(دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ سے شائع سالنامہ الاصلاح کے ساتھ اساتذہ کرام)

مدرسہ رشیدیہ رکنا پور میں ایڈیٹر الاصلاح عادل معاذ ندوی کے اعزاز میں تہنیتی تقریب کا انعقاد 

رکناپور، بہرائچ (محمد رضوان گوہر ندوی)

معروف تعلیمی و اقامتی ادارہ مدرسہ رشیدیہ اشرف العلوم میں مہتمم مدرسہ مولانا اشتیاق احمد قاسمی کی سرپرستی میں ایک دینی نششت کا انعقاد کیا گیا ، جس میں مولانا محمد عادل معاذ ندوی اور انکے ساتھیوں کی علمی کاوش، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے شائع ہونے والا سالنامہ ”الاصلاح“ مدرسہ کے اساتذہ میں تقسیم کیا گیا، مجلہ کی افادیت اور دیدہ زیبی کی ہر ایک نے تعریف کی ، واضح رہے کہ مجلہ کے ایڈیٹر مولانا محمد عادل ندوی مدرسہ رشیدیہ رکنا پور کے متعلم رہ چکے ہیں ، مدرسہ رشیدیہ اشرف العلوم میں انھوں نے کئی سال حصول تعلیم میں اپنی محنت صرف کی ہے، مکتب کے ساتھ شعبہ حفظ میں بھی دلچسپی اور لگن کے ساتھ مثالی طالب علم بننے کی کوشش کی، ان کی کو شش رنگ لائی اور انھوں نے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں جاکر بھی اطمینان کی سانس نہیں لی، مقصد اور ہدف متعین کیا اور اس کو پانے کے لئے پیہم رواں دواں رہے، مولانا عادل صاحب ضلع بہرائچ کے پہلے شخص ہیں جو دارالعلوم ندوۃ العلماء کی سواسو سالہ تاریخ میں وہاں کی (student’s union) جمعیۃ الاصلاح کے ناظم بنے اور کامیابی کے ساتھ نظامت کی مدت مکمل کی ہے، ان کی ادارت میں نکلنے والا الاصلاح واقعی عوام الناس بالخصوص طالبان علوم نبوت کے لئے سرچشمہ اصلاح ہے، مادر علمی اور اپنے اساتذہ کو ہر موقع پر یاد رکھنا واقعی احسان سناشی، وفاداری اور سچی محبت کی علامت ہے۔

مدرسہ کے نائب مہتمم مولانا مسعود الحسن قاسمی نے کہا کہ ہمیشہ آگے بڑھتے رہنے کا نام ہی زندگی ہے، جو رک گیا اور تھک کر بیٹھ گیا، حوصلہ ہار کر سابقہ کوششوں پر قانع ہوگیا وہ ختم ہوگیا، مٹ گیا اور بے نام و گمنام ہوگیا، مدرسہ کے لئے خوشی کا مقام اور یہاں کے اساتذہ کے لئے فخر کی بات ہی کہ جو ننہا پودا انہوں نے لگایا تھا وہ ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہونچا ہے کہ اب مدرسہ کا نام روشن کررہا ہے ،

مولانا عادل ندوی سمیت نائب اڈیٹر مولانا زید ندوی بھی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔

 اللہ تعالیٰ مزید ترقیوں سے نوازے اور نظامت سے بڑھ کر قیادت کا کام لے، تاکہ ہمارا سر فخر سے بلند اور مدرسہ کا نام روشن ہو ۔

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز

یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لئے

مولانا عبد الوحید ندوی نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میدان عمل ہے جو جتنی محنت کرے گا اس کا پھل پائے گا، اصل کامیابی کا دور وہاں سے شروع ہوتا ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ

 تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اس خصوصی اعزازی تقریب کا اختتام مہتمم مولانا اشتیاق احمد قاسمی کے دعائیہ کلمات پر ہوا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے