وصی اللہ مدنی
ماہ رمضان کے خصوصی اور محبوب عمل میں سے ایک عمل قیامِ رمضان یعنی نمازِ ترویح ہے۔ جو بعد نمازِ عشاء جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ نماز مستحب ہے، نیز نماز تراویح، قیام اللیل میں شامل ہے، اس لیے قیام اللیل کی ترغیب اور فضائل میں جتنے بھی دلائل کتاب و سنت میں آئے ہیں۔ ان سب میں نماز تراویح کی فضیلت بھی شامل ہے۔
قیام رمضان کے ذریعے انسان اس مہینے میں قرب الہی حاصل کرتا ہے۔
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ماہ رمضان میں مومن کے لیے دو طرح کے جہاد بالنفس اکٹھے ہو جاتے ہیں: دن میں روزے کے ذریعے جہاد بالنفس اور رات کو قیام کے ذریعے جہاد بالنفس، تو جو شخص ان دونوں کو جمع کر لے تو اسے بے حساب اجر دیا جائے گا۔”
قیام رمضان با جماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور امام کے ساتھ ہی رہیں یہاں تک کہ نماز مکمل ہو جائے، کیوں کہ اس طرح نمازی کو پوری رات قیام کا ثواب ملے گا، اگرچہ اس نے رات کے تھوڑے سے حصے میں ہی قیام کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فضل بہت وسیع ہے۔
اس بارے میں امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"علمائے کرام کا نماز تراویح کے مستحب ہونے پر اتفاق ہے۔ تاہم اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا گھر میں اکیلے نماز تراویح پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں باجماعت ادا کرنا افضل ہے؟ امام شافعی ان کے جمہور شاگرد، ابو حنیفہ، امام احمد سمیت کچھ مالکی فقہائے کرام اور دیگر کا یہ موقف ہے کہ: نماز تراویح با جماعت افضل ہے، جیسے کہ عمر بن خطاب اور صحابۂ کرام نے اس پر عمل کیا اور مسلمانوں کا بھی اس پر عمل جاری ہے۔”
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ امام نماز پوری کر لے تو اس کے لیے ساری رات قیام کا ثواب ہے۔” ( سنن ترمذی: 806)
اس حدیث کو امام البانی نے صحیح ترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔
قیام رمضان باعث اجر و ثواب ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب تو دلاتے تھے تاہم انہیں سختی سے اس کا حکم نہیں دیتے تھے اور آپ ارشاد فرماتے: "جس شخص نے ایمان کے ساتھ اور اللہ کی رضا کو طلب کرتے ہوئے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔” (متفق علیہ)
"مَنْ قَامَ رَمَضَانَ” کا مطلب ہے کہ رمضان کی راتوں میں نماز پڑھتے ہوئے قیام کرے۔
"إِيمَانًا” یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس عمل پر کیے گئے ثواب کے وعدوں پر یقین رکھے۔
” وَاحْتِسَابًا” یعنی حصولِ اجر مقصود ہو ریاکاری یا کوئی اور مقصد نہ ہو۔
"غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ” اس کے بارے میں ابن المنذر نے ٹھوس الفاظ میں کہا ہے کہ اس عمل سے صغیرہ اور کبیرہ تمام گناہ معاف ہو جائیں گے جب کہ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "فقہائے کرام کے ہاں مشہور یہ ہے کہ اس میں صرف صغیرہ گناہ شامل ہیں کبیرہ گناہ شامل نہیں۔” جب کہ بعض نے یہ بھی کہا ہے: "ممکن ہے کہ اگر صغیرہ گناہ نہ ہوں تو پھر کبیرہ گناہوں میں تخفیف کا باعث بن جائے۔”
شرعی حدود و قیود کی رعایت کرتے ہوئے عورتوں کے لیے بھی نماز تراویح کی جماعت میں شامل ہونا مشروع ہے۔ اسی طرح عورتوں کے لیے مردوں کے علاوہ خاص امام بنانا جائز ہے جیسا کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مردوں کے لیے ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ اور عورتوں کے لیے سلیمان بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر کیا تھا-
قیام رمضان کی فضیلت کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ اور ان کے فیض یافتہ جان نثاران صحابہ اس نماز کا خوب اہتمام کرتے تھے، لیکن آج کا مسلمان لفظی طور پر حُب نبی کا دعویٰ دار ہے اور عملاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی ادائیگی میں کوتاہ ہے۔ نماز عشاء کے بعد اکثر مسلمان مسجد سے نکل جاتے ہیں کہ کہیں نماز تراویح میں شامل نہ ہونا پڑے، اس نماز کی ادائیگی ان پر گراں گزرتی ہے، چائے کی دکانوں کو آباد کرنا اور کرکٹ اور سیریل وغیرہ دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی ذات کو اجر عظیم سے محروم کرلیتے ہیں، وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم لوگ تنہائی میں اپنے نفس اور عمل کا محاسبہ کریں اور سنت کے مطابق گیارہ رکعت مع وتر نماز تراویح ادا کریں۔ بعض مساجد کے ائمہ و حفاظ کرام کی بے اعتدالی اور مقتدیوں کی عدم رعایت کے باعث نمازیوں کی تعداد میں کمی ہوتی ہے، مسجد کی انتظامیہ اور متعین ائمہ حضرات کو اصلاحی نقطۂ نظر سے اس پہلو پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے اور نماز نبوی کے طرز پر فریضۂ امامت سرانجام دینے کی اشد ضرورت ہے، ورنہ جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا رہا کے مصداق چند ایام میں مسجدیں نمازیوں سے خالی ہو جائیں گی۔
رحمت پروردگار رمضان المبارک کی راتوں میں سب کو اپنے دامنِ عفو وکرم میں آنے کی دعوت دیتی ہے، لیکن انسان رحمت طلبی اور مغفرت جوئی کی بجائے رات کی ان گراں بہا ساعتوں کو خواب غفلت یا ایک دوسرے کی غیبت چغل خوری کی نذر کردیتا ہے جب کہ رب کی رحمت اسے پکارتی ہے۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے کوئی رہ رو منزل ہی نہیں
اللہ ہم سب لوگوں کو نمازِ تراویح کا اہتمام کرنے والا بنائے اور نبی اکرم ﷺ کی سنتوں کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

