۔عوامی دعائیں کافی پراثر ہوتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے