عتیق الرحمان الریاضی

استاذ کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج 17 جنوری 2025 کو خادم کلیہ سمیہ للبنات بلکڈیہوا نیپال محترم نظام الدین سلفی صاحب/ حفظہ اللہ کے ہمراہ ناچیز عتیق الرحمان الریاضی کا سڈا بازار پوسٹ پرسا سدھارتھ نگر بلہری کلاں, بلہری خورد, گیا نگر گاؤں کا بعد نماز جمعہ تا عصر وہاں کے مقامی علمائے کرام محترم محمد اقبال صاحب فیضی، حافظ شمساد اختر صاحب، حافظ نوشاد صاحب فیضی، مولانا امیر اللہ صاحب اثری/حفظہم اللہ کی معیت میں مختصر دورہ ہوا، چونکہ جمعہ سے پہلے ہی ناچیز عتیق اور نظام سلفی صاحب نے تین چار گھر کے لوگوں سے ملاقات کی، افسوس کہ سب پورے گھر والے نماز نہیں پڑھتے تھے، ہم نے انہیں نماز کی تلقین کی اور عصر بعد پھر ان سے ملاقات کی گئی، ماشاءاللہ بڑی خوشی ہوئی جب میاں بیوی اور ان کی چھوٹی بچی نے بڑی خوشی سے آگے بڑھتے ہوئے کہا مولانا صاحب ہم لوگوں نے نماز شروع کر دیا، اللہ سب کو استقامت بخشے اور بہت سارے لوگوں نے نماز پڑھنے کا وعدہ بھی کیا، ابھی مغرب بعد گیا نگر گاؤں کے شہزاد عالم صاحب سے میری بات ہوئی، ان کے بقول گاؤں کے لوگ بہت ہی پرجوش نظر آرہے ہیں اور نماز پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے مرد و خواتین عزم کر رہے ہیں کہ اب نماز نہیں چھوڑیں گے ان شاءاللہ۔ اللہ سب کو جزائے خیر دے اور دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔

ضلعی جمیعت اہل حدیث سدھارتھ نگر کے ذمہ داران سے میری خصوصی گزارش ہے کہ جہاں آپ لوگ ماشاءاللہ بہت سارا کام کر رہے ہیں، ہر طرح سے قوم کی خدمت میں لگے ہیں، ضروری ہے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر گھر گھر لوگوں سے ملاقات کرنے کا کوئی ایجنڈا تیار کیا جائے اور مستقل اس پر کام ہو، ان شاءاللہ اس سے لوگوں کے اندر بیداری اور تبدیلی آئے گی۔۔۔۔۔

اس علاقہ میں بدعتیوں اور بریلویوں کا بھی بول بالا ہے، لہذا یہاں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"و ذکر فان الذکری تنفع المومنین”

اور آپ نصیحت کیجئے اس لئے کہ نصیحت مومنوں کو فائدہ پہنچاتی ہے ۔

وعظ و نصیحت، دعوت و تبلیغ اور تذکیر کا فائدہ انسان کو ضرور پہنچتا ہے، انبیاء کرام علیہم السلام دعوت و تبلیغ میں مسلسل مشغول رہتے، دعوت کی دھن، لگن اور نتائج سے بے پروا ہوکر اس محنت میں مشغول رہنا اور حوصلہ شکن حالات میں بھی اپنی بات متواتر کہتے رہنا پیغمبرانہ دعوت کے بنیادی اصولوں میں سے ہے ۔۔۔۔

دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تعمیر کے فرائض انجام دینا انبیاء و رسل کے مشن کی تعمیل و تکمیل ہے، انبیاء کے وارث ہونے کی بنا پر علماء کی بہت بڑی ذمہ داری اور ان پر یہ ضروری ہے کہ دعوتی مشن میں اخلاص و للہیت، منہجیت و جامعیت اور پیغمبرانہ اسلوب و انداز اختیار کریں کہ اسی میں دعوتی تاثیر کا راز پنہاں ہے۔۔۔۔!

اللہ ہم تمام لوگوں کو تقوی کے لباس اور پاکیزہ اخلاق کے پھولوں سے مزین و آراستہ کرے، شہرت و نمود کے کانٹوں کو سر کا تاج بنانے سے ہماری حفاظت فرمائے، آمین۔

محترم احباب! "دین خیر خواہی اور بھلائی کا نام ہے”

لہٰذا ہمیں اپنے بھائیوں کی نفع رسانی و خیر خواہی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرتے رہنا چاہیے، اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کر کے نیکی کی راہ پر چلتے ہوئے ، غلط کاموں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے لوگوں کی اصلاح کی کوشش میں لگا رہے تو معاشرہ ہر طرح کی برائیوں سے محفوظ و مامون ہو جائے گا ۔۔۔۔!

اللہ تعالیٰ نے قوم مسلم کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لئے پیدا کیا، مگر آج کون سی برائی ہے جو ہم میں نہیں ہے, ہر برائی مسلمانوں کی پہچان بن گئی ہے۔ جس قوم کو دوسروں کی اصلاح کرنی تھی آج خود اس کا معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ آج اُسی کی اصلاح کی ضرورت ہے۔۔۔۔

میرے بھائی! ہر مسلمان اپنى اپنى جگہ مبلغ ہے, خواہ وہ زندگى کے کسى بھى شعبے سے تعلق رکھتا ہو , استاذ ہو یا طالبِ علم ، اما م ہو یا موذن، پرنسپل ہو یا ٹیچر ، خاص ہو یا عام۔۔۔۔!

الغرض جو بھی کوئی ہو ، جہاں بھی رہتا ہو اور جو بھی کام کاج کرتا ہو، رضائے الٰہى کے لىے اچھى نیتوں کے پىش نظر اپنى صلاحیت کے مطابق اپنے اردگرد کے ماحول کو اسلامی ساچوں میں ڈھالنے کے لىے اسے کوشاں رہنا چاہىے۔۔۔۔۔

ریاضت کے یہى دن ہىں بڑھاپے مىں کہاں ہمت

جو کچھ کرنا ہے آج کر لو، ابھى جواں تم ہو

 

  علمائے کرام سے دردمندانہ اپیل! 

آپ اپنے قرب وجوار کے گاؤں کا دورہ ضرور کریں، مرد و خواتین سے ان کے حالات معلوم کریں، ان کی پریشانیوں اور مسئلوں کا حل انہیں کی زبان میں بتائیں ۔

جلد ہی آپ کو احساس ہوگا کہ اس دعوتی واصلاحی دورے کی کتنی ضرورت واہمیت اور کتنے فوائد ہیں۔۔۔۔۔۔؟

قارئین محترم! علمائے کرام مثل چراغ ہوا کرتے ہیں جن سے قرب و جوار اور دور کے لوگ بھی روشنی حاصل کرتے ہیں اگر علماء نہ ہوتے تو لوگ اندھیروں میں ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔!

علمائے کرام در اصل انبیاء علیہ السلام کے سچے وارثین اور اسلام کے علمبردار ہیں، انہیں انبیاء سے علم کی وراثت ملی ہے جسے وہ اپنے سینوں میں اٹھائے ہوئے ہیں نیز وہ لوگوں کو اس کی دعوت دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

لہذا ہر حال میں ان کا احترام کیا جائے ان کی عزت و تکریم کی جائے ان سے دلی محبت و لگاؤ پیدا کیا جائے۔۔۔،

بلاشبہ علماء معاشرے میں بہترین سلوک کے حق دار ہیں۔ عوام النّاس کا یہ فرض ہے کہ علمائے کرام کی علمی اور دینی خدمات کے پیشِ نظر ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں

ان پر اعتراض کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں، ان کی توہین و تنقیص سے بچیں کیونکہ علماء اگر مطعون و کمزور ہوں گے ان کی باتوں کا اعتبار ختم ہوگا تو اسلام کا پرچم بھی سرنگوں ہوگا۔۔۔۔۔۔ !!!

برادران اسلام! دینی کاموں اور دین کی خدمت میں آگے بڑھیں ، جس شعبے میں بھی آپ کام کر سکتے ہیں کام کریں لیکن کچھ نہ کچھ ضرور کریں ۔۔۔۔۔

زبان و قلم کے میدان میں آگے بڑھیں ، مال خرچ کر سکتے ہیں تو مال خرچ کریں ، میڈیا کے محاذ پر کام کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اس میں حصہ لیں ، جو آپ کر سکتے ہیں وہی کریں ، لیکن دینی جدوجہد میں خاموش تماشائی نہ بنیں ۔۔۔۔۔۔۔

کوئی شخص کام کر رہا ہے اس کی حوصلہ افزائی بھی کریں اس سے قوت پیدا ہوگی اور باہمی اعتماد پیدا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اور سب سے اہم گذارش یہ ہے کہ علمائے کرام اور دینی حلقے جہاں جہاں کام کر رہے ہیں اخلاص و للہیت سے کریں ، ایک دوسرے کے علم و تجربات سے استفادہ کریں ، باہمی میل جول بڑھائیں ۔۔۔۔۔

ہم جو کام کر رہے ہیں باہمی مشاورت و تقسیم کار کے ساتھ صحیح طریقے سے منظم اور مربوط کر لیں تو ہمارے موجودہ کام کی افادیت میں حیرت انگیز اضافہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔!

میرے بھائیو! وقت تیزی سے گزر رہا ہے ، ضرورت ہے اپنے آپ کو بدلنے کی ، اپنی رفتار کو تیز کرنے کی اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ اپنی زبان اور اپنے اخلاق و کردار سے عام کرنے کی۔۔۔۔۔۔

آؤ کہ دین کی خدمت واشاعت میں محنت کریں، تبلیغ کا انداز نرالا کرلیں، ہم سب متحد ہوکر اللہ کے کلام کو گھر گھر اور دروازے دروازے تک پہنچائیں۔۔۔۔۔۔

اے دین کے علم بردارو! اللہ کے واسطے اپنی کاوشوں سے، اپنی دن رات کی محنتوں سے اللہ کی راہ میں جدو جہد کرو ، اسلام کی صحیح تصویر پیش کرو ، پوری مستعدی کے ساتھ کوشاں رہو۔۔۔۔۔۔

یاد رکھو کہ اللہ ہر چیز سے با خبر ہے ، اس کا کیمرہ ہمیشہ آن ہے ، وہ سب جانتا ہے۔۔۔۔ دلوں کے حال کو، دھڑکنوں کی رفتار کو ، ہمارے تمام اعمال کو۔۔۔۔۔!

آج زندگی کی کتاب میں جو لکھنا چاہو، جیسا لکھنا چاہو۔۔۔ آزاد ہو؛ مگر یاد رہے کہ کل جب اللہ کے سامنے ہمارا رجسٹر کھلے تو ہمیں شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔۔۔۔۔!

دعا ہے کہ اللّٰہ ہم سب کو دین کا داعی اور انبیاء کرام کا حقیقی وارث بنائے، اللہ تعالی ہم سب کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔

    تمہاری ضرورت ہے انسانیت کو

      ہواؤں کی صورت فضاؤں میں بکھر کر

      سجا دے تو انسانیت کا یہ گلشن

      چمن میں تو پھولوں کی مانند بکھر کر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے