(ہماری بھی سن لے کوئی پکار)
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: ضلع کے واحد مہوتسو، سدھارتھ نگر مہوتسو میں تمام زمروں کے لیے تمام قسم کے کھیلوں اور مسابقاتی امتحانات کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ ضلع کے ہونہار طلبہ کو ریاستی اور قومی سطح کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی چمکنے کا موقع فراہم ہو سکے۔
چونکہ میلہ صرف ثقافتی پروگراموں تک محدود ہے یعنی رقص، گانا اور بجانا۔ اب مہوتسو کے فارمیٹ کو تھوڑا اور ہائی ٹیک بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ضلع کے باصلاحیت نوجوانوں کو بھی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع مل سکے۔ ورنہ سدھارتھ نگر مہوتسو کی اہمیت صرف ایک میلے کہ حیثیت سے ضلع تک ہی محدود ہو کر رہ جائیگی۔
مہاتما بدھ کی سرزمین پر منعقد ہونے والے واحد مہوتسو میں کھیلوں کے مقابلے، مضمون نویسی، مباحثہ کے مقابلے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے مقابلوں کے انعقاد سے ضلع کے ہر گلی، محلوں اور شہروں میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو موقع مل سکتا ہے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے ضلع کا نام بھی اُنہیں روشن کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں سے اپنے آپ، اپنے والدین، اپنے اساتذہ اور اپنے ضلع کو عزت بھی بخش سکتے ہیں۔
یقیناً مہوتسو میں مشاعرہ منعقد نہ ہونے کی وجہ سے مہوتسو کا رنگ تھوڑا پھیکا پھیکا سا نظر آرہا ہے۔ اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے فیصلے سے ضلع کے ادباء میں مایوسی کی لہر پیڈا نہ ہو۔
ضلع کے واحد مہوتسو، سدھارتھ نگر مہوتسو کو عالمی معیار کا بنایا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ہر چھوٹے بڑے پہلو پر نظر رکھتے ہوئے ضلع کے تمام طبقوں اور اداروں سے نمائندوں کا انتخاب کر کے مہوتسو آرگنائزنگ کمیٹی میں ممبران کے طور پر نامزد کرتے ہوئے ان کے خیالات کو بھی مہوتسو کے مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے اور ضلعی انتظامیہ کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ وہ اس مہوتسو کی کامیابی اور اہمیت کو اور مشہور کیا جا سکے اور چھوٹے موٹے سبھی دکانداروں کے کاروبار کو بھی اس سے اور مزید تقویت مل سکے۔
