ہردوئی(نامہ نگار) ۲۴؍فروری:  گزشتہ شب قصبہ سانڈی کے مدرسہ اسلامیہ کاشف العلوم میں جلسہ استقبال رمضان وتقریب رسم اجراء منعقد ہوا، جس میں مولانا محمد طلحہ مظاہری نقشبندی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مبارک مہینہ اللہ کے بڑے انعامات کا مہینہ ہے، بڑی نعمتیں ملتی ہیں، بڑی مغفرتیں ہوتی ہیں؛ بڑی رحمتیں برستی ہیں، آدمی کو وہ کچھ ملتا ہے جہاں تک اس کا ذہن نہبں جاسکتا ایسا مبارک و مسعود مہینہ سال میں ایک مرتبہ آتا ہے۔ زندگی کا بھروسہ نہیں ہے۔ پتہ نہیں کہ پھر یہ ماہ مبارک نصیب ہو نہ ہو۔اس لئے اس کی قدر دانی میں کوئی کسراٹھا نہ رکھی جائے ۔ اللہ سے رحمت، مغفرت ،اورآگ سے خلاصی کو طلب کرنے میں کسی قسم کی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور حتی المقدور، عبادت و ریاضت، ذکرواستغفار، توبہ و ندامت اور بندوں (رشتہ داروں، پڑوسیوں اور اہل ایمان) کے حقوق اداکرکے اپنی مغفرت کاسامان کریں۔دریں اثنا مفتی محمد جنیدقاسمی استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رمضان کے آنے سے قبل حضورؑ صحابہ کو جمع کرتے اور ماہ رمضان کے تعلق سے ایک طویل خطبہ ارشاد فرماتے ،جس میں رمضان کی اہمیت، اس کی افادیت اور تراویح کے تعلق سے تفصیل سے آگاہ کرتے ،آپ خود بھی اس مبارک ماہ کی بے پناہ قدر فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔

مولانا عبداللطیف مظاہری قنوج نے خطاب کرتے ہوئے کہ اس دور میں ہم احیاء سنت کا جذبہ پیدا کریں، ہرکام سنت کے مطابق کرنے کی کوشش کریں ،سنت سے عبادت میں نور پیدا ہوتا ہے۔ اس موقع پر مفتی محمد اسعد مظاہری ندوی ناظم مدرسہ کاشف العلوم کی جدید ترتیب دی ہوئی کتاب’رمضان المبار ک اور صبر واستقلال‘ کا رسم اجرا ء عمل میں ۔ اس کتاب کاتعارف نامہ مفتی جنیدقاسمی نے پیش کیا ،انہوں نے کہا مفتی اسعد مظاہری نے ماہ رمضان کے تعلق سے بزرگان کی تحریروں کا خوبصورت انتخاب کرکے یہ رسالہ مرتب کیاہے، قیمتی اور مفید معلومات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں اکابر علماء کی قیمتی تحریرں شامل ہیں،جس سے کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوتاہے۔

پرورگرام کا آغاز حافظ سبیل کی تلاوت سے ہوا، نعت کا نذرانہ حافظ طیب ،حافظ محمد قاسم نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔ نظامت کے فرائض قاری عمران ثاقبی استاذ مدرسہ ہٰذا نے انجام دیے۔ اس موقع پر حافظ محمد احمد،حافظ سیدالکلام،عالم انصاری،حافظ ہاشم،حافظ شکیل،حاجی عبدالصمد،ضیاء الدین،باب الدین،کیفی،اشفاق،نوشاد،شاکروغیرہ موجودرہے،پس پردہ ملت اسلامیہ کی خواتین کثیرتعدادمیں موجود تھیں، مولانا محمد طلحہ کی رقت آمیز دعاء پر جلسے کا ختتام ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے