- اگر بجٹ میں علاقہ کلیان کرناٹک کو نظر انداز کیا گیا تو مرکزی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کا انتباہ
بسوراج دیشمکھ، ڈاکٹر لکشمن دستی،پروفیسر آر کے ہڑگی، ڈاکٹر ماجد داغی، بسواراج کمنور،پرتاب سنگھ تیواری و دیگر کی پریس کانفرنس
کلبرگی 27 / جنوری (ڈاکٹر ماجد داغی): ملک کا پسماندہ ترین علاقہ کلیان کرناٹک کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی مراعات کے تحت مرکزی حکومت نئی اسکیموں کا اعلان کرے اس بات کا مطالبہ شری بسواراج دیشمکھ اعزازی صدر کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی اور صدر سمیتی ڈاکٹر لکشمن دستی، نائب صدر ڈاکٹر ماجد داغی،پروفیسر آر کے ہوڑگی، پروفیسر پرتاب سنگھ تیواری سمیت دیگر عہدیداران نے کیا انہوں نے شکایت کی کہ حکومت ہند نے آئین کے آرٹیکل 371 (جے) میں ترمیم کے ذریعے خصوصی مراعات کا درجہ تو دیا مگر عملاً وہ اس علاقے کے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے. کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی مودی حکومت کے قیام سے تاحال گزشتہ 11 برسوں سے مرکزی حکومت پر کلیان کرناٹک کے ساتھ مسلسل ہو رہی نا انصافی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں. انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر مرکزی حکومت آنے والے بجٹ میں ایک بار پھر ہمارے علاقے کو نظر انداز کرتی ہے تو سمیتی اس کے لئے پہلے ہی سے ایک فیصلہ لے چکی ہے اور مرکز کے سوتیلے ماں کے رویے کے خلاف بیداری مہم چلا کر مستقل اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے جدوجہد کا آغاز کرے گی۔ کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے جنوری کے دوسرے ہفتے میں دانشوروں کا اہم اجلاس منعقد کی تھی اور کلبرگی لوک سبھا رکن رادھا کرشن دوڈمنی کے ذریعہ مرکزی حکومت کو 13 مطالبات پر مشتمل ایک تجویز بھی پیش کی تھی۔ انہوں نے وزیر اعظم سمیت سات مرکزی وزراء کو سمیتی کے ذریعہ پیش کردہ 13 مطالبات کی تائیدی مکتوب تحریر کیا ہے، جس میں کلیان کرناٹک کے اہم مسائل کو حل کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے ذریعہ پہلے سے اعلان کردہ اسکیموں کو نافذ کرنے اور نئے مطالبات کو پورا کرنے پر زور دیا ہے۔رکن پارلیمان کلبرگی نے کلیان کرناٹک کے چھ لوک سبھا ممبروں کی میٹنگ بھی کی اور سمیتی کو یقین دلایا کہ وہ مرکز پر سخت دباؤ ڈالیں گے۔ جیسا کہ مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے، بیدر سے بلاری تک چار لین سڑک کا کام مکمل کیا جانا چاہئے۔ کلیان کرناٹک میں شاہراہوں پر جاری کام بھارت مل پروجیکٹ کے مطابق مکمل کیا جانا چاہئے۔ کلبرگی سیکنڈ رنگ روڈ کے لئے فنڈز منظور کئے جائیں اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ میگا ٹیکسٹائل پارک، جسے پہلے ہی منظوری دی جاچکی ہے، کو ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے ذریعہ مربوط انداز میں مقررہ وقت میں مکمل کیا جانا چاہئے۔ کلبرگی اور بیدر ہوائی اڈوں کے لئے اڑان اسکیم کے تحت کلبرگی سے بنگلورو، دہلی، ممبئی، تروپتی اور حیدرآباد سمیت بڑے شہروں کے لئے پروازیں دوبارہ شروع کی جانی چاہئے۔کلبرگی ریلوے ڈویژنل دفتر کو ترقی کے معیار کے مطابق قائم کیا جانا چاہئے نہ کہ سیاست کے مطابق۔ بیدر کلبرگی سے بنگلورو کے لئے دو نئی ٹرینیں شروع کی جائیں جن میں بیدر سے کلبرگی، رائچور، یادگیر، بلاری سے کٹور کرناٹک اور جنوبی کرناٹک اضلاع تک نئی کلیان کرناٹک ایکسپریس شامل ہے۔ کلبرگی-حیدرآباد، وجئے پورہ-رائچور-گنتکل اور واڈی- حیدرآباد فلک نما مسافر ٹرینیں، جو کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران معطل کردی گئی تھیں، کو دوبارہ شروع کیا جانا چاہئے۔ مرکزی حکومت کو فوری طور پر پسماندہ کلیان کرناٹک خطے میں ایمس کے قیام کی منظوری دینی چاہئے۔ اور اسے کلیان کرناٹک خطے میں قائم کیا جانا چاہئے، ملک کے سب سے بڑے پروجیکٹوں میں سے ایک کرشنا آبپاشی پروجیکٹ کو مرکزی حکومت کے ذریعہ اپنے ذمہ لیا جانا چاہئے اور کسانوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے مقررہ وقت میں اسے مکمل کیا جانا چاہئے۔ گڈگ-واڈی ریلوے لائن، جسے پہلے ہی منظوری دی جاچکی ہے، کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جانا چاہئے۔بسواکلیان کو مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور تلنگانہ سے جوڑنے والی ریلوے لائن کو منظوری دی جانی چاہئے۔ مرکزی حکومت نے آزادی کے بعد سے کلیان کرناٹک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ایک بھی بڑا کارخانہ قائم نہیں کی ہے۔ اس لئے کلیان کرناٹک میں بھاری صنعتیں قائم کی جانی چاہئیں، جہاں بے روزگاروں کی بڑی تعداد ہے۔ وزیر اعظم سمیت مرکزی وزراء کے نوٹس میں پہلے ہی اہم مطالبات لائے جاچکے ہیں کہ مرکز کو علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لئے ایک خصوصی پیکیج منظور کیا جائے، کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی مرکزی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ کلیان کرناٹک کے مطالبات کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور وزیراعظم نریندر مودی اور متعلقہ مرکزی وزراء، خاص طور پر ریاست کرناٹک کی نمائندگی کرنے والے مرکزی وزراء کے ذریعہ آنے والے بجٹ میں اس کی یکسوئی ممکن ہو۔ اس موقع پر بسواراج گلشٹی، جناب اسلم چونگے اور شیولنگپّا بنڈک وغیرہ موجود تھے۔

