افسانہ نگار: ابوشحمہ انصاری
سعادتگنج، بارہ بنکی
رات کی سیاہی گہری ہو رہی تھی، اور آسمان پر چھائے بادل چاند کی روشنی کو نگل رہے تھے۔ ہوا میں خزاں کی ٹھنڈک تھی، مگر اس کی آنکھوں میں موسم کا اثر نہیں تھا۔ اس کے کمرے کی کھڑکی کھلی تھی، اور باہر سے سرد ہوا کے جھونکے پردوں کو ہلکا سا جھنجھوڑ رہے تھے۔ وہ ایک پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھی تھی، ہاتھ میں ایک تصویر تھامے۔ یہ تصویر اُس کی ماں کی تھی، جس کی مسکراہٹ میں سکون تھا مگر آنکھوں میں ایک چھپا ہوا درد۔
عائشہ کی زندگی کے غموں کی کہانی اُس دن سے شروع ہوئی تھی جب اُس کی ماں بیمار ہوئی۔ کینسر کی تشخیص نے جیسے گھر کی خوشیوں کو مات دے دی۔ ماں کی مسکراہٹ دن بہ دن مدھم ہو رہی تھی، اور عائشہ کے دل میں خوف گھر کرتا جا رہا تھا۔ اُس کے والد نے بہت کوشش کی، علاج کروانے کے لیے اپنی ہر ممکنہ جمع پونجی لگا دی، مگر قدرت کا فیصلہ اٹل تھا۔
ماں کے جانے کے بعد عائشہ کی زندگی جیسے ایک خلا میں بدل گئی۔ ہر طرف خاموشی، ہر کونا تنہائی سے بھر گیا۔ والد نے بھی اُس کا غم بانٹنے کی بہت کوشش کی، مگر وہ خود اندر سے ٹوٹ چکے تھے۔ عائشہ نے اپنی پڑھائی میں دل لگانے کی کوشش کی، لیکن کتابوں کے صفحے اُسے بےجان لگتے۔ وہ ہر وقت سوچتی، "اگر ماں یہاں ہوتی تو سب کچھ کتنا مختلف ہوتا۔”
وقت گزرتا گیا، مگر غم کم نہ ہوا۔ عائشہ کی دوستیں اُسے ہنسانے کی کوشش کرتیں، لیکن اُس کے چہرے پر مسکراہٹ آتے ہی غائب ہو جاتی، جیسے اُس کے دل کی تاریکی اُسے نگل لیتی ہو۔ وہ اپنے والد کو دیکھتی تو اُن کی آنکھوں میں ماں کی یادوں کا عکس واضح نظر آتا۔ کبھی کبھی وہ سوچتی، "کیا ہم دونوں کبھی اس غم سے نکل پائیں گے؟”
ایک دن، جب آسمان پر وہی بادل چھائے ہوئے تھے، عائشہ نے ماں کی ڈائری اٹھائی جو اُس نے آخری وقت میں لکھی تھی۔ اُس کے صفحات پر سادہ الفاظ میں محبت اور حوصلے کے پیغام تھے۔ ایک جگہ لکھا تھا:
"عائشہ، زندگی میں غم ہمیشہ ساتھ رہے گا، مگر خوشیوں کو تلاش کرنا تمہارا کام ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم میری یاد میں اداس ہونے کے بجائے اُن خوابوں کو پورا کرو جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔”
اُس رات عائشہ نے پہلی بار اپنی ماں کی بات کو دل سے سمجھا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی کو بوجھ کے طور پر نہیں، بلکہ ماں کی یاد میں ایک مقصد کے ساتھ گزارے گی۔ اُس نے اپنی پڑھائی میں محنت شروع کی اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی۔
غم ہمیشہ اُس کے دل کے ایک کونے میں رہا، لیکن اب وہ اُس غم کو اپنی طاقت بنا چکی تھی۔ اُس نے جان لیا تھا کہ زندگی غم اور خوشی کا امتزاج ہے، اور ہر ایک کے حصے میں اپنا اپنا بوجھ ہوتا ہے۔ ماں کی مسکراہٹ اُس کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہی، اور وہ مسکراہٹ اُس کے لیے زندگی کا سب سے بڑا سہارا بن گئی۔
