مجیب الرحمٰن بن فضل الرحمٰن

نگر پنچایت اٹوا سدھارتھ نگر

ہمارا ملک 15 اگست کو آزاد ہو گیا تھا لیکن ہندوستان کا دستور نہیں بدلا تھا۔ آزادی کے ابتدائی دور میں حکومت اسی آئین کے تحت چلتی رہی جو انگریزوں نے مرتب کیا تھا۔ 26جنوری1950میں نۓ دستور ہند کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق ہندوستان کو ایک جمہوری حکومت قرار دیا گیا۔ یہ دن ہمارے ملک کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن مانا جاتا ہے، کیونکہ 26 جنوری کو ملک نے پوری طرح سے انگریزوں کے اثر سے آزاد ہوکر خود اپنی حکومت کے قوانین مرتب کۓ اور جمہوری نظام کو اپنایا۔

اس اہم دن کی یاد تازہ کرنے کے لۓ پورے ملک میں 26 جنوری کو بڑی شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ لیکن دہلی میں جو کہ ملک کی راجدھانی ہے اس عظیم دن کو منانے کا اتنا شاندار اہتمام کیا جاتاہے کہ دور دور سے لوگ اسے دیکھنے کے لۓ دہلی پہنچے ہیں۔ 26 جنوری منانے کی تیاریاں دہلی میں مہینوں پہلے سے شروع ہو جاتی ہیں۔ جوں جوں دن قریب آجاتاہے تیاریوں میں زور وشور پیدا ہو جاتا ہے۔انڈیا گیٹ کے آس پاس دور تک لوگوں کے بیٹھنے اور دیکھنے کے لۓ احاطے بنا دیئے جاتے ہیں۔ سڑکوں اور ٹریفک کا انتظام اس طرح کیا جاتا ہے کہ جلوس کے گزرنے میں رکاوٹ نہ آنے پاۓ۔ جن سڑکوں سے جلوس کو گزرنا ہوتا ہے وہاں راستے میں دور تک قومی جھنڈے نصب کۓ جاتے ہیں۔ لوگ 26 جنوری کی رات سے ہی ان سڑکوں اور مکانوں کے قریب جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں جہاں سے جلوس کو گزرنا ہے۔ انڈیا گیٹ کے میدان میں بھی لوگ پہلے سے آکر سامنے کی جگہیں گھیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔البتہ خصوصی مہمان یا وہ لوگ جن کے پاس اجازت نامہ ہوتا ہے جگہ کے لۓ اتنے پریشان نہیں ہوتے کیوں کہ ان کے لۓ جگہ کا انتظام رکھا جاتا ہے۔ 26 جنوری کا پروگرام صبح سے پہلے صدر کو سلامی دے کر شروع کیا جاتا ہے۔ صدر کو سلامی دینے کے لۓ بری بحری اور ہوائی فوج تینوں کے دستے اپنی اپنی یونیفارم میں بڑی شان سے آتے ہیں اور دیکھنے والوں کو ہندوستانی فوج کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔ سلامی لینے کے بعد صدر ان لوگوں کو انعامات دیتا ہے جنہوں نے جنگ میں بہادری اور ذاتی قربانی کے غیر معمولی کارنامے انجام دۓ ہیں جنہوں نے سائنس ادب کھیل کود یا زندگی کے کسی بھی شعبے میں نمایاں خدمت انجام دی ہیں۔انعامات تقسیم کے بعد صدر راسٹرپتی بھون چلے جاتے ہیں اور 26 جنوری کا جلوس لال قلعے کی سمت روانہ ہو جاتا ہے۔ اس جلوس کی شان وشوکت اور سجاوٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ سب سے پہلے بری بحری اور ہوائی فوجوں کے جوان شان کے ساتھ مارچ کرتے ہوۓ بڑھتے ہیں۔اس جلوس کے ساتھ توپوں اور مشین گنوں سے لیس گاڑیاں اور ٹینک بھی گزرتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر ہندوستان کی جنگی قوت اور طاقت کا احساس ہوتا ہے۔ جلوس کے اوپر فضا میں طیاروں اور لڑاکا جہازوں کی اڑان سے عجیب سماں بندھ جاتاہے۔ اس جلوس کی اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ بیچ بیچ میں ملک کے مختلف صوبوں کی جھانکیاں سجا کر پیش کی جاتی ہیں۔ 26 جنوری کی شام کا منظر بھی کم دلکش نہیں ہوتا۔ تمام راجدھانی کسی دلہن کی طرح سجی ہوئی نظر آتی ہے۔ تمام سڑکوں اور سرکاری عمارتوں پر روشنی کی جاتی ہے اور رنگ برنگی آتش بازیاں چھوڑی جاتی ہیں۔26 جنوری کی سجاوٹ اور شان وشوکت دیکھنے والوں کو دلچسپی کا سامان ہی نہیں فراہم کرتی بلکہ ان کے دلوں میں ملک کی آزادی کو برقرار رکھنے کی امنگ بھی پیدا کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے