بیدر۔ 22؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): آج چہارشنبہ 22؍جنوری کواطلاع ملی کہ ڈاکٹر تابش مہدی رب العالمین سے جاملے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔اُن کی نماز جنازہ دہلی کے شاہین باغ کے قبرستان میںبعدنماز عصر اداکی جائے گی۔ ڈاکٹر تابش ؔمہدی کے انتقال کے ساتھ ہی اسلامی ادب کے ممتازومعروف شاعروادیب اور محقق کا ایک باب بند ہوگیا۔اسلامی ادب کی صفوں میںسناٹا صاف طورپر محسوس کیاجاسکتاہے۔ ڈاکٹر تابش مہدی نے جو کچھ لکھاوہ ان کے لئے ثواب جاریہ بنارہے گا۔ ڈاکٹر تابش ؔمہدی کے مزاج میں ہرقسم کی آمیزش تھی۔ کبھی ٹھنڈا مزاج ، کبھی تھوڑا ساگرم اور کبھی زائد اورکبھی خشکی مائل۔ ان کی تحریریں بھی ان کے مزاج کے اعتبار سے سامنے آیا کرتی تھیں۔

 

یہ باتیں معروف ادیب وشاعر جناب محمدیوسف رحیم بیدری نائب صدر ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک نے کہیں۔ انھوں نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے بتایاکہ ڈاکٹر تابش ؔمہدی ادب کے ساتھ ساتھ تعلقات عامہ کے فن میں ماہر تھے۔ بڑوں سے تعلقات توتھے ہی لیکن مجھ جیسے کونے کھدرے میں رہنے والے شخص سے بھی وہ کبھی کبھار فون پر خود ہی بات کرتے تھے اور خیریت دریافت کرتے تھے۔ دنیا بھر میں مشاعرے پڑھنے کا انھیں خیال بھی رہا کرتا تھا۔ وہ مترنم لہجے میں شعر پڑھتے تھے۔ دہلی کے تمام ادبی حلقوں میں ان کی رسائی تھی اور انہیں ایک بزرگ شاعر کے طورپر جاناجاتاتھا۔ وہ محقق سے زیادہ بطورِ شاعر معروف رہے۔ عمربھر ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کی پہلی صف میں شامل رہے اور آج اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کے حق میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلندفرمائے ۔ اور جنت الفردوس عطا کرے۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے