از قلم:مفتی رحمت اللہ ندوی
استاذ حدیث وفقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

موت بر حق ہے،اس کا انکار کسی ملحد اور دہریہ کو بھی نہیں ہے ، ہر شخص کی موت کا وقت مقرر اور اس کے مرنےجگہ متعین ہے ، نہ موت کے وقت میں کوئی تقدم و تاخر ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کی جگہ میں تخلف اور تبدیلی ممکن ہے ،یہ الگ بات ہے کہ انسان کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کب اور کہاں آئے گی ؟ یہ امور غیبیہ میں سے ہے، جسے پوشیدہ رکھا گیا ہے ، اور غالباً موت کے وقت اور جگہ کو راز رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان ہر وقت موت کو مستحضر رکھے،اس کی تیاری کرے،اور موت کے بعد والی زندگی کے لئے عمل کرے،اور کسی غفلت کا شکار نہ ہو۔ موت اگر دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہے تو وہیں ایک نئی زندگی کا آغاز بھی ہے،اور محبوب کو محبوب سے ملانے کا ذریعہ اور سنگم بھی۔
اسی طرح موت انسان کی محافظ بھی ہے، اسی لئے ایسے واقعات بھی سننے اور دیکھنے میں آتے ہیں کہ آدمی موت کے منھ سے بھی جاکر واپس آجاتا ہے اور بظاہر موت کے تمام اسباب وجود میں آجانے کے باوجود بچ جاتا ہے اور سلامت رہتا ہے ،اسی کو کہتے ہیں ’’اللہ جسے رکھے اسے کون چکھے ‘‘۔
اس کے برعکس ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی بالکل صحت مند،توانا، اور بیماری وغیرہ سے خالی ہوتاہے لیکن آناً فاناً موت اپنے وقت اور مقام پر آجاتی ہے اور لوگوں کو حیران کردیتی ہے ،سننے والے دنگ رہ جاتے ہیں کہ اور کہنے والے کہتے ہیں کہ آخر یہ سب اچانک کیسے ہوگیا ؟ابھی تو مرنے والے کی عمر ہی کیا تھی ؟ابھی تو ان کو اور کام کرنا تھا ،اب تو ان کی صلاحیت کے نکھار،علمی بہار کا دور ، اور خلق خدا کو فیض بخشنے کا زمانہ آیا تھا؟ لیکن یہ سب غیر مفید اور بے سود باتیں ہیں ،کوئی فرد نہ اپنے وقت سے پہلے مرتا ہے اور نہ اپنے کام کو ادھورا چھوڑ کر جاتا ہے ،بس یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کا وقت اتنا ہی مقرر اور مقدر تھا اور اس نےاپنے حصہ کا کام مکمل کرلیا۔
ہاں ! یہ بات ضرورہے کہ ایک صحت مند اور چلتے پھرتے ،متحرک و سرگرم شخص کی اچانک اور غیر متوقع موت سے صدمہ زیادہ اور تکلیف بہت ہوتی ہے ،کچھ ایسا ہی معاملہ مولانا سید محمد جعفر مسعود حسنی ندویؒ کے ساتھ ہوا ، جن کا ذکر مسعود اس وقت ہمارا مقصود ہے ، وہ ایک ناگہانی حادثہ کا شکار ہوئے اور موقع پر ہی موت واقع ہوگئی اور یہ ناگہانی موت تمام محبین و متعلقین کے لئے جانکاہ اور دلخراش خبر ثابت ہوئی اور ان پر بجلی بن کر گری ،جس پر یقین کرنا مشکل ہوگیا ، مولانا موحوم پر بجا طور یہ شعرصادق آرہا ہے
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا
یوں تو اس دار فانی سے سب کو جانا ہے لیکن کچھ اہم اور خاص شخصیات کے جانے سے بے حد دکھ ہوتا ہے،کیوں کہ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ بآسانی پر نہیں ہوتا، یہ تکلیف ” قحط الرجال” کےاس دور میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے ،کیونکہ ؎
کمالِ عاشقی ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتا
ہزاروں میں کوئی مجنوں ،کوئی فرہاد ہوتا ہے
اگرچہ’’قحط الرجال‘‘ کا لفظ باربار دہرا نے سے میں متفق نہیں ہوں ،دنیا کو جڑیا نہیں چگ گئی ہے ،باکمال اور ہنر مند افراد کی اب بھی اتنی کمی نہیں جتنا ڈھنڈورہ پیٹا اور شور مچایا جاتا ہے ، ہم اپنی کوتاہ نظری یا تنگ دائرہ کی وجہ سے ان کی شناخت اور قدر نہیں کر پاتے ہیں ، جس سے صلاحتیں بجھ کر رہ جاتی ہیں یا ان اشخاص کے ساتھ دفن ہو جاتی ہیں ،ضرورت ہے ان اصحاب کمال کو پہچان کر ان سے کام لینے کی اور اگرواقعی افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں تو پھر یہ ادارے اور مدارس بانجھ کیوں ہوگئے ہیں ؟اور ان کی افادیت اور مقصدیت کیوں متاثر ہوگئی ہے ؟ پانی کہاں مر رہا ہے اور نظام میں کیا خامی ہے؟ ان سب سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے ۔
مولانا سید جعفر حسنی ندوی مرحوم ہی کو دیکھ لیجئے ، جب تک ان پر ذمہ داری نہیں آئی ان کی خفیہ اور پوشیدہ صلاحیت پر پردہ پڑا رہا لیکن جب ذمہ داری سنبھالی تو انتظامی ،تقریری اور دیگر صلاحیتیں نکھر کر سامنے آگئیں ،ورنہ وہ ایک مدرس تھے اور صرف تدریسی اور قلمی صلاحیت سے ہی لوگ واقف تھے۔ مدارس سے ایک بڑی تعداد سالہا سال فارغ ہو رہی ہے ، اور ان میں صلاحیت مند اور کام کے افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں تو قصور کس کا ہے ؟
بہر حال ! مولانا سید محمد جعفر حسنی ندوی ؒ (۱۹۶۰۔۲۰۲۵ء)کے بارے میں حافظہ کی مدد سے اس کے نہاں خانہ میں محفوظ کچھ نقوش و تاثرات تاریخی امانت سمجھ کر قلمبند کرنے کی کوشش کررہاہوں،مولانا مرحوم سے سب سے پہلے میری واقفیت غالباً ۱۹۹۰ء کے کسی ماہ میں اس وقت ہوئی جب میں مدرسہ ضیاء العلوم میدان پور،رائے بریلی میں ایک طالب علم کی حیثیت سے داخل ہوا ، یاد پڑتا ہےکہ اسی سال رابطہ ادب اسلامی عالمی کا ایک سمینار رائے بریلی شہر میں ڈاکٹر عبد العلی مانٹیسری اسکول میں مولانا سیدمحمد ثانی حسنی میموریل کے تحت’’ حمد و مناجات و دعا ‘‘کے عنوان سے منعقد ہوا ، جس میں عرب علماء و مشائخ کے علاوہ اندرون ملک سے بھی منتخب و اہم شخصیات نے شرکت کی ، مدرسہ کے چند طلبہ اور رفقاء کے ساتھ مجھے بھی شریک ہونے کا موقع ملا، حضرت غالباً مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ کا عربی مقالہ مولانا سید محمد جعفر حسنی ندوی نے پڑھا اور اتنے اچھے لب ولہجے اور شاندار اسلوب میں پیش کیا کہ سماں بندھ گیا ،میری بے شعوری کا دور تھا ،صرف ایک آیت کریمہ ’’الم تر کیف ضرب اللہ مثلاً کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ ……. ‘‘ یاد رہ گئی ،آج بھی یہ آیت مولانا مرحوم کی آواز کے ساتھ کان میں گونچ رہی ہے ، مولانا مرحوم حافظ قرآن تھے ،رمضان المبارک میں تراویح سناتے تھے ،قرآن کریم ہی ان کا اختصاص تھا ،درس قرآن کا سلسلہ خاتون منز ل کی ’’ماموں بھانجے مسجد‘‘میں جاری تھا ، ادھر چند سالوں سے رمضان المبارک میں تکیہ کلاں کی مسجد میں بھی درس قرآن دیا کرتے تھے ،غالباً تخصص کا مقالہ بھی ’’الانسان فی القرآن ‘‘ کے موضوع پر لکھا، اس طرح ان کو قرآن کریم سے خاص شغف اور ربط و تعلق تھا ،اگر چہ ادب عربی میں کمال ومہارت کی وجہ سے اس فن میں خاص شہرت پائی اور ان کا امتیاز ظاہر ہوا۔
مجھے مولانا مرحوم سے نہ قربت ، نہ معاصرت، نہ رفاقت رہی، نہ تلمذ حاصل ہوا ،اور نہ زیادہ قریب ہونے اور دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور نہ ان کے عہد نظارت میں کوئی ایسی ضرورت پیش آئی کہ ان کے دفتر جاتا،بس دور کا تماشائی رہا ،لیکن کبھی دور سے دیکھ کر یا بعض ملاقوں سے بھی بہت کچھ اندازہ ہوجاتا ہے ۔
مرحوم کی ایک اہم خصوصیت ان کی بے تکلف اور خود ساختہ زندگی اور ہر ملنے والے سےدوستانہ برتاؤ تھا ، ہر ایک سے فری موڈ میں بات کرتے اور اسی انداز سے رہتے تھے ،جوظاہر و ہی باطن ،نہ کوئی تکلف اور نہ کسی قسم کا تصنع ۔ بلکہ صحیح معنوں میں ’’تکلف کو خود ان سے تکلف ہوتا تھا اور ’’تصنع‘‘ پر ان سے گھبراہٹ طاری ہو جاتی تھی ، یہ بات بھی محض تکلف میں نہیں لکھی جارہی ہے بلکہ یہ حقیقت اور سچ ہے ،اس کی گواہی ہر وہ شخص دے گا جس نےکبھی مولانا مرحوم سے ملاقات کی ہو اور اس جملے کی تائید و تصدیق ان کا ہر شاگرد ،دوست ،معاصر اور متعارف فرد کرے گا، گویا وہ اس شعر کا مصداق تھے۔
ائے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام سے رہتے ہیں جو تکلف نہیں کرتے
جب میں مدرسہ فلاح المسلمین تیندوہ ،رائے بریلی میں مدرس ہوا تو دیگر کتابوں کے ساتھ مختارا ت ثانی کا گھنٹہ بھی تفویض ہوا ، اس میں ایک سبق ’’شقاوۃ الملوک ‘‘ ہے، اس کا آخری جملہ ہے ’’أی بلاد خرشنۃ إن اللہ سیفتح علیکم أقصااھا کما فتح أدناھا‘‘ اس عبارت میں ’’خرشنہ‘‘ کا لفظ اطمینان قلب کے لئے مجھے کسی دریافت کرنا تھا ، لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس سے دریافت کروں ؟ ذہن میں آیا کہ مولانا سید محمد جعفر حسنی ندوی مدرسہ عالیہ عرفانیہ میں دیگر مضامین کے ساتھ مختارات کابھی درس دیتے ہیں تو کیوں نہ ان سے ہی دریافت کرلوں ،ایک بار جمعہ کے دن تکیہ میں مولانا کو دیکھ ہمت کی اور ان کے سامنے اپنا مدعارکھا ،پہلے سے کوئی شناسائی اور تعارف نہ تھا اور نہ ہی ان کے مزاج سے کوئی واقفیت تھی ،جب میں سلام کرکےان سے قریب ہوا اور اپنا سوال رکھا تو مرحوم نے بہت محبت ،شفقت اور اخلاق کابرتاؤ کیا،یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ وہ مجھ سے واقف ہیں ۔
’’حسنِ اخلاق ‘‘ اور "تواضع” دو ایسے وصف ہیں جو انسان کو سربلندی ،مقبولیت و محبوبیت اورشہرت و دوام عطاکرتےہیں اور علم و عمل کی کمی و کوتاہی پر پردہ بھی ڈالتے ہیں اور اگر علم وعمل کی جامعیت کے ساتھ حسن اخلاق ،صالح کردار اور تواضع و عاجزی جیسے اوصاف حمیدہ ہوں تو پھر کیا کہنے، آدمی چمک جاتا ہے ، گویا یہ اوصاف دیگر تمام اوصاف پر غالب اور یہ خوبی تمام خوبیوں پر حاوی ہے ۔
بسا اوقات صاحب علم وفضل اپنے علم و عمل میں تفوق کے باوجود اپنی انانیت ،تکبر اور بداخلاقی و بد مزاجی کی وجہ سے لوگوں میں بے وقار،بے حیثیت اور غیر مقبول ہوجاتا ہے اور اس کو وہ مقام مرتبہ نہیں ملتا جس کی توقع ہوتی ہے،اور نہ ایسی شان پیدا نہیں ہوتی جو اسے دوسروں سے ممتاز کردے ۔
مولانا مرحوم ایک عالم باعمل ،صاحبِ قلم ،مدرس ،مؤلف ادیب ،انشاء پرداز ہونے کے ساتھ بااخلاق ،خلیق و ملنسار ،خاکسار اور متواضع تھے ، بڑے متحرک و فعال تھے ،تیز گام و تیز کام تھے ،جس تیزی کے ساتھ وہ چلتے تھے اسی سرعت کے ساتھ ان کا قلم بھی صفحہ قرطاس پر رواں دواں تھا،وہ عربی و اردو دونوں زبانوں پر یکساں عبور اور دونوں زبانوں میں بہت عمدہ لکھتے پر دسترس رکھتے تھے ،ان کی نگارشات دلکش ،شستہ و شگفتہ ہونے کے ساتھ پراز معلومات اور نصیحت خیز ہوتی تھیں ،جس طرح لکھتے تھے اسی طرح ان کی گفتگو بھی مرتب اور ادیبت و علمیت کے رنگ میں ہوتی تھی ،سامعین سنتے اور ہمہ تن گوش رہتے تھے ، ناظر عام کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پروگراموں ،سمیناروں اور جلسوں میں ان کی شرکت بڑھ گئی تھی ، مدارس ملحقہ کے سالانہ پروگراموں میں بھی خوب شرکت ہورہی تھی ،کئی پروگرام رمضان المبارک تک طے تھے لیکن کیا خبر تھی کہ یہ شعلہء مستعجل ہے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ مرحوم کی اصل خوبی ان کی شرافت نفس اور اخلاق و تواضع تھی ، عہدہ ملنے سے پہلے جس طرح تھے، عہدہ پر فائز ہونے کے بعد بھی اسی طرح رہے ،بلکہ تواضع و شرافت بڑھ گئی ، پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کسی قابل ذکر عہدہ پر براجمان ہیں ،ورنہ عہدہ ومنصب کمتر انسان کو پتہ نہیں کیا کیا بنادیتا ہے ،دیکھنے میں تو یہ آیا ہے کہ بڑوں سے ذرا سا تعلق اور معمولی ربط بھی بے حیثیت شخص کا دماغ خراب اور مزاج بگاڑ دیتا ہے،اورطور طریق، سلوک وبرتاؤ تبدیل کردیتا ہے ۔
بد دماغ طلبہ بھی کسی بڑے سے مربوط ہو جاتے ہیں تو اپنے اساتذہ کی قدر یا اپنی اوقات بھول جاتے ہیں ، سلام کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں ،جب کہ مرحوم کا حال یہ تھا کہ سلام کرنے میں پہل کرتے،عجیب بے نفسی کا عالم تھا ۔
مولانا مرحوم کی ایک اہم اور خاندانی خصوصیت فیاضی ، زہد ، ضرورت مندوں کی حاجت روائی،اور خُفیہ مدد و انفاق فی سبیل اللہ تھی، اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ ضرورت مندوں پر خرچ کر دیتے اور اس راز داری کے ساتھ کہ خاندان کے ہر وقت ساتھ رہنے والے بھی مطلع نہ ہوپاتے، ان کی وفات کے پر پتہ چلا ۔
معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ وفات یا والے دن یا اس سے چند ایام قبل اپنے کسی فرزند کو یہ نصیحت کی کہ اپنی آمدنی کا کم از کم دسواں حصہ ضرورت مندوں پر خرچ کرو۔
۵؍جولائی ۲۰۲۴ء بروز جمعہ معظم گنج(علی میاں نگر) میں قائم مدرسہ” نصیحت المسلمین للبنات” کے مہتمم برادر گرامی مولانا محمد یوسف صاحب مظاہری نے اپنے مدرسہ میں نو تعمیر’’صدیق ہال ‘‘کے افتتاح اور طالبات کو نصیحت کرنے کے لئے ایک مختصر پروگرام مرتب کیا ،جس میں مولانا مرحوم کو مدعو کیاتھا ،ان کے ساتھ مولانا عبد السبحان صاحب ندوی ، مولانا محمد ایوب صاحب ندوی تھے ، لکھنؤ سے کچھ اساتذہ کرام کے ساتھ میں بھی شریک تھا ،اس مختصر تقریب میں مرحوم کے اصرار پر مولانا عبد السبحان ندوی کی فاضلانہ گفتگو کے بعد مولانا مرحوم نے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ کے افادات اور خطبات کے حوالے سے بہت اچھی اور عمدہ گفتگو کی۔ پروگرام کے بعد مہتمم مدرسہ کی طلب پر معائنہ بھی تحریر فرمایا، پھر تکیہ کلاں واپس ہوگئے ۔
میرے مشورہ پر مولانا محمد یوسف صاحب نے ندوہ کے اساتذہ کرام کو مختلف مساجد جمعہ کی تقریر کے لئے مقرر کر دیا ، کسی طرح یہ بات مولانا مرحوم کو معلوم ہوگئی ،دوسرے دن جب مرحوم سے ندوہ میں کلاس جاتے ہوئے راستہ میں ملاقات ہوئی تو بڑی مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا:یہ ترتیب ٹھیک رہی، تمام اساتذہ ایک جگہ جمعہ پڑھتے تو فائدہ عام نہ ہوتا ،اس طرح سب کی تقریر سے عوام کو فائدہ پہنچ گیا اورافادیت بڑھ گئی ۔
مولانا اگر چہ اپنے نامور والد گرامی کے اکلوتے تھے لیکن کئی لائق اور سعادت مند فرزندوں پر فائق تھے ،ان پر خاندان کے بزرگوں کی نظر کیمیااثر اور ان کی توجہ و تربیت نے مولانا مرحوم کو عروج پر پہونچا دیاتھا ،سچ ہے ۔
’’نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ‘‘
اس امت کی مصیبت یہ ہے کہ زندوں کی قدر نہیں کرتی ہے ،اور مردوں پر آنسو بہاتی ہے ،زندگی میں ستاتی اور مرنے پرہمدردی جتاتی ہے،کچھ مقابر پرست ہیں تو کچھ اکابر پرست ،عقیدت و احترام میں کہیں افراط ہے تو کہیں تفریط ، شخصیت پرستی پر بسا اوقات’’پرستش‘‘ کا شبہ ہونے لگتا ہے اور کبھی ’’اطاعت‘‘جو محمود ہے ’’عبادت ‘‘ کا روپ دھارنے لگتی ہے ،اگر ہرطبقہ اور سطح کے باصلاحیت اور باکمال افراد کی قدر کی جائے اور ان کی صلاحیت کو صحیح رخ دیا جائے، ایک دوسرے کا اعتراف ہو تو پھر ’’قحط الرجال‘‘کا کوئی مطلب نہ رہ جائے ،اور نہ کسی کو کوئی شکوہ ہو ۔
وفات کی شب مولانا مرحوم مغرب بعد رائے بریلی شہر کسی ضرورت سے حافظ عبد القادر بن مولانا عبد الباری ندوی گونڈوی (سابق مہتمم اول مدرسہ فلاح المسلمین ،تیندوہ ،رائے بریلی ) کے ساتھ تشریف لے گئے ،سڑک کے کنارے بائک پر سوار ہونے کے لئے تیار تھے کہ کسی بے قابو گاڑی نے ایسی ٹکر دی کہ موقع پر ہی وفات ہوگئی ،حافظ عبد القادر صاحب ایک ہفتہ زیر علاج رہے بالآخر ۲۴؍جنوری ۲۰۲۵ء بروز جمعہ انھوں نے بھی لکھنؤ کے ایرا ہاسپٹل میں دم توڑ دیا اور مولانا مرحوم سے جاملے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون ۔
یادش بخیر!
۲۱؍دسمبر ۲۰۲۴ء بروز سنیچر ” معہد سیدنا أبی بکر الصدیق” مہپت مئو میں برادرم مولانا عبد الرحیم ندوی گورکھپوری (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ) کے فرزند عزیزم اسید سلمہ کے حفظ قرآن کریم کی تکمیل پر ایک تقریب اور دعائیہ مجلس منعقد ہوئی ،مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی مرحوم ہی صدر مجلس اور مہمان خصوصی تھے ،ان کے بیان کا آخری حصہ سننے اور پوری دعا میں شرکت کرنے کا مجھے بھی موقع ملا، بڑی پرمغز اور فاضلانہ گفتگوکی ، قرآن کریم کی عظمت ،فضیلت ،تلاوت اور حفظ کی سعادت اور حافظ قرآن کے مرتبہ ومقام پر روشنی ڈالی اور مفید و مؤثر نصیحت فرماکر دعا کرائی ۔
کہتے ہیں کہ ’’تقدیر‘‘ ’’تدبیر‘‘ پر غالب آ کر رہتی ہے ، مرحوم اچھے بھلے ،ٹھیک ٹھاک تھے،ایک ضرورت پر جائے موت پہنچ گئے ،جب کہ بعض محبین اور اہل تعلق نے اس وقت جانے سے منع کیا ،لیکن یہ کہہ کر نکل گئے کہ ابھی تھوڑی دیر میں واپس آجاؤں گا ،ایک ضروری کام ہے اسے انجام دے آؤں۔
میرے دوست اور درسی رفیق برادرم محمد اظہا ر ندوی گونڈوی نے بتایا کہ حادثہ سے کچھ دیر پہلے مولانا مرحوم حافظ عبد القادر صاحب کے پاس ’’ایون فریدی مسافر خانہ‘‘ واقع کہاروں کا اڈا تشریف لائے ،حافظ صاحب کے پاس بیٹھے ، اس وقت مرحوم یہ اشعار گنگنا رہے تھے اور حافظ عبد القادر صاحب لکھ رہے تھے ،لکھنے کے بعد وہ کاغذ برادرم محمد اظہار ندوی کے حوالہ کرکے چلے گئے ،وہ اشعار یہ ہیں ؎
دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتی
کشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا
دیکھوگے ہرموڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈھوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
جب یہ حادثہ فاجعہ پیش آیا ،اس وقت راقم السطور گجرات کے سفر پر تھا ،سوشل میڈیا کے ذریعہ اطلاع ہوئی ،برادرم محمد اظہار ندوی نے فون کرکے تصدیق کی،دل دھک سے ہوکر رہ گیا ،بے اختیار زبان پر کلمۂ استرجاع آگیا اور فون سے تصدیق چاہنے والوں کا سلسلہ لگ گیا ،جو بھی سنتا سناٹے میں آجاتااور محوحیرت ہوجاتا ،سچ ہے۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
مولانا مرحوم کی نماز جنازہ ۱۶؍جنوری ۲۰۲۵ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر ان کے آبائی وطن تکیہ کلاں رائے بریلی میں ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ جناب مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی کی اقتدا میں ادا کی گئی ،ایک جم غفیر نے شرکت کی ،لکھنؤ و رائے بریلی اور اس کے اطراف کے مدارس سے اساتذہ و طلبہ بڑی تعداد میں شریک رہے ،دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تعطیل کا اعلان کردیا گیا تھا ،موسم سرد ہونے کے باوجود ندوہ سے اکثر اساتذہ وطلبہ نے جنازہ میں شرکت کی، نماز کے بعد مولانا مرحوم کو زیر زمیں دفن کردیا گیا ،لیکن ان کی یادیں دلوں میں دفن اور دماغوں میں محفوظ ہیں ،لوگ ان کے محاسن اور کمالات کا ذکر جمیل زبانی وتحریری کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے،ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اصحاب قلم مضامین لکھ رہے ہیں اور مخفی گوشوں کو اجاگر کررہے ہیں ،رسائل و جرائد اور ماہناموں کے خصوصی شمارے شائع ہورہے ہیں تاکہ آنے والی نسل اور پیڑھی ان اوصاف و کمالات کو اپنے اندر منتقل کرے اور ان خصوصیات و امتیازات کی حامل بنے ، یہی مقصد ہوتا ہے تعزیتی نشستوں کا اور خصوصی نمبرات اور شماروں کا، ورنہ جانے والا تو چلا گیا ،اس کی خوبیوں کے ذکرکرنے نہ کرنے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ برائی سے اس پر کوئی اثر پڑنے والاہے ،بلکہ برائی سے خودبرائی کرنے والے کا نقصان ہے کہ غیبت کرکے اپنی نیکی مرنے والے کو دے رہا ہے اور خود کو برا ثابت کررہا ہے ۔
ہر انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی،ہم مکلف ہیں کہ خوبیوں پر نظر رکھیں اور اسی کا ذکر کریں ،کمزور پہلو نظر انداز کرکے اپنی زبان و قلم کو اس سے روکیں ۔لیکن کسی کی خوبی اور محاسن کے بیان کرنے میں بھی حقیقت بیانی سے کام لیں ،اعتدال و توازن کو باقی رکھیں ،غلو اور مبالغہ سے گریز کریں ،نہ تو فرشتہ ثابت کریں اور نہ پیدائشی ولی بناتے رہیں ،انسان سمجھیں اور انسان ہی رہنے دیں۔
ایسا بھی نہ ہو کہ دوسرے مرحومین یا بزرگان دین کی تنقیص لازم آئے اور ان کا مقام و مرتبہ ڈاؤن ہوجائے ’’أنزلوا الناس منازلھم‘‘ (لوگوں کو ان کی سطح اور معیار پر اتارو) کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے ۔
آج کل بے اعتدالی اور عدم توازن سیرت و سوانح نگاری میں بڑھتی جارہی ہے اور اس قدر غلو سے کام لیا جارہاہے کہ انصاف پسند اور معتدل فکر ومزاج حضرات کے لئے ان کا پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا سید محمد جعفر مسعود حسنی ندوی کو غریقِ رحمت کرے،مغفرت فرمائے، ان کی خدمات وحسنات کو قبول فرمائے اور تمام پس ماندگان، متعلقین ومحبین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے