مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی
استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی کا حادثہ وفات علمی و ادبی حلقوں کا بڑا خسارہ ہے ، وہ علمی دنیا میں اپنی کاوشوں اور کوششوں کی وجہ سے جانے جاتے تھے ،ان کی شخصیت کے متعدد پہلو ہیں ، ایک تدریسی زندگی ، ایک تصنیفی زندگی ایک دعوتی واصلاحی زندگی ،جہاں تک ان کی تدریسی زندگی کا تعلق ہے تو لکھنؤ کے مدرسہ عالیہ عرفانیہ میں انہوں نے کئی دہائیوں تک تدریسی خدمات انجام دیں اور علماء وفضلاء کی ایک نسل تیار کردی ، مولانا کے پڑھایے ہویے فضلاء میں آج کچھ متعدد اداروں کے ذمہ دار ہیں اور کچھ یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمت انجام دے رہے ہیں اور کچھ ملک کے باہر اہم مناصب پر ہیں ۔
مولانا نے اپنی زندگی کے آخری دور میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریسی خدمت انجام دی جن میں سنن ابوداؤد اور شمایل ترمذی اور فکر اسلامی جیسے موضوعات آپ کے زیر تدریس رہے ، آپ نے ندوہ کی شعبۂ دعوت میں اصول الدعوہ اور الغزو الفکری پڑھایا ۔ طلباء آپ کے انداز تفہیم سے نہ صرف یہ مطمئن تھے بلکہ ان کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے ۔
مولانا جعفر مسعود حسنی کی زندگی کا دوسرا پہلو تصنیفی ہے ، اس زندگی میں انہوں نے کتابوں کی بڑی تعداد تو نہیں چھوڑی ، لیکن جو کچھ بھی لکھا وہ ماقل ودل مصداق ہے اردو زبان ان کی ایک کتاب ’’دعوت فکرو نظر ‘‘ہے جو ان کے اصلاحی ، ادبی ، دینی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس میں ان کا اسلوب مولانا دریابادی کی تصویر نظر آتا ہے ،چھوٹے چھوٹے جملے ،ترشی ہوئی تعبیر ، نہ مشکل وادق عبارت نہ گنجلک اور پیچیدہ ترکیب ، اردو زبان میں ان کا یہ مجموعہ پڑھیے تو ایسا محسوس ہوتا کہ کوثر وتسنیم سے دھلی ہوئی زبان ہے اور وہ اس کے قصر معلی کے صنعت گر اور پیکر تراش ہیں ،ان کے اس امتیاز کے شہادت کتاب کے مقدمہ نگاروں نے دی ہے ۔
مولانا کی دوسری کتاب اخی العزیز(پانچ سو صفحات بزبان عربی ) ہے ۔ یہ ان کے الراید میں شایع شدہ عربی مضامین کا مجموعہ ہے ۔ مختصر الفاظ میں سبق آموز اورمواد سے پر مضمون ہے اور ان کی عربی دانی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے ۔ یہ دونوں کتابیں دار الرشید لکھنؤ سے شائع ہوئی ہیں ۔ ان کے علاوہ مولانا نے کئی کتابوں کے اردو سے عربی ترجمہ کیے ہیں۔ جن میں کاروان زندگی ایک جلد ۔ سوانح مولانا یوسف کاندھلوی اور سوانح مولانا محمد زکریا کاندہلوی اور ’’بصایر ‘‘کا ترجمہ ہے ۔
دار الرشید کے قیام کے بعد اپنے والد کی کتابوں کی طباعت کے لیے عرض ناشر لکھا اور دانستہ مصور نے قلم‌ توڑ دیا کا مصداق ہے ۔ مولانا کی زندگی کا ایک پہلو دعوتی واصلاحی ہے ، وہ سوشل میڈیا اور براہ راست ذریعہ سے یہ کام انجام دے رہے تھے ۔ وہ ماموں بھانجے مسجد امین آباد درس قرآن بھی دیتے تھے ۔ اس کے ساتھ رمضان میں ان کادرس قرآن ہوتا تھا ۔ انہوں نے آخری پارے کی سورتوں کا انتخاب کیا تھا اور بڑی قیمتی معلومات سلیقہ سے اپنے درس میں کرتے تھے ۔ ادھر جب وہ ندوہ کے ناظر عام ہویے تو دعوتی واصلاحی جلسوں میں ندوہ کی ترجمانی کرتے ہوئے شرکت کرتے اور پر مغز خطاب کرتے ۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء میں انجمن الاصلاح کے جلسوں میں ان کا خطاب طلباء کے لیے پند ونصیحت کا مرقع ہو تا تھا ۔ ابھی اتوار کو انجمن الاصلاح معہد القرآن الکریم کے اختتامی جلسے کی صدارت کی اور خطابت وتقریر کے بنیادی اصولوں سے طلباء کو باخبر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک خطیب کے لیے تین باتیں ضروری ہے: ایک یہ سنجیدہ اسلوب میں بات کہی جایے ۔ کیونکہ گھن گرج کے ساتھ کی گیی باتوں کا اثر نہیں ہوتا ہے وہ صرف واہ واہ کی نظر ہوجاتی ہیں ۔ دوسرے یہ کہ ایک خطیب کےلیے ضروری ہے کہ اس کے قول وعمل میں جامعیت ہو ۔جو وہ کہتا ہو اس پر عمل بھی کرتا ہو ۔ تیسرے یہ کہ وہ ہر بات کو تحقیق واستناد کے ساتھ کہے ۔ بے بنیاد قصوں اور واقعات سے اپنی تقریر کو مزین نہ کرے ۔ یہ اور اس طرح کی بے شمار خوبیاں مرحوم کی زندگی میں تھیں ۔
اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائےاور درجات بلند کرے اور اعلی علیین میں جگہ عطا فرمایے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے