سنت کبیر نگر (شہرت علی انصاری)مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن ،سمریاواں، سنت کبیر نگر ،ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) میں طلبہ کی الوداعی تقریب اور تقسیم انعامات کا پروگرام منعقد ہوا،جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث وفقہ حضرت مولانا مفتی رحمت اللہ ندوی نے شرکت کی۔
عالیہ اولی شریعہ کے طلبہ نے اس موقع پر اپنے الوداعی تاثرات پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات واحساسات کا اظہار کیا اور ان کے مشفق اساتذہ کرام اور مربیوں نے زاد راہ کے طور پر نصیحتوں کا گلدستہ پیش کیا ۔مسابقات عربی ،اردو ،انگریزی زبانوں میں تقریر ،نحو و صرف،سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، اسلامی فقہ کے موضوعات پر ہوئے تھے ،جن میں اول ،دوم ،سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ اور انجمن الاصلاح کے عہدہ داران کو قیمتی انعامات سے نوازا گیااور حال ہی میں علاقہ کے مختلف مدارس کے اساتذہ کے ذریعہ بچوں کاتعلیمی ٹیسٹ بھی ہوا، اس میں اول ، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے علاوہ مکتب میں عم پارہ حفظ کرنے والے طلبہ وطالبات میں سے اول ،دوم، سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی انعام سے نوازا گیا ۔
اس تقریب کے موقع پر مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی رحمت اللہ ندوی( استاذ حدیث وفقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ) نے طلبہ کو الوداع ہونے پر تسلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ایک اعتبار سے مسرت کا ہے اور دوسرے اعتبار سے حسرت کا ۔ یعنی مسرت میں غم کی آمیزش ہے ، اس طرح مسرت وحسرت کے ملے جلے جذبات اور احساسات کے ساتھ یہ پروگرام منعقد کیا گیا ہے ، آپ ندوہ جائیں اور پوری مستعدی کے ساتھ امتحان میں شرکت کریں ،کامیاب ہوں گے، جو محنت کرتا ہے محنت کا پھل ضرور پاتا ہے اور جو غفلت کرتاہے اس کیلئے حسرت اور افسوس ہے ،مفتی صاحب نے مزید کہا کہ کسی مدرسہ کے لئے یہ سعادت کی بات ہے کہ اس کو صالح ،حوصلہ مند باصلاحیت محنتی اور جفا کش اساتذہ اور انتظامیہ مل جائیں اور ان کے اندر ربط و تعلق اور ہم آہنگی ہو، یہ مدرسہ کی کامیابی کا پہلا زینہ ہے۔
دوسری چیز آپس میں باہمی تعاون ہو ،یہی چیز کسی مدرسہ کی ترقی کا راز ہوتی ہے ،کسی مدرسہ کی ترقی کا دوسرا زینہ یہ ہے کہ اساتذہ اور طلبہ کے اندر ہم آہنگی ہو ، استاذ کی نیک نامی اور خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو محنتی اور اچھے طلبہ مل جائیں ، کیوں کہ استاذ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو اگر اسے اچھے طلبہ نہ ملیں تو استاذ کی صلاحیت ضائع ہوجاتی ہے ۔
آپ ہی ہمارا مستقبل ہیں ، آپ سے ہماری امیدیں وابسطہ ہیں ،آپ نیک نامی کا ذریعہ ہیں اور اگر بگڑ گئے تو بدنامی کا ذریعہ بھی۔ہر طالب اس بات کا خیال رکھے کہ ہم نیک نام ،تو ارادہ نیک نام، والدین نیک نام، اساتذہ ،خاندان ،رشتہ دار،گاوں اور محلہ سب نیک نام ہوں گے ، اورخدا نخواستہ اگرقدم بہکا ،ذھن کھسکا توآپ کے ساتھ ساتھ آپ کے محسنین کی بدنامی ہوگی۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھی فقیہ لیث ہیں ،جو امام مالک کے معاصر اور ان سے علم میں فائق تھے ،مگر ان کو اچھے شاگرد نہیں ملے جو ان کے علم کے حامل ہوتے اور ان کے علم کی حفاظت اور نشر واشاعت کرتے ، جب کہ امام مالک کو اچھے افراد ملے ،اوراچھے شاگرد ملے تو امام مالک کو ہمیشہ کیلئے زندہ کردیا ،اور مالک ،امام بن گئے ۔ معلوم ہوا کہ اچھے اور محنتی طلبہ استاذ کی نیکی نامی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
آپ مدرسہ میں آئے ہیں تو سختی اور نرمی برداشت کریں جو طالب علم سختی اور نرمی نہیں برداشت کرتا وہ کامیاب نہیں ہوتا ،کسی استاذ کے بارے میں منفی تبصرہ نہ کریں یہ آپ کے محسن ہیں ، احسان شناسی اور احسان مندی کا جذبہ رکھیں،اس سلسلہ میں مہمان خصوصی نے حضرت مولانا علی میاں ندوی کے واقعات سنائے ،سلسلہ کلام جو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:یہاں سے ندوہ جانے والے طلبہ اپنے ادارے اور اساتذہ کرام سے ربط و تعلق رکھیں ،اساتذہ کرام آپ کو اپنے فن اور ہنر سےنا تراشیدہ سنگ سے تراشیدہ بناتے ہیں ،بچوں کی تربیت کوئی آسان کام نہیں ہے، ان اساتذہ کا احسان مانیں ،مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ آپ کو اتنی مقبولیت کہاں سے ملی؟ تو حضرت نے فرمایا : یہ میرے محسنین اور اساتذہ کی توجہ کا نتیجہ ہے۔
مولانا محترم نے مزید کہا کہ انجمن الاصلاح کے اسٹیج سے آپ نے خوب فائدہ اٹھایا ،آپ تو کھڑے ہوتے ہوئے بھی جھجھکتے تھے، آپ کو اساتذہ نے بولنا سکھایا تب آپ جاکر انعام کے مستحق ہوئے ۔
اخیر میں گارجین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ دینی تعلیم میں اپنی رقم خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کرنا آپ کیلئے خیر وبرکت کا ذریعہ بنے گا،اور یہ بچے صدقہ جاریہ ہوں گے ،نیک نیتی اور خلوص سے تعلیم دلائیں ، آخرت کا انعام پیش نظر ہو، کوئی بدلہ اور دنیوی عرض پیش نظر نہ ہو ، اور نہ یہ خیال آئے کہ ان بچوں پر ہم جو خرچ کر رہے ہیں وہ ضائع ہو رہا ہے ۔
مدرسہ کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مخلص ، محنتی اور جفاکش اساتذہ کرام کی قدر کریں جن سے مدرسہ کی نیک نامی اور شہرت قائم اور نظام تعلیم وترتیب برقرار ہے، یہ معمولی تنخواہ پر اپنے شب و روز طلبہ کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں اور گھر بار چھوڑ کر مدرسہ میں پڑ گئے ہیں ۔آخر میں فرمایا کہ مدرسہ کے مہتمم مولانا محمد منیر ندوی بہرائچی صاحب موجود نہیں ہیں ،ان کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے ،ان کا پیغام پڑھا گیا ،جو بڑا پرسوز تھا ،گویا انھوں نے اپنا دل نکال کر رکھ دیا ،وہ ۲۴؍ سال سے مدرسہ کی خدمت انجام دے رہےہیں اور وطن تقریباً ترک کردیا ہے ،ان کا وجود نعمت الہی ہے،قدر کریں ، ان کا خیال رکھیں اور بھرپور ساتھ دیں ۔ ان کے علاوہ مولانا غفران احمد ندوی ،مفتی محمد عاصم ندوی ،مولانا ذکی احمد ندوی، ماسٹر ظفیر علی کرخی ،قاری محمد ارشد قاسمی ،مولانا انیس الرحمن ندوی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور طلبہ کے روشن مستقبل کیلئے دعائیں دیں،لکھنو سے ایک مہمان مولانا محمد افضل بستوی ندوی نے بھی شرکت کی ۔
اس موقع پرمولانا مجیب الرحمن قاسمی ،حاجی مسعوداحمد ، محترم انوار عالم چودھری ،محترم حمید الدین چودھری ، مولانا محمد اسلم قاسمی ،حاجی کرم حسین ،مولانا عزیر احمد قاسمی ،حاجی سمیع اللہ ، محترم عبد المتین بڑھیا معافی ،مولانا محمود احمد قاسمی ،قاری عظمت اللہ ،مولانا ولی الدین ندوی ،حافظ علاء الدین ،حافظ وسیم اختر ،مولانا محمد رضوان ندوی ،ماسٹر جمیل احمد ،مولانا قربان علی ندوی ،مولانا عبد الوہاب مظاھری ،حافظ عبد الباری قیومی ، حافظ ظہیر احمد ،ماسٹر عبد المالک ،مولانا سعید احمد مظاہری اور طلبہ کے گارجین وغیرہ خاص طور پر موجود رہے۔