ڈاکٹر گلزار احمد وانی
سرینگر کشمیر

اردو شاعری میں شاعر اپنی ذات کے جھمیلوں میں گم ہونے کے باوجود اپنے آس پاس کے ماحول سے بہرہ ور ضرور ہے ۔ اگر چہ آج کے دور کے عام انسان کے ساتھ ساتھ شاعر بھی اپنی ذہنی الجھنوں سے جھوجھ رہا ہے اور نفسیاتی کشمکش ٬ ذہنی الجھاؤ ٬ نا آسودہ حالی ٬ نفسیاتی تناؤ اور غم روزگار کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ سے ایک عجیب قسم کی نبرد آزمائی کا سامنا ہے جہاں ایک طرف سے دیکھا جاتا ہے کہ شاعر اپنے حالات و واقعات سے پوری طرح باخبر ہے ۔ جہاں دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ موسمی صورت حال کس قدر دگر گوں ہے۔ اس سارے تناظر میں آج کی اردو شاعری انہی حالات کے تار پود میں بنی ہوئی ہے۔
ارشاد مظہری کولکتہ شہر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کا سال ۲۰۱۹ میں ایک شعری مجموعہ بنام ” نئے مزاج کا ساون ” منظر عام پر آیا ہے ۔ اس میں حمد ٬ نعت ٬ منقبت ٬ غزلیں اور قطعات بھی موجود ہیں ۔ ایک تخلیق کار کی زندگی میں جتنے بھی چیلنجز رہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک تخلیق کار کی ادبی زندگی میں نمی کی کارفرمائی کا کام دیتے ہیں ۔ ان کٹھن مراحل میں وہ ایسے تخلیق پارے کی تخلیق کرتا ہے جو بشرط کہ چیلنجز کے ہی سامنے آتے ہیں ۔ ارشادمظہری کے یہاں عقل و شعور کی کارفرمائی زیر نظر رہتی ہے۔
نکولو بولو پیرس کے ایک فلسفی اور نقاد تھے ۔ وہ شاعری میں عقل و شعور کا ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔ ’’عقل شاعری کو الہامی بنا دیتی ہے ۔ جو کچھ لکھو اس میں عقل سے حسن قوت اور روشنی حاصل کرو”۔
ارسطو سے ایلیٹ تک ۔ ص نمبر ۳۱۶۔ سنہ اشاعت ۲۰۰۴؁ءمذکورہ بالا اقتباس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی شعری تخلیق میں دو چیزوں کا عمل دخل ہونا چاہئیے (عقل و شعور ) اور اس سے تو حسن قوت اور روشنی حاصل ہوتی ہے۔
ارشاد مظہری دور حاضر کے ایک ایسے شاعر ہیں جنہیں حالات و واقعات پر بھر پور نظر ہے اور اس کا مظاہرہ اپنے منفرد اسلوب اور لب و لہجے میں کرتے ہیں ۔ اور انہیں زمانے کے ان دگر گوں حالات میں بھی ظلمتوں میں نور کا ہالہ نظر آتا ہے ۔اگر چہ حالات موافق نہیں بھی ہیں مگر پھر بھی شاعر غم سے ہارا نہیں ہے بلکہ پرامید ہے کہ ظلمتوں کا دور بھی چھٹ جائے گا۔

صبح تک تیرگی نہ چھٹ پائی
دن پہ بھاری یہ رات لگتی ہے

کرن سی تیز ہے ارشاد رفتار حیات نو
گھڑی کی سوئی سے آگے نکل پاؤ تو اچھا ہے

رات کی تاریکیوں سے ہی ملے گی صبح نو
ساتھ میرے جانب حد گماں چلتے رہو

اندھیرے صبح تک پھیلے رہیں گے
اترنا چاہیئے تھا چاندنی کو

دن میں بھی چار سو تیرگی ہے تو ہے
بے حسی بے کلی مفلسی ہے تو ہے

دل کے اندر ہیں صدیوں کی تاریکیاں
گھر کے اندر مرے روشنی ہے تو ہے

مذکورہ بالا اشعار میں تیرگی کرن۔ روشنی چاندنی اور رات جیسے الفاظ مذکورہ موضوع کی توسیع لئے ہوئے ہیں۔ جن سے میرے مضمون کی بنیادیں بھی مستحکم ہیں۔ ان اشعار میں کہیں تیرگی کے نہ چھٹنے کی ضد براجمان ہے تو کہیں پر کرنیں انہیں ظلمتوں سے پھوٹنے کا مستحکم ارادہ باندھی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ دراصل شاعر واحد متکلم کی صورت میں سب سے پہلے اپنے ہی آپ سے نبرد آزمائی میں ہے جہاں سے اسے حالات ایسے درپیش نظر آ رہے ہیں جن سے اگر چہ ضیائی کہیں سے بھی پرتو پائی ہوئی نہیں دکھ رہی ہے بلکہ اس کا وجود اتنا ہی مضبوط اور توانا ہے کہ شاعر ان ہی ظلمتوں میں اب تو جینے کا عادی بن چکا ہے دوم یہ کہ اسی کی بنیاد پر وہ ہر رات کی کالی دیواروں سے بھی نبرد آزما نظر آ رہے ہیں اور ساتھ ہی انہیں اس بات کا تیقن بھی ہے کہ اپنی عظمتوں کے چراغ سے ہی ظلمتوں کے دور کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
ارشاد مظہری کے یہاں ظلمت اور تیرگی جیسے الفاظ کئی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اور یہ الفاظ استعاراتی قبا پہنے ہوئے ہیں۔ جس سے معنی کی کئی صورتیں ایک قاری کے لئے یہاں دور دور تک پیہم نظر آرہی ہیں۔ یعنی اگر چہ دن میں شاعر کو تیرگی نظر آ رہی ہے گویا یہ عصری حالات کا استعارہ ہے جہاں ایک فرد کے ارد گرد مفلسی بے حسی اور بے کلی کی صورت لئے تیرگی اپنے ظالم پنجوں پہ محو رقص ہے۔اور ان حالات میں تیرگی کے پہرے کو اپنے گھر میں دن کے وقت بھی محو رقصاں دیکھتے ہیں۔اور ایسے میں شعری کردار اگر چہ سورج کی روشنی کی تمنا لئے نہیں پھرتا ہے بلکہ چاندنی کی تمنا لیے در پر کھڑا ہے اور کبھی کبھار وہ سورج کی کرنوں کا جلوس اپنے گھر کی دہلیز پہ دیکھنا چاہتا ہے۔

ان ستاروں کی جھالر کا میں کیا کروں
نیند تھی سو گیا چاندنی ہے تو ہے

ارشاد مظہری کی شاعری جن الفاظ سے تجسیم پاتی ہے اور جن سے ان کے اشعار میں ظلمتوں کا ہالہ دکھائی دیتا ہے وہ تیرگی ٬۔ظلمت بادل سناٹے دھند تیرہ بختی اور خاموشی وغیرہ اور جو الفاظ نور کا ہالہ کے بطور مستعمل ہیں وہ ہیں سورج کرن روشنی اجالا اور آفتاب و ماہتاب وغیرہ ۔ اس طرح جو کیفیت ان الفاظ سے تعمیر ہوپائی ہے وہ شعر میں ایک نئی جان اور ایک نئی روح ڈالتی ہے۔
ارشاد مظہری کے یہاں غیر آسودہ حالی غم و آلام اور پریشانی کی دھند کبھی بھی ہراساں نہیں کرتی ہے کیونکہ ان کی نظر میں آفتاب کی کرنیں ظلمتوں کو نچوڑ کر اپنے ہونے کا اعلان بخوبی استعمال کر رہیں ہیں جس سے ان کے تخلیقی عمل و روشنی کی تفہیم میں اور زیادہ وسعت حاصل ہو پاتی ہے۔
ارشاد مظہری کی شاعری میں امید بھی نور کے ہالہ کی گیرائی میں اور وسعت عطا کرتی ہے ۔ ان کے یہاں روشنی کسی سائے کی طرح ہے کہ جب سورج ڈھلتا ہے تو رات کو آنے کا موقعہ خود ہی فراہم ہوتا ہے ورنہ اسے کون جھیل سکے کسی میں ایسی تاب نہیں کیونکہ سورج کی شعائیں بھی تھک ہار کر اپنے گھر میں جا کر سستانے بیٹھ جاتی ہیں۔

سب کو زندگی دے کر خود ہی مر گیا سورج
شام کو تھکا ہارا اپنے گھر گیا سورج

دھوپ اتری ہے نہانے جھیل میں
یاس کا بادل ہے سر پر دیکھئے

تیرگی میں روشنی سا کون ہے
میرے اندر اجنبی سا کون ہے

جب چراغ والوں نے بند کی دکاں اپنی
زندگی کی آنکھوں میں نور بھر گیا سورج

ارشاد مظہری کے یہاں تقریبا ہر دو غزل کے بعد آنے والی غزل کے کسی نہ کسی شعر میں سورج اور رات کے حوالے سے کیفیت بیان ہو پائی ہے جس سے ان کے موضوعات کی در و بست میں بہت حد تک رنگینی پیدا ہوئی ہے۔ مذکورہ مضامین کو باندھنے میں انہیں دور فضاؤں میں ان دو سیاہ و سفید چیزوں کی موجودگی اور غیر موجودگی یوں محسوس ہوتی ہے جس سے وہ اظہاریہ پن لئے بیٹھے ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کے اس کٹھن سفر میں فرد کی حسی کشمکش میں جہاں کہیں بھی کوئی امید کی کرن زمانے کی دھند میں حائل کر دیتی ہے تو سورج ایک نور اپنی زندگی کی آنکھوں میں بھر دیتا ہے۔ اور یہ شاعری ایک قاری کے لئے ان حالات میں امید کا سہارا دیتی ہے جس سے ان کے یہاں ان الفاظ کی اپنی اہمیت و معنویت موجود و برقرار بھی رہتی ہے۔
اگر چہ اور بھی موضوعات کو شاعر برتنے میں بہت حد تک کامیاب نظر آتے ہیں مگر ان دو چیزوں کی انہیں کافی حد تک غور و فکر لا حق رہتی ہے جس میں ان کے عقل و شعور کی آنکھیں بیدار رہتی ہیں ۔ کبھی کبھی شعری کردار بھی گھنے اور کالی رات کے سایوں میں ہی مقید رہتے ہیں۔ جس میں یاس و حرماں کے بادل گھیرے میں لیے ہیں پر چاند کی تمنا کرنے سے پھر بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔

چاند اترا نہیں زمانے سے
خالی خالی میری ہتھیلی ہے

روشنی کی تلاش میں ہم نے
ایک جگنو کی جان لے لی ہے

ارشاد مظہری کی شاعری ذات کی آگہی ہے اور یہ خود آگہی انہوں نے اپنے اشعار میں یوں بیان کی ہے کہ جس سے ان کے اشعار میں تنوع پیدا ہو گیا ہے۔ اور یہ تنوع تحرک زدہ ہے اور منجمد نہیں ہے۔ اگر تخلیقی عمل میں تحرک خاموش بن کر رہے تو جمائیاں آنے لگتی ہیں جیسا کہ بولو نے بھی لکھا۔ہے ” منجمد۔اسلوب سے جمائیاں آنے لگتی ہیں ”
ارسطو سے ایلیٹ تک ص نمبر ۳۱۶سنہ اشاعت ۲۰۰۴؁ءارشاد مظہری نے زندگی میں نشیب و فراز جتنے بھی دیکھے ہیں ان تجربات و مشاہدات کو من و عن صفحۂ قرطاس پر بکھیرا بھی ہے۔ حالات کے تھپیڑے کھانے ہوئے انسان کے اس گرد سفر کے سوا جھولی میں اور ہے بھی کیا ۔لہذا شاعر ان تمام محسوسات کو اپنے شعری سانچے میں ڈھال کر زمانے کی اتھل پتھل کی بھی آگہی فراہم کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ وقت کی گھٹری سے ہی نکل کر کئی اجگر سامنے آجاتے ہیں جو ایک فرد کی تمناؤں کو بھوکے نگل جاتے ہیں۔

وقت کی گھٹری سے نکلے ہیں ہزاروں اجگر
جو مِرے گھر کے اجالوں کو نگل جاتے ہیں

یہاں شعری کردار زندگی اور زندگی سے منسلک کئی چیزوں کا پٹارہ بھی کھولتی ہے ۔ زندگی ایک اور اس کے رنگ انیک ہیں۔ شاعر ان رنگوں میں کیسے خود کا گذارہ کر لیتا ہے جس کے دائیں بائیں بھوکی تمنائیں ہیں اور اس پر زمانے کا تنگ قافیہ اور اب یہ زندگی اخبار کی مانند لگ رہی ہے۔

روز اک چہرہ دکھاتی ہے مجھے
زندگی اخبار جیسی ہو گئی ہے

پھر جب سختیاں زندگی کی کڑھی دھوپ ایک فرد کو اپناتی ہیں تو انسان اسی قالب کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے اس سچویشن کو کس طرح سے شاعر نے اپنی حس میں لا کر زبان دی ہے۔

میں دیکھتا ہوں اسے آدھ کھلی نگاہوں میں
ندی میں صبح کا سورج نہانے آتا ہے

اندھیری رات میں شاعر کوئی مرے گھر میں
چراغ اپنے لہو کا جلانے آتا ہے

ارشاد مظہری کی شاعری میں متنوع زاویوں سے زندگی اور اس کے رنگوں کی کہانی درج ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کا طرز اسلوب بہت ہی دور سے پہچانا جاتا ہے۔

جگنوؤں کی روشنی سے کس کا ہو سکتا بھلا
ہر طرف بس تیرگی تھی اور ہم خاموش تھے

یہاں زندگی اور زندگی سے منسلک اشیاء کو بہت ہی قرینے سے بیاں کر دیتے ہیں۔ اگر چہ ان کے کلام میں حیات و کائنات کے جملہ مسائل بھی درجہ بہ درجہ بیان ہوتے ہیں اور اس بیان میں ان کے یہاں جمالیاتی حس بیدار ہے اور جس کے چلتے شاعر نے ذات کے تئیں بھی ان ہی احساسات کو بھر پور احساس کی زباں پہلو بہ پہلو دی ہے۔

کل مری مسکان کے پیچھے ترا ہی نور تھا
آج ہے ارشاد آنکھوں میں نمی تیرے لئے

شاعر اپنی ذات میں ذات عرفاں دیکھنے کا خواہاں ہے اور اس کی مسکان کے پیچھے بھی اللہ تعالی کا ہی نور سمجھتا ہے ۔ اس طرح سے شاعر رات اور دن کے حوالے سے زندگی اور زندگی سے منسلک مسائل اور الجھنوں سے نکل کر ہی آپائے ہیں۔

دن نکلنے رات کے ڈھلنے کا نام
زندگی ہے آگ پر چلنے کا نام

اکیسویں صدی میں انسان اگر چہ مادی طور پر آسودہ حال ہے اور اس رفتار میں وہ بہت آگے نکل چکا ہے مگر یہ اس ترقی سے عاری و بیزار پن لئے ہوئے ہے جس میں اقدار کی پاسداری نہ ہو جس میں انسان بھیڑ میں رہ کر بھی تنہائی کا شکار ہے۔ جہاں بھائی بھائی کا عدو جاں بن گیا ہے۔

ڈھونڈتے ہو صحن میں ارشاد کیا
چاندنی تھی بادلوں میں کھو گئی

منتقل ہو کر عجب کمرہ ملا
کوئی کھڑکی کوئی پنکھا بھی نہیں

یہاں شاعر کا کمال ان کے اختصار میں پنہاں ہے کیونکہ بڑے سے بڑا مشاہدہ و تجربہ بھی اختصار کے ہی بطن سے پھوٹتا ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ شعر میں وضاحت اس کی عیب ہے۔ اس کا خیال کرتے ہوئے ارشاد مظہری فن کے اونچے پائیدان پر نظر آرہے ہیں جو ان کی کامیابی کا ضامن بھی ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے