اٹوا (سدھارتھ نگر یوپی): آج بتاریخ 24 فروری 2025 بروز سوموار کو مدرسہ عربیہ فیض العلوم و فاطمۃ الزہرا للبنات بشنپور مہدانی اٹوا میں طلبہ و طالبات کی سالانہ انجمن اور الوداعی پروگرام کی مناسبت سے ایک شاندار اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں مدرسہ ہذا کے درجہ اول سے جماعت رابعہ کے لگ بھگ ساٹھ طلبہ و طالبات نے حصہ لیا ،انجمن مختلف پروگرام پے مشتمل تھی، کچھ بچوں نے تلاوت کلام ، حمد و نعت پیش کیا تو وہیں کچھ طلبہ نے اردو ہندی، انگلش زبان میں تقریر پیش کیا، دینی و علمی اور اصلاحی ڈرامے پیش کئے گئے۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
سب سے پہلے تلاوت کلام پاک پیش کرنے کے لئے زینب بنت عبدالرب کو دعوت دی گئی ، بعدہ خدیجہ خاتون نے حمد باری تعالیٰ جبکہ نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حمیرہ بنت منظور عالم نے خوبصورت اور مترنم انداز میں سامعین کے پیش کئے۔
شائستہ اور ان کی سہیلیوں نے استقبالیہ ترانہ پیش کیا، بعدہ تقریری پروگرام شروع ہوا اردو تقریر میں پینتیس بچوں نے حصہ لیا تھا سب سے زیادہ تعداد اردو تقریر میں ہی تھی۔انگلش ،ہندی اور عربی تقریر میں نو طالبات نے حصہ لیا۔
بچوں نے اپنے خوبصورت لب و لہجے میں نڈر ہوکر اپنی بے سامعین کے سامنے پیش کیا ، یادداشت اور پیش کرنے کے لب لہجے کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ بچوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ و معلمات نے خوب خوب محنت کی ہے۔
حَکَم کے فرائض محمد عاصم مدنی، مولنا عبدالحسیب سنابلی اور مولانا مبارک اللہ سلفی نے انجام دئے،بچوں کا پروگرام ختم ہونے کے معََا بعد نتیجے کا اعلان کیا گیا اور پوزیشن لانے والے بچوں کے مابین انعامات بھی تقسیم کئے گئے اردو تقریر میں پہلا انعام سمیہ خاتون، دوسرا شائستہ بانو، جبکہ تیسرا انعام رخسانہ خاتون نے حاصل کیا، اسی ہندی تقریر میں نسیمہ، رخسانہ خاتون، شہناز خاتون نے انعام حاصل کیا ، انگلش تقریر میں عافیہ خاتون، شائستہ بانو، حمیرہ خاتون، عربی تقریر میں روحی نغمہ، زینب بانو، آرزو خاتون نے انعام حاصل کیا۔ اسی طرح تمام مشارکین کو بھی گراں قدر تشجیعی انعامات سے نوازا گیا ۔ ساتھ ہی ساتھ تمام بچوں میں سالانہ رزلٹ بھی تقسیم کیا گیا۔
آخر میں پروگرام کی نظامت کررہے حافظ محمد حامد نے بچوں کو علم کی اہمیت بتائی اور بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انجمن سال بھر کی کارکردگی کا نمونہ ہوتا ہے، ایک دن میں کوئی بلندی حاصل نہیں کرتا ہے بلکہ اس کےلئے سال بھر محنت کرنی پڑتی ہے لہذا جنہوں نے محنت کی ان کی محنت رنگ لائی اور کامیاب ہوئے انعامات سے بھی سرفراز ہوئے مگر جنہوں نے سستی اور کاہلی کی انجمن سے جی چراتے رہے ان کا نتیجہ آج سامنے ہے۔ لیکن انھیں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ خوش ہونا چاہیے کہ یہی کیا کم ہے کہ بڑے بڑے علماء کے مابین کھڑے ہوئے اور اپنی کاکردگی کو سامعین کے سامنے پیش کیا مگر آج سے یہ عزم مصمم کرلیں کہ آئندہ ہم بھی محنت کریں گے اور ان شاءاللہ اچھے نمبرات ضرور حاصل کریں گے ساتھ ہی ساتھ ان طلبہ کو جنہوں نے پوزیشن حاصل کی ہے انھیں بتاتا چاہتا ہوں کہ انھیں کسی بھی طرح کے غرور کو گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہونا چائیے اس لئے کہ اللہ کو غرور پسند نہیں ہے۔ بلکہ انھیں آگے اور مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ یہ آپ کی آخری منزل نہیں ہے آپ کو مزید محنت کی ضرورت ہے۔ اور مزید کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنی ہے۔
اس پروگرام میں حافظ عبد السبحان ،حافظ توصیف ، اجود کلیم ، محمد شبیر ، ذکر اللہ، محمد افضل، ماسٹر عبدالرحمن ، ماسٹر شکیل ، معلمہ شگفتہ، معملہ تحریم، وغیرہ بلکہ پورے گاؤں کے مرد و خواتین بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے پروگرام کے اختتام تک مدرسے میں موجود رہے۔
